ناقص کارکردگی پر سائیڈ لائن کئے افسروں میں ن لیگ کے اراکین اسمبلی کے قریبی رشتہ دار بھی شامل
3خواتین افسروں کو بھی اعزاز ملے، کوئی بھی وزیراعلیٰ کے قریب کام نہیں کررہا
اسلام آباد (طارق بٹ) وزیراعلیٰ شہبازشریف نے سزا و جزا کے فلسفہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر گریڈ 17سے 20 کے 52افسروں کو اعزازات سے نوازا جبکہ نااہلی ناقص کارکردگی اور کرپشن کی بنا پر 76افسروں کو کھڈے لائن کر دیا ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے ممبر صوبائی اسمبلی کے بھائی ممبر اسمبلی کے بھتیجے اور دیگر اراکین اسمبلی کے قریبی رشتہ داروں جو حکومتی ملازم بھی ہیں کو غیراہم قرار دیدیا گیا ہے۔ ن لیگ کے اراکین صوبائی اسمبلی کے ناراض ہونے کے ڈر کے باوجود وزیراعلیٰ نے ان کے رشتہ دار افسروں کے نام نااہلی کی لسٹ سے نہیں نکالے۔ یوم آزادی کے موقع پر ایک تقریب میں قابل افسروں کو تعریفی اسناد اور 50ہزار روپے انعام دیا گیا۔ اعزازات سے نوازے گئے افسروں میں کوئی بھی وزیراعلیٰ کے قریب کام نہیں کر رہا ہے جبکہ وفاقی سطح پر جن کو قومی اعزازات سے نوازا گیا ہے ان کے صدر زرداری سے قریبی تعلقات ہیں تاہم بعض ذرائع پنجاب میں افسروں کی اس سلیکشن کو وفاقی حکومت کی طرف سے پیپلزپارٹی کے وفاداروں کو لوٹ سیل کی طرح قومی اعزازات سے نوازنے کا جواب قرار دے رہے ہیں۔ 3خواتین افسر مسرت جبیں کرن خورشید جو قصور اور شیخوپورہ میں بطور ایڈیشنل کولیکٹرز خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور آرکیٹکٹ شگفتہ سلامت بھی اعزاز پانے والوں میں شامل ہیں۔ انتقال پا جانے والے گریڈ 20کے چیف انجینئر مرحوم ابرار سلطان کو بعد ازمرگ قابل ستائش خدمات کے عوض میں نوازا گیا۔ اعزاز پانے والے افسران کا تعلق محکمہ پولیس خزانہ سی این ڈبلیو ڈی آبپاشی ایم یو ڈی اینڈ بی ایچ ای ڈی لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ صنعت کامرس اور سرمایہ کاری سے ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی