پنجاب میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی 488 پبلک پراسیکیوٹرز جنرل فارغ، ضلعی سطح پر پراسیکیوشن کمپنیاں بنانے کا فیصلہ
حکومت پنجاب نے گزشتہ دور میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئے گئے 3 اسسٹنٹ پراسیکیوٹر زجنرل ‘ 18ڈپٹی پراسیکیوٹرز جنرل ‘83ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر زاور 383اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ سمیت484 پبلک پراسیکیوٹرز کو فارغ کر کے آئندہ ان عہدوں کے لئے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں کرنے اور ضلع کی سطح پر پراسیکیوشن کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلسے میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔ یہبات صوبائی وزیر قانو ن رانا ثنا اللہ خان نے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کمیٹی روم میں پُر ہجوم پریس کانفرنس میں بتائی۔ اس موقع پر انکے ہمراہ وزارت قانون کے افسران بھی موجود تھے۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ حکومت نے انصاف کی فوری فراہمی کے لئے نہ صرف ایڈیشل سیشن ججوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ عدالتوں میں اصلاحات کے لئے میں نے خود چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ سید زاہد حسین بخاری سے ملاقات کی ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ صوبے میں امن و امان کیساتھ انصاف کی فراہمی کو بھی یقینی بنانے کے لئے پراسیکیوشن کے ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات لائی جائیں اور گزشتہ دور حکومت میں پراسیکیوشن کے ڈیپارٹمنٹ کا قیام تو عمل میں آیا لیکن اس میں 2ہزار کنفرم اور 900کنٹریکٹ پر جو لوگ بھرتی کیے گئے یہ تمام سیاسی بنیادوں پر تھے اور ان میں اکثریت ایسی تھی جو ان عہدوں کے لئے اہل نہیں تھے او ر اس ڈیپارٹمنٹ کیلئے 2006-07ء میں تقریباً 46کروڑ اور 2007-08ء کے لئے 55کروڑروپے کا بجٹ رکھا گیا لیکن اس میں سے بڑے عہدوں پرفائز افسران کی تنخواہوں کی مد میں لاکھوں روپے خرچ کئے گئے اور انکی کارکردگی تقریباً صفر رہی جس کی وجہ سے اسکے خلاف لاہو رہائیکورٹ میں ایک رٹ بھی دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے ایک کمیٹی بنائی تھی اور اس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اب 488افراد کو فارغ کیا جارہا ہے جن میں 3 اسسٹنٹ پراسیکیوٹر زجنرل ‘ 18ڈپٹی پراسیکیوٹرز جنرل‘ 83 ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرز اور 383 اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز بھی شامل ہیں اور اب موجودہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ضلع کی سطح پر پراسیکیوشن برانچ کی کمیٹیاں بنائی جائینگی اوروہاں پر تعینات ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر پبلک کی یہ ذمہ داری ہو گی کہ وہ غریب لوگوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے انکی بھرپو رمدد کرے ۔