|
پورٹ قاسم اتھارٹی کو 1550 ایکڑ اراضی دینے کی منظوری دیدی گئی

25-10-07, 08:47 PM
سندھ کابینہ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کو 1550 ایکڑ اراضی دس لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے دینے کی منظوری دے دی ہے ، یہ اراضی ٹیکسٹائل سٹی اور گارمنٹ سٹی کے قیام کیلئے استعمال ہوگی۔ کابینہ نے ایم اے جناح روڈ کراچی پر واقع اسپورٹس کمپلکس کی پونے آٹھ ایکڑ اراضی بھی صوبائی محکمہ کھیل کو دینے کی منظوری بھی دی ہے ۔ صوبائی محکمہ کھیل ایک نجی کمپنی کے ساتھ مل کر یہاں اسپورٹس کمپلکس تعمیر کرے گا ۔ اس میں سے 60 فیصد اراضی اسپورٹس کمپلکس کیلئے اور 40 فیصد اراضی تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کی جائے گی ۔ سندھ کابینہ نے ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگانے کیلئے مزید 100ایکڑ اراضی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سندھ کابینہ نے سندھ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( ایس آر ٹی سی ) کی اراضی اور پلاٹس متعلقہ ضلعی حکومتوں کو قیمتاً دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سندھ کابینہ کا اجلاس بدھ کو وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی صدارت میں نیو سندھ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سانحہ 18 اکتوبر میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی۔ اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے ذرائع ابلاغ کو کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دی ، اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات سید حامد عابدی اور سیکرٹری محکمہ اطلاعات فصیح الدین بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کراچی میں ٹیکسٹائل سٹی اور گارمنٹ سٹی کے قیام کیلئے پورٹ قاسم اتھارٹی کو بالترتیب 1250 اور 300 ایکڑ اراضی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پورٹ قاسم اتھارٹی نے پہلے سندھ حکومت کو کچھ اراضی دس لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے دی تھی پھر اسی ریٹ پر اتھارٹی کو 1550 ایکڑ اراضی صنعتی مقاصد کیلئے دی گئی ہے ۔ یہ اراضی پورٹ قاسم اتھارٹی صنعتکاروں کو الاٹ کرے گی ، تاہم یہ زمین جس مقصد کیلئے دی جائے گی، صرف اسی مقصد کیلئے استعمال ہوگی، اگر دوسرے مقصد کیلئے زمین استعمال کی گئی تو واپس لے لی جائے گی ، کابینہ کے اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں صنعتکاری کو فروغ حاصل ہو ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع اسپورٹس کمپلکس کی پونے آٹھ ایکڑ اراضی پر ایک پرائیویٹ کمپنی اسپورٹس کمپلکس تعمیر کرنا چاہتی ہے ۔ سندھ کابینہ نے یہ اراضی صوبائی محکمہ کھیل کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اور محکمہ کھیل کو اراضی 99 سالہ لیز پر دی گئی ہے ، وہ اسے 30 سالہ لیز پر پرائیویٹ کمپنی کو دے گا اور اس سے شرائط و ضوابط طے کرے گا ، اس ضمن میں ایک شفاف طریقہ اختیار کیا جائے گا ، اراضی کا 60 فیصد کھیلوں کیلئے اور 40 فیصد تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا ، یہ زمین ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں اسپورٹس کمپلکس کیلئے مختص کی گئی تھی۔ اس پر کچھ کام بھی ہوا تھا، اُس دور میں 80 لاکھ روپے خورد برد ہوئے تھے اور کام مکمل نہیں ہو سکا تھا ۔ بعدازاں وفاقی حکومت نے یہ اراضی اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے یہ اراضی سندھ حکومت کو واپس کر دی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کالعدم ایس آر ٹی سی کی ساری جائیدادیں اور بس ڈپوؤں کی زمینیں متعلقہ ضلعی حکومتوں کو دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ضلعی حکومتیں سندھ حکومت کو اس کی قیمت ادا کریں گی ، قیمت کے تعین کیلئے سندھ کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو سیکرٹری محکمہ خزانہ، سیکرٹری محکمہ ٹرانسپورٹ، سیکرٹری قانون اور سیکرٹری محکمہ بلدیات پر مشتمل ہوگی۔ سندھ حکومت کو جو رقم حاصل ہوگی وہ ورلڈ بینک کا قرضہ اتارنے کیلئے استعمال کی جائے گی کیونکہ یہ قرضہ ایس آر ٹی سی کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک اور دیگر واجبات کی ادائیگی کیلئے حاصل کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومتوں کو یہ زمینیں اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ انہیں سنبھال سکیں کیونکہ ان پر قبضے ہو رہے تھے، وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایک نجی کمپنی کراچی میں ڈی سیلی نیشن پلانٹ لگانا چاہتی ہے
بشکریہ
جنگ۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|