صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خودسمری لےکر گورنر ہاﺅس گئے، ن لیگ کی نئی کابینہ کےلئے مشاورت شروع، یونی فکیشن بلاک کو 3 وزارتیں دی جائیں گی، ذرائع، وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اجلاس
یونی فکیشن بلاک کو پنجاب حکومت میں شامل کئے جانے پر ن لیگ کے سینئر رہنماﺅں میں شدید اختلافات، گورنر کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر پنجاب کابینہ تحلیل کئے جانے کا امکان
لاہور (آئی این پی، آن لائن، این این آئی) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے پیپلزپارٹی کے 13 پارلیمانی سیکرٹری فارغ کردیئے۔ اس سلسلے میں ہفتہ کے روز نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ دریں اثناءوزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کے وزراءکو کابینہ سے نکالنے کے لئے سمری گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کو بھجوادی۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خود سمری لے کر گورنر ہاو¿س گئے۔ آئین کے مطابق گورنر 14 دن کے اندر سمری منظور کرنے کے پابند ہیں تاہم سمری منظور نہ کرنے کی صورت میں قانونی طور پر وہ سمری منظور سمجھی جاتی ہے۔ مسلم لیگ ن نے نئی کابینہ کی تشکیل کے لئے مشاورت شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ یونیفکیشن بلاک کو نئی تشکیل دی جانے والی کابینہ میں 3 وزارتیں دی جائیں گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ گورنر کی جانب سے 24 گھنٹوں کے اندر پنجاب کابینہ تحلیل کئے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے یونیفکیشن بلاک کو پنجاب حکومت میں شامل کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماﺅں میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ رہنماﺅں نے پارٹی قائدین پر زور دیا ہے کہ وہ نئی کابینہ میں یونیفکیشن بلاک کو وزارتیں نہ دیں۔ فارغ کئے گئے پارلیمانی سیکرٹری میں راجہ طارق کیانی پی پی 3 راولپنڈی، نرگس فیض ملک اسلام آباد، محترمہ صغیرہ اسلام شیخوپورہ، عظمیٰ زاہد بخاری شیخوپورہ، فائزہ احمد ملک لاہور، سردار کامل گجر سرگودھا، ڈاکٹر محمد اختر ملک ملتان، نشاط احمد خان ڈاھا خانیوال، شہزاد احمد چیمہ ساہیوال، ملک نوشیر خان لنگڑیال وہاڑی، شوکت محمود بسرا بہاولنگر، میاں محمد اسلم رحیم یار خان، جاوید اکبر ڈھلوں رحیم یار خان شامل ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی