آرٹیکل 63-A کے تحت علیحدہ سیاسی مخالفین کا گروپ پارلیمانی پارٹی نہیں کہلا سکتا، اکثریت فیصلہ کرلے تووہ اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے
ایس ایم ظفر، جسٹس وجیہہ الدین، ظفر علی شاہ، اکرم شیخ، اعتزاز احسن، جسٹس طارق محمود،وسیم سجاد، اشتر اوصاف، زاہد حامد اور اقبال حیدر کا اظہار خیال
تحریر : مائد علی
لاہور : پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد ایک قانونی جنگ چھیڑنے کا سبب بن سکتی ہے جس میں منحرفین کی صورتحال کو آئین کے آرٹیکل63A کے تحت لایا جا سکتا ہے۔ اب یہ آئینی ماہرین کا کام ہے کہ وہ اس آرٹیکل کی تعبیر و تشریح اپنے اپنے سیاسی ترجیحات کے مطابق کیسے کرتے ہیں....
آئین کے آرٹیکل63A(1) کے مطابق :
”اگر پارلیمانی پارٹی کا کوئی رکن جو ایوان میں واحد سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہو (الف) اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے استعفیٰ دے دے یا (ب) ووٹ دے یا پھر ایوان میں ووٹنگ سے گریز کرے، کسی بھی ایسی ہدایات کے برعکس جو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے دی گئی ہوں، جس سے اس کا تعلق ہے اور اس کا مقصد (i) وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا انتخاب ہو یا (ii) تحریک اعتماد یا تحریک عدم اعتماد سے ہو یا (iii) منی بل سے ہو تو ایسی صورت میں وہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے تحریری طور پر اس اعلان کا مستوجب ہوگا کہ اس نے اپنی سیاسی پارٹی سے انحراف کیا ہے اور پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اس اعلان کی نقل پریذائیڈنگ آفیسر کو ارسال کر سکتا ہے اور ایک نقل اس رکن کو بھی فراہم کی جائے گی۔
”بشرطیکہ اعلان کرنے سے قبل پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اس رکن کو موقع فراہم کرے کہ وہ اسباب اور وجوہ بیان کرے کہ ایسا کوئی بھی اعلان یا بیان اس کے خلاف کیوں نہ جاری کیا جائے۔“
آئین کے آرٹیکل 63A(2) میں وضاحت موجود ہے کہ :
” ایوان کا کوئی رکن کسی بھی پارلیمانی پارٹی کا رکن صرف اس وقت تک تصور کیا جائے گا جب وہ ایک امیدوار کی حیثیت سے منتخب کیا گیا ہو یا کسی ایسی سیاسی جماعت کی جانب سے نامزد کردہ ہو جو ایوان میں پارلیمانی پارٹی کی تشکیل میں شامل ہو یا کسی اور طریقے سے منتخب ہوا ہو تحریری طور سے بیان دے کر انتخابات کے بعد پارلیمانی پارٹی کا رکن بنا ہو ....“
اسی طرح آئین کے آرٹیکل63A(3) میں طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے :
”اس اعلان یا بیان کی وصولی کے بعد آئین کی دفعہ(1) کے تحت ایوان کا پریذائیڈنگ آفیسر دو دنوں کے اندر اس بیان کو الیکشن کمشنر کے روبرو پیش کر سکتا ہے تاکہ وہ اس کے بارے میں وصولی کے تیس دنوں کے اندر اپنا فیصلہ دے سکے اور اس بیان کی تصدیق کر دے ۔
آرٹیکل 63-A(4) کے تحت :
”جہاں الیکشن کمشنر اس بیان کو جاری رکھے (تصدیق نہ کرے) تو جس رکن کا حوالہ دفعہ(1) کے حوالے سے دیا گیا ہے وہ ایوان کا رکن نہیں رہ سکے گا اور اس کی نشست خالی تصور کی جائے گی“۔ بقیہ اس آرٹیکل کے تینوں کلاز میں وہ طریقہ کار دیا گیا ہے جس کی رو سے ایسے بیانات اور اعلانات کو چیلنج کیا جا سکتا ہے اور اس میں استعمال کی جانے والی اصطلاحات کے مفہوم کی تعریف بیان کی جا سکتی ہے۔
اس قانون کو 1997ءمیں میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے نافذ کیا تھا جو آئین کی چودھویں ترمیم کا ایک حصہ تھا۔ اس کا مقصد منحرفین پر پابندی عائد کرنا اور ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کرنا تھا .... بہرحال اس آرٹیکل کو کچھ عرصے کے لئے مشرف حکومت کے دوران معطل کر دیا گیا تھا (2002ءکے عام انتخابات کے بعد) تاکہ اراکین کو پارٹی بدلنے اور ہارس ٹریڈنگ کی پوری آزادی حاصل ہو سکے۔ بعدازاں اس قانون کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔ تاہم اس قانون کی کھلم کھلا اور اعلانیہ خلاف ورزی پنجاب میں دیکھنے میں آئی جہاں سابق اسپیکر افضال ساہی نے اس قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب کی سابق حکومت نے متعدد وجوہ بیان کرتے ہوئے اپوزیشن کی درخواستوں پر عملدرآمد نہ کرنے کا جواز مہیا کر دیا اور قانون کے اندر سے دلائل تلاش بھی کر لئے۔ ان میں سب سے زیادہ موثر سبب یہ بیان کیا گیا تھا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی اصل تعریف اور حیثیت کیا ہے؟؟؟ افضال ساہی، رانا ثناءاللہ کو پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی سربراہ کے طور پر قبول نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سال دو سال تک مصروف رکھا اور کبھی انصاف کا مظاہرہ نہیں کیا حالانکہ دو رسمی بیانات / اعلانات صبا صادق اور ملک احد کے معاملے میں انہیں پیش کئے گئے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حکومت کو لعن طعن کا نشانہ بناتی رہی خاص طور سے اسمبلی کے اسپیکر افضال ساہی کو کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی کا مظاہرہ کیا ہے آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اکیاسی اراکین میں سے اکتالیس اراکین منحرف ہو چکے ہیں جس نے خود یہ قانون وضع کیا تھا چنانچہ پنجاب میں میاں شہباز شریف کی حکومت کو ایوان کے اندر سے کسی تبدیلی کا سامنا ہو سکتا ہے آج حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں۔ اسلام آباد میں کوئی مطلق العنان حکمراں بیٹھا ہوا نہیں جب کہ ایک آزاد عدلیہ پہلے ہی موجود ہے۔ چنانچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانونی مشیر ایسی صورتحال پیدا ہونے کے نتیجے میں معاملات کو عدالت میں لے جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اگر بالفرض پنجاب میں ایسی کوئی بھی صورتحال پیدا ہوئی اور میاں شہباز شریف کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو مسلم لیگ (ن) کے قانونی ماہرین کم سے کم نقصان کے عوض بہترین نتائج کے حصول کی بابت سوچ رہے ہیں ۔
یہ سوچا جا رہا ہے کہ حکمراں جماعت کو کم سے کم ایک وقت میں منحرفین کی وفاداریوں کو استعمال کرنا چاہئے تاکہ ایوان میں تحریک عدم اعتماد کو شکست دی جا سکے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) منحرفین کی تعداد کو ظاہر کر کے پہلی تحریک عدم اعتماد کو شکست دے سکتی ہے۔ اپنے اکتالیس رضاکاروں کے ہوتے ہوئے اور اس حقیقت پر انحصار کرتے ہوئے کہ یہ لوگ اس وقت تک پارٹی کے وفادار رہیں گے تاوقتیکہ وہ نقطہ نہ آ جائے جب تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی کی تائید و حمایت کی دستبرداری کے بعد پیش کی جائے .... .... ....
قانونی ماہرین اور مشیروں کی رائے
سینیٹر ایس ایم ظفر
کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ایسی صورتحال میں کچھ کہنے کا حق حاصل ہے اور اس سیاسی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کو اس سیاسی جماعت کی ہدایات پر عملدرآمد کرنا ہوگا جس کے ٹکٹ پر رکن نے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہدایات پر عملدرآمد ضروری ہے کیونکہ جب پارلیمانی پارٹی تشکیل دی گئی تھی تو اس جماعت کو اسپیکر نے رجسٹر کیا تھا۔ کوئی علیحدہ سیاسی مخالفین کا گروپ پارلیمانی پارٹی نہیں کہلا سکتا۔ایس ایم ظفر مزید کہتے ہیں کہ اگر پنجاب کے وزیراعلیٰ کےخلاف کوئی تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عملدرآمد ضروری ہو گا۔
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد
سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ اگر کسی پارلیمانی پارٹی کی اکثریت یہ فیصلہ کر لے کہ وہ اپنی آزادانہ شناخت اور حیثیت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اس قانون کا اس پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا۔ یہ پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے کا معاملہ ہے۔ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اکتالیس منحرف ارکان جو ایک اکثریت ہے، یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ بقیہ تمام ارکان سے اپنے آپ کو الگ کر لیں گے تاکہ ایک انفرادی اور آزادانہ شناخت بنا سکیں اور اپنا پارلیمانی لیڈر بھی خود ہی منتخب کر سکیں تو آئین کے آرٹیکل63A کے تحت ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہاکہ آئین کے اس آرٹیکل کا مقصد یہ تھا کہ ایوان میں پارٹی لائن کی افراد یا اقلیت کی جانب سے ہونے والی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے پاکستان سے بنگلہ دیش کی آزادی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ مشرقی پاکستان کی اسمبلی اپنے ملک کا نام بنگلہ دیش رکھنا چاہتی تھی۔ یہ لوگ اکثریت میں تھے اور آزادی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے اسے بہرصورت حاصل کرلیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر ملک تقسیم ہو سکتے ہیں اور علیحدہ ہونے والا حصہ اپنا کوئی اور نام رکھنا چاہے (اکثریت کی بنیاد پر) تو ایسا ہونا ممکن ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے اکیاسی ارکان میں سے انتالیس ارکان ایوان میں پارٹی لائن کی مخالفت کر دیں تو آئین کا آرٹیکل 63A فوری طور سے قابل عمل ہو جائےگا۔
سید ظفر علی شاہ
سید ظفر علی شاہ کے نظریات بھی کچھ مختلف نہیں ہیں۔ وہ ایک آئینی ماہر ہیں، ان کے خیال میں اس قانون کا اطلاق ایوان میں موجود کسی بھی پارلیمانی پارٹی کے کسی بھی واحد رکن پر ہو سکتا ہے تاہم کسی سیاسی گروپ کی شکل میں ایوان میں پارٹی لائن سے انحراف کرنے کی صورت میں یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو گا کہ اس پر آئین کے آرٹیکل 63-A کا اطلاق ہو سکتا ہے یا نہیں .... اگر اکتالیس ارکان اپنی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کو منتخب کر لیں اور میاں شہباز شریف کے خلاف کسی تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کریں تو قانون کی روشنی میں ایک نیا قانونی مباحثہ شروع ہو جائےگا۔
اکرم شیخ
آئینی وکیل اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63A کا بڑے پیمانے پر منحرفین کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آئین کا یہ آرٹیکل دراصل بھارت کے آئین سے لیا گیا ہے جہاں پارلیمنٹ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ انحراف کے قانون کا اطلاق کسی گروپ پر نہیں ہوتا جس نے نہ صرف اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کر رکھا ہو اور جسے پارٹی کی ایک تہائی اکثریت حاصل ہو۔ اکرم شیخ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب آپ اجتماعی طور پر کسی جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور چونکہ انحراف کرنے والے آرٹیکل کا مقصد افراد کو سزا دینا ہے لہٰذا اس کا اطلاق کسی گروپ پر نہیں ہوتا۔ اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ انحراف کرنے کے اس قانون کا پنجاب میں میاں شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قطعاً کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا ۔
اشتر اوصاف
ممتاز وکیل اور پنجاب کے سابق ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف نے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بنیادی حقائق پر سوال اٹھایا کہ کیا ایسا کون ہوگا جس نے پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کا آرٹیکل 63اے پڑھ رکھا ہو وہ اسپیکر سے اختلاف کرتے ہوئے ایسی ایک شکایت درج کرواسکے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسپیکر کے دفتر کا کام ہوتا ہے کہ وہ کسی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی حیثیت کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا میں پوری سہولت سے کہہ سکتا ہوں کہ ا گر اسے ایوان کے کسی رکن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کے تحت کوئی درخواست موصول ہوتی ہے تو یہ اسپیکر کا کام ہے کہ وہ پا رلیمانی پارٹی کے لیڈر کو شناخت کرے کسی سیاسی جماعت کا سربراہ شق سے انحر اف کرتے ہوئے ایسا کوئی اعلان کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ایسا کرتا ہے اور اگر پارلیمانی پارٹی کا سربراہ اسپیکر کے پاس ایسی کوئی شکایت درج نہیں کراتا تو اس صورت میں آرٹیکل 63 اے لاگو نہیں ہوتا۔ اشتراوصاف کا کہنا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کو پارلیمنٹ کے اندر معاملات چلانے کے تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور سیاسی جماعت کے پاس ایسا کرنے کی قوت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں وہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کے سربر اہ کی حیثیت کا فیصلہ اسپیکر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چوہد ری ظہیر پی ایم ایل کی پارلیمانی پارٹی کے سربر اہ نہیں ہیں وہ حزب اختلاف کے سربراہ ہیں۔ چوہدری ظہیرکو کسی نے پنجاب میں پی ایم ایل کے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے نامزد نہیں کیا اور اس صورت میں اگر ڈاکٹر طاہر علی جاوید کو 41 ارکان کی حمایت حاصل ہے تو وہ نمبروں کی بنیاد پر پی ایم ایل کی پارلیمانی پارٹی کے سربرا ہ تسلیم کئے جائیں گے ناکہ چوہدری ظہیر، اشتر اوصاف نے و ضاحت کی۔جب کہا گیا کہ واقعتاً قانون کا نشانہ انحراف پر روک لگانا ہے اس حقیقت کے ہوتے ہوئے بھی یہاں اکثریت یا اقلیت کا مسئلہ نہیں ہے انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہاں، جب قانون بنایا گیا تھا تو یہ اس کی روح تھی آپ دیکھئے کہ ہر قانون میں چند کمزوریاں ہوا کرتی ہیں ان چھوٹی رکاو ٹوں کو وقت کے ساتھ دور کرنا پڑتا ہے جب بھی ایسے رخنوں سے ایک بحث کا آغاز ہوتا ہے میری را ئے میں اگر طا ہر علی جا وید گروپ کو پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے وہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو یہ ڈیفیکٹنگ نہیں ہوگی یہی ہے جو قانون کے الفاظ ہیں۔
زاہد حامد
ایک اور نمایاں آئینی وکیل جو آئینی کمیٹی کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ جس نے 18ویں ترمیم کاڈرافٹ تیار کیا تھا زاہدحامد کاخیال ہے کہ آرٹیکل 16اے میں ترمیم اس میں سے ابہام کاخاتمہ کرنے کے لئے کی گئی تھی۔ زاہد حامد نے کہا ۔” میں ذاتی طور پر سمجھتاہوں کہ وہ پارلیمانی پارٹی کا لیڈر ہوتاہے جسے تحریری طورپر یہ ڈیکلیئر کرنا ہوتا ہے کہ ایک آدمی ڈیفیکٹڈ ہے سوال یہ ہو گا کہ پارلیمانی پارٹی کا لیڈر کون ہے؟ اگرطاہر علی جاوید نے ایک گروپ قائم کر لیا ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پی ایم ایل کے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ہیں تواس پر عدالت کوفیصلہ کرنا ہوگا قانونی حلقوں میں ہم اسے ایک ایسا مقدمہ کہتے ہیں جس پر ابھی فیصلہ کیا جانا ہے۔“ انہوں نے مزید کہاکہ اس سے پہلے کا قانون پر عزم تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ترمیم کی گئی۔ اخلاقاً یہ درست ہے کہ قانون کو غلط استعمال کیاگیا اوراس میں ترمیم کی جانی چاہئے تاہم انہوں نے مزید کہاکہ یہ پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کی وضاحت کرنے کا معاملہ ہے جب پوچھا گیا کہ قانون”سیاسی جماعت“ کی اہمیت پر بھی زوردیتاہے توزاہد نے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب دلیلیں بے معنی ہیں اوراس پر فیصلہ عدالت ہی کو کرنا ہے۔ زاہد حامد نے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے کہا۔” دوسرا فریق بھی یقیناً عدالت میں یہ پوائنٹس لے کر جائے گا جو یقیناً زیربحث لائے جاسکتے ہیں لیکن پھر اس کے برخلاف ایک دلیل ہے کہ ایسا ایک ڈیکلریشن پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے آنا چاہئے اور اگر پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے آنا چاہئے اوراگر پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کو اکثریت حاصل ہے پھر یہ وہ سربراہ ہوگا جو اس کا تعین کرے کہ ڈیفیکشن کا مقدمہ ہے یا نہیں ہے۔
اعتزاز احسن
معروف اور ممتاز قانون داں اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اس قانون میں ایک کنفیوژن موجود ہے جسے صحیح کرنے کی ضرورت ہے بالخصوص اس وقت جب ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جہاں قانون کو حرکت میں آنا پڑتا ہو .... اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 63A کے بارے میں تنازع کو آخر کسی نہ کسی عدالت کو حل کرنا پڑے گا کیونکہ جن بنیادوں پر یہ اقدام کیا جانا ضروری ہے وہ بہت صاف اور واضح ہیں تاہم یہ اقدام کون کر سکتا ہے اس بارے میں ابہام موجود ہے۔
بہرکیف بعض اعلیٰ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں یکسر کوئی ابہام موجود نہیں ہے اور اس قانون کی روح پارٹی لائن سے انحراف کے خلاف انتہائی سخت اقدام کا مطالبہ کرتی ہے خواہ منحرفین کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو ۔
جسٹس (ر)طارق محمود
بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج طارق محمود کا خیال ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی میں موجودہ وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو منحرفین کے لئے یہ ہرگز آسان نہیں ہوگا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے فیصلے کے خلاف جا سکیں .... ان کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی منحرفین پارٹی لائن کی خلاف ورزی کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان کا یہ عمل ایک بہت بڑے مسئلے کو پیدا کرنے کا سبب بن جائے گا .... اس سیاسی جماعت کو جس سے ان سیاسی مخالفین اور منحرفین کا تعلق ہے، یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی عدالت میں اس معاملے کو چیلنج کر سکے۔
وسیم سجاد
ممتاز قانون دان اور سینیٹ کے سابق چیئرمین وسیم سجاد کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اخلاقیات کا بڑا اہم کردار ہے ۔ ان کے خیال میں یہ پورا خطہ اس مسئلے سے دوچار ہے جسے بڑی بیدردی سے غلط طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کنفیوژن کو ختم کرنا ہی مقصود تھا اس لئے اٹھاریوں ترمیم کو منظور کیا گیا ہے۔ میری رائے میں آئین کی موجودہ دفعات اتنی واضح ہیں کہ کسی بھی تحریک عدم اعتماد کی صورت میں پارٹی لائن کے منحرفین کو پہچاننا نہایت آسان ہے۔ اسپیکر قانون سے کھیلنے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے تاہم قانونی تقاضے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر کوئی فرد یا پارٹی لائن کی مخالفت میں ووٹ دیتا ہے تو اسے قانون کے مطابق مقدمے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ بہرکیف انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ قانون میں کچھ ابہام موجود ہے جس کی وجہ سے اس قانون کو اپنے مفاد میں استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔
اقبال حیدر
پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر اور سینئر آئینی ماہر اقبال حیدر کا خیال ہے کہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ کے منحرفین وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے قبل اکثریتی حیثیت میں دھڑا بنا لیتے ہیں تو ان پر آئین کے آرٹیکل 63-A کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اسی طرح کسی بھی سیاسی جماعت کی پارلیمانی پارٹی کو اسمبلی میں اپنا لیڈر منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی