واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پولیس، پولیٹیکل پارٹیز اور پارلیمنٹ کرپشن میں سرفہرست

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-12-10, 05:40 AM   #1
پولیس، پولیٹیکل پارٹیز اور پارلیمنٹ کرپشن میں سرفہرست
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 09-12-10, 05:40 AM

عدلیہ نے بدعنوانی کو کم کرنے میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ
اسلام آباد (انصار عباسی) پاکستان کے اداروں میں پولیس، سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ پہلے تین سب سے زیادہ بدعنوان اداروں کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں جب کہ عدلیہ نے بدعنوانی کو کم کرنے میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ انکشافات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2010ءکی گلوبل کرپشن بیرومیٹر رپورٹ میں کئے گئے ہیں جو جمعرات کو برلن سے جاری کی جائے گی۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے77 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ گزشتہ تین سال کے دوران ملک میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ73 فیصد کی غالب اکثریت کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کو کچلنے میں انتہائی غیرموثر ثابت ہوئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے گیلپ انٹرنیشنل کے سروے کی بنیاد پر مرتب کردہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس، سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ، این جی اوز، پرائیوٹ سیکٹر کے تحت چلنے والے کاروبار اور یہاں تک کہ میڈیا بھی2009ءکے مقابلے میں2010ءمیں زیادہ بدعنوان ہوگئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عدلیہ جسے انتہائی بدعنوان7 اداروں میں گزشتہ سال کے تخمینے میں دوسرا نمبر حاصل تھا وہ اب چھٹے نمبر پر آ چکی ہے۔ مزید براں وہ اپنے معلوم کئے گئے کرپشن کے تخمینہ کے اسکور میں بھی بہتری کے لئے کوشاں ہے۔ وہ پیشے اور ادارے جن کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا ان میں مذہبی باڈیز، فوج، تعلیمی نظام اور میڈیا بالترتیب سب سے کم بدعنوان ہیں۔ بدعنوانی کے خاتمے کے سلسلے میں حکومت کے اقدامات کے متعلق پاکستان کے73 فیصد سوچتے ہیں کہ ایسے اقدامات نہایت ناکافی اور غیرموثر ہیں۔ 2007ءمیں اس وقت کے آمر پرویز مشرف کی حکومت بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں مقابلتاً بہتر تھی جب کہ52 فیصد افراد اس مصیبت کے خاتمے کے لئے اس حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو غیرموثر تصور کرتی ہے۔ 2009ءکے برخلاف2010ءمیں10 اداروں یا پیشوں کے متعلق تخمینہ لگایا گیا کہ لوگ ان اداروں کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں کہ وہ بدعنوانی سے کس حد تک متاثر ہیں۔ سروے کے دوران جن افراد سے رابطہ کیا گیا ان سے کہا گیا کہ وہ ان اداروں کو1 اور 5 کے لحاظ سے ریٹ کریں۔ ایک کا مطلب ہے قطعی بدعنوان نہیں ہے اور 5 کا مطلب ہے۔ انتہائی بدعنوان ہے۔ 2010ءکے سروے میں جس کے یقیناً اور پہلو بھی ہیں اس میں پولیس کو پاکستان کا انتہائی بدعنوان ادارہ قرار دیا گیا جس کا اسکور4.5 رہا جب کہ سیاسی جماعتوں کا اسکور4.1، پارلیمنٹ کا اسکور4، این جی اوز کا 3.8، پرائیوٹ سیکٹر بزنسز کا اسکور3.8، عدلیہ کا3.6، میڈیا کا اسکور3.3، تعلیمی نظام کا3.1، فوج کا3 اور مذہبی باڈیز کا اسکور2.8 رہا۔ 2009ءکے سروے میں سول سرونٹس (بشمول پولیس) بدعنوانی میں4.1 اسکور کے ساتھ سب سے اوپر تھا جس کے بعد عدلیہ کا نمبر تھا جس کا اسکور3.8 تھا۔ پارلیمنٹ کا اسکور3.7، سیاسی جماعتوں کا اسکور3.5، پرائیوٹ سیکٹر بزنسز کا اسکور3.5 اور میڈیا کا اسکور3 تھا۔ موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ2010ءمیں سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ پاکستان کے افراد کو ہمیشہ سے زیادہ بدعنوان نظر آئے۔ ایک سوال پر کہ ملک میں بدعنوانی کی سطح کس حد تک تبدیل ہوئی ہے رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ77 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ صرف6 فیصد کا کہنا ہے کہ اس میں کمی آئی ہے جب کہ16 فیصد کا خیال ہے کہ بدعنوانی اسی سطح پر ہے جہاں وہ2007ءمیں تھی۔ بدعنوانی کے خلاف حکومتی اقدامات کے تخمینے کے مطابق رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ73 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی غیرموثر ہیں جب کہ صرف12 فیصد کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کے اقدامات موثر ہیں۔2007ءمیں بدعنوانی کے خلاف اس وقت کی حکومت کے اقدامات کے بارے میں52 فیصد افراد کی رائے تھی کہ یہ اقدامات انتہائی غیرموثر ہیں جب کہ22 فیصد کی رائے میں یہ نہایت موثر اقدامات تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ2009ءکے سروے میں51 فیصد افراد سمجھتے تھے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کو چیک کرنے میں غیرموثر ثابت ہوئی ہے جب کہ25 فیصد کی رائے تھی کہ حکومت بدعنوانی کو چیک کرنے میں موثر ثابت ہوئی ہے۔ ان اعدادوشمار سے پاکستان کے لوگوں کا ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کی حکومتی کوششوں سے مایوسی کا اظہار ہوتا ہے۔ گلوبل کرپشن بیرومیٹر (جی سی بی) ایک عوامی رائے کی بنیاد پر کیا گیا سروے ہے جو بدعنوانی اور رشوت ستانی کے بارے میں عام افراد کے تجربات اور رائے پر تخمینے لگاتا ہے۔ 2010ءمیں جی سی بی نے86 حدود اور ممالک کو کور کیا۔ سروے کے لئے فیلڈ ورک یکم جون2010ءاور 30 ستمبر2010ءکو کیا گیا۔ ہر ملک کا سیمپل غالبیت پسند تھا اور اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ عام بالغ آبادی کی نمائندگی ہو سکے۔ سیمپل کا جنرل کوریج اس طرح تھا۔ 83 فیصد نیشنل اور 17 فیصد اربن۔ سروے کے لئے انٹرویوز یا تو منہ در منہ، فون پر اپنے تیار کردہ سوالنامہ کے مطابق، کمپیوٹر کے تعاون سے، ٹیلیفون انٹرویوز یا انٹرنیٹ کے ذریعے کئے گئے (اکثر ترقی یافتہ ممالک میں) یہ انٹرویوز 16 سال یا اس سے زائد عمر کے مرد اور خواتین دونوں سے کئے گئے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 127
Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کوریج, کوششوں, کمپیوٹر, پاکستان, پسند, ڈیزائن, وقت, لوگ, نظر, میڈیا, موجودہ, مطابق, معلوم, آبادی, انٹرنیٹ, اسلام, خواتین, خلاف, سال, عوامی, عباسی, عدلیہ, غالب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فٹبال ورلڈ کب میں اپنی درست پیشین گوئیوں سے دھوم مچانے والا آکٹوپس چل بسا۔ محمدعدنان فٹبال 1 27-10-10 11:20 AM
ن لیگ کے رکن اسمبلی عامر حیات روکھڑی پولیس کی حراست میں فرحان دانش خبریں 6 26-01-10 08:12 PM
پولیس، عوام رابطے بہتر کئے جائیں گورنر، صوبائی وزیر داخلہ سے گفتگو عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 09:21 AM
ہندوستان کی ریاست آسام میں پولیس فائرنگ سے 8افراد ہلاک۔ خرم شہزاد خرم خبریں 0 04-01-08 09:31 AM
پولیٹیکل معاملات میں شعر سے بڑے بڑے کام لیے گئے ہیں خرم شہزاد خرم آئیں شاعری سیکھیں 0 22-09-07 11:26 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger