عدلیہ نے بدعنوانی کو کم کرنے میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ
اسلام آباد (انصار عباسی) پاکستان کے اداروں میں پولیس، سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ پہلے تین سب سے زیادہ بدعنوان اداروں کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں جب کہ عدلیہ نے بدعنوانی کو کم کرنے میں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ انکشافات ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2010ءکی گلوبل کرپشن بیرومیٹر رپورٹ میں کئے گئے ہیں جو جمعرات کو برلن سے جاری کی جائے گی۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے77 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ گزشتہ تین سال کے دوران ملک میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ73 فیصد کی غالب اکثریت کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کو کچلنے میں انتہائی غیرموثر ثابت ہوئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے گیلپ انٹرنیشنل کے سروے کی بنیاد پر مرتب کردہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس، سیاسی جماعتیں، پارلیمنٹ، این جی اوز، پرائیوٹ سیکٹر کے تحت چلنے والے کاروبار اور یہاں تک کہ میڈیا بھی2009ءکے مقابلے میں2010ءمیں زیادہ بدعنوان ہوگئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عدلیہ جسے انتہائی بدعنوان7 اداروں میں گزشتہ سال کے تخمینے میں دوسرا نمبر حاصل تھا وہ اب چھٹے نمبر پر آ چکی ہے۔ مزید براں وہ اپنے معلوم کئے گئے کرپشن کے تخمینہ کے اسکور میں بھی بہتری کے لئے کوشاں ہے۔ وہ پیشے اور ادارے جن کے بارے میں تخمینہ لگایا گیا ان میں مذہبی باڈیز، فوج، تعلیمی نظام اور میڈیا بالترتیب سب سے کم بدعنوان ہیں۔ بدعنوانی کے خاتمے کے سلسلے میں حکومت کے اقدامات کے متعلق پاکستان کے73 فیصد سوچتے ہیں کہ ایسے اقدامات نہایت ناکافی اور غیرموثر ہیں۔ 2007ءمیں اس وقت کے آمر پرویز مشرف کی حکومت بدعنوانی کے خلاف اقدامات میں مقابلتاً بہتر تھی جب کہ52 فیصد افراد اس مصیبت کے خاتمے کے لئے اس حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو غیرموثر تصور کرتی ہے۔ 2009ءکے برخلاف2010ءمیں10 اداروں یا پیشوں کے متعلق تخمینہ لگایا گیا کہ لوگ ان اداروں کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں کہ وہ بدعنوانی سے کس حد تک متاثر ہیں۔ سروے کے دوران جن افراد سے رابطہ کیا گیا ان سے کہا گیا کہ وہ ان اداروں کو1 اور 5 کے لحاظ سے ریٹ کریں۔ ایک کا مطلب ہے قطعی بدعنوان نہیں ہے اور 5 کا مطلب ہے۔ انتہائی بدعنوان ہے۔ 2010ءکے سروے میں جس کے یقیناً اور پہلو بھی ہیں اس میں پولیس کو پاکستان کا انتہائی بدعنوان ادارہ قرار دیا گیا جس کا اسکور4.5 رہا جب کہ سیاسی جماعتوں کا اسکور4.1، پارلیمنٹ کا اسکور4، این جی اوز کا 3.8، پرائیوٹ سیکٹر بزنسز کا اسکور3.8، عدلیہ کا3.6، میڈیا کا اسکور3.3، تعلیمی نظام کا3.1، فوج کا3 اور مذہبی باڈیز کا اسکور2.8 رہا۔ 2009ءکے سروے میں سول سرونٹس (بشمول پولیس) بدعنوانی میں4.1 اسکور کے ساتھ سب سے اوپر تھا جس کے بعد عدلیہ کا نمبر تھا جس کا اسکور3.8 تھا۔ پارلیمنٹ کا اسکور3.7، سیاسی جماعتوں کا اسکور3.5، پرائیوٹ سیکٹر بزنسز کا اسکور3.5 اور میڈیا کا اسکور3 تھا۔ موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ2010ءمیں سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ پاکستان کے افراد کو ہمیشہ سے زیادہ بدعنوان نظر آئے۔ ایک سوال پر کہ ملک میں بدعنوانی کی سطح کس حد تک تبدیل ہوئی ہے رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ77 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے جب کہ صرف6 فیصد کا کہنا ہے کہ اس میں کمی آئی ہے جب کہ16 فیصد کا خیال ہے کہ بدعنوانی اسی سطح پر ہے جہاں وہ2007ءمیں تھی۔ بدعنوانی کے خلاف حکومتی اقدامات کے تخمینے کے مطابق رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ73 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی غیرموثر ہیں جب کہ صرف12 فیصد کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کے اقدامات موثر ہیں۔2007ءمیں بدعنوانی کے خلاف اس وقت کی حکومت کے اقدامات کے بارے میں52 فیصد افراد کی رائے تھی کہ یہ اقدامات انتہائی غیرموثر ہیں جب کہ22 فیصد کی رائے میں یہ نہایت موثر اقدامات تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ2009ءکے سروے میں51 فیصد افراد سمجھتے تھے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کو چیک کرنے میں غیرموثر ثابت ہوئی ہے جب کہ25 فیصد کی رائے تھی کہ حکومت بدعنوانی کو چیک کرنے میں موثر ثابت ہوئی ہے۔ ان اعدادوشمار سے پاکستان کے لوگوں کا ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کی حکومتی کوششوں سے مایوسی کا اظہار ہوتا ہے۔ گلوبل کرپشن بیرومیٹر (جی سی بی) ایک عوامی رائے کی بنیاد پر کیا گیا سروے ہے جو بدعنوانی اور رشوت ستانی کے بارے میں عام افراد کے تجربات اور رائے پر تخمینے لگاتا ہے۔ 2010ءمیں جی سی بی نے86 حدود اور ممالک کو کور کیا۔ سروے کے لئے فیلڈ ورک یکم جون2010ءاور 30 ستمبر2010ءکو کیا گیا۔ ہر ملک کا سیمپل غالبیت پسند تھا اور اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ عام بالغ آبادی کی نمائندگی ہو سکے۔ سیمپل کا جنرل کوریج اس طرح تھا۔ 83 فیصد نیشنل اور 17 فیصد اربن۔ سروے کے لئے انٹرویوز یا تو منہ در منہ، فون پر اپنے تیار کردہ سوالنامہ کے مطابق، کمپیوٹر کے تعاون سے، ٹیلیفون انٹرویوز یا انٹرنیٹ کے ذریعے کئے گئے (اکثر ترقی یافتہ ممالک میں) یہ انٹرویوز 16 سال یا اس سے زائد عمر کے مرد اور خواتین دونوں سے کئے گئے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی