افسروں کی رہائش گاہ ایک کنال تک محدود‘ صرف ایک گاڑی کی اجازت‘ پراجیکٹ الاﺅنس ختم کئے جائیں
او ایس ڈیز اور پنجاب میں متعین گریڈ 22 کے افسران وفاق کو واپس کئے جائیں‘ منصوبے کی جزئیات
اسلام آباد( عثمان منظور) پنجاب کی بیورو کریسی نے ایک ناقابل یقین پیش رفت کی ہے اور اپنے اخراجات میں کمی اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات متعارف کراکے 80ارب روپے سالانہ بچت کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ منصوبے میں تجویزدی گئی ہے کہ پنجاب بیورو کریسی سے لگژری گاڑیاں واپس لی جائیں اور ہر افسر کے پاس محض ایک سرکاری گاڑی ہونی چاہئے اور بیور و کریسی کی رہائش جو ایکڑوں میں ہیں کو کم کر کے اس کا سائز زیادہ سے زیادہ ایک کنال رکھا جائے، سرکاری رہائش گاہوں کی فالتو اراضی کو وسائل میں اضافے کیلئے فروخت کیا جانا چاہئے ۔ پلان میں کہا گیا ہے کہ 20صفحات پر مشتمل اس منصوبے کے آدھے حصے پرتو ایک ماہ میں ہی عمل درآمد ہو سکتا جبکہ اس منصوبے جو پنجاب میں کامیاب ہو سکتا ہے پر مکمل عمل درآمد کے لئے 6ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ یہ جرا¿ت مندانہ اور قابل عمل منصوبہ رائے منظور ناصر کا آئیڈیا ہے رائے منظور ناصر ایک مڈ کیریئر بیورو کریٹ ہیں اور اس وقت ڈائریکٹر پراجیکٹ مینجمنٹ (قومی پروگرام برائے بہتری آبی گزر گاہیں لاہور) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور پی سی ایس /پی ایس ایس /پی ایم ایس افسران ایسوسی ایشن پنجاب کے منتخب صدر ہیں ، یہ ایسوسی ایشن گریڈ 17سے 21تک کے 1200افسروں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ منصوبے میں بتایا گیا ہے کہ افسران اوسطاً 3سے 8گاڑیاں استعمال کرتے ہیں بلکہ چند ایک افسروں نے تو تحریری طور پر شکایت کی ہے کہ محکمہ معدنیات کا ایک افسر 7سرکاری گاڑیاں استعمال کررہا ہے جبکہ وہ صرف ایک گاڑی کے استعمال کا مجاز ہے۔”افسروں کی سرکاری رہائش گاہیں ایکڑ ز میں ہیں، ہم اس کی پُر زور سفارش کرتے ہیں کہ ایک عہدیدار کی رہائش گاہ کا زیادہ سے زیادہ سائز ایک کنال ہونا چاہئے۔ فالتو اراضی کو فروخت ہونا چاہئے یا حکومت کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرے، صرف اس پر عمل کرنے سے ہی اربوں روپے حاصل ہو جائیں گے۔ افسران لاکھوں روپے سرکاری رہائش گاہوں کی مرمت پر خرچ کرتے رہتے ہیں اور 2010ءمیں ایک افسر نے لاہور میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کی مرمت پر 88لاکھ روپے خرچ کردیئے۔ پنجاب میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ اس چیز کو روکا جانا چاہئے اور ماضی میں جہاں غیر ضروری طور پر رقم خرچ کی گئی ہو اس کو واپس لیا جانا چاہئے۔“ منصوبے میں تجویز دی گئی کہ ”پراجیکٹ الاﺅنس کے نام پر یا کسی اور نام پر دیئے جانے والے تمام الاﺅنسز فوری طور پر ختم ہونے چاہئیں۔ تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہونے چاہئیں۔تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت میں مکمل ہونے چاہئیں، لاہور ۔سیالکوٹ۔ کھاریاں موٹر وے منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کی بناءپر پنجاب حکومت نے ترک کردیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی لاگت 23ارب سے بڑھ کر 46ارب ہوگئی اور یہ محض ایک مثال ہے، ریٹائرڈ افسروں یا عہدیداروں کی دوبارہ ملازمت / تعیناتی کا عمل فوری ختم کیا جائے، میڈیکل بلوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے اور وہ معقول ہونے چاہئیں، تمام سرکاری گاڑیوں کو پٹرول سے سی این جی پر منتقل کیا جائے کیونکہ اس طرح پنجاب حکومت کو یومیہ لاکھوں روپے کی بچت ہوگی ، سینئر افسروں کے غیر ملکی دورے کم کئے جائیں، تمام افسروں کی دہری شہریت پر پابندی ہونی چاہئے یا انہیں سرکاری ملازمت سے برطرف ہونا چاہئے، جونیئر افسروں کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کو ختم ہونا چاہئے کیونکہ ڈی ایم جی گروپ کے گریڈ 18کے ایک افسر کو گریڈ 21کی اسامی (سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن) پر لگایا گیا ہے۔ تمام او ایس ڈیز جو وفاقی حکومت سے تعلق رکھتے ان کو واپس کیا جائے، وفاقی حکومت کے گریڈ 22کے تمام افسران جو پنجاب میں متعین ہیں ان کو وفاق میں واپس بھجوایا جائے کیونکہ قانون کے مطابق چیف سیکرٹری کے سوا گریڈ22کے افسرکی پنجاب میں تعیناتی غیر قانونی ہے، حکومت کی طرف سے حاصل کی گئی کرائے کی عمارتوں کا ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیٹی سے دوبارہ تخمینہ لگوایا جائے، بہت سے کیسز میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں گی، اس حوالے سے خرچ کی گئی فالتو رقم تمام ذمہ دار افسروں سے واپس لیا جانا چاہئے، یوٹیلٹی الاﺅنس جو کہ 30ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے صرف صوبائی سیکرٹریوں کو دیا جاتا ہے، واپس لیا جانا چاہئے کیونکہ یہ امتیازی ہے اور حکومتی خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہا ہے۔“ پلان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا اقدامات سے پنجاب حکومت سالانہ 30ارب روپے بچا سکتی ہے، پلان میں پٹواری مافیا کی کرپشن کے خاتمے کے لئے ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں بھی اصلاحات متعارف کرانے کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی