جب ہم ججوں کو قید کیا گیا تھا تو اس وقت کے بادشاہ سلامت بھی کہتے تھے یہ دہشتگردوں کی زبان بولتے ہیں : جسٹس رمدے
لاہور (نمائندہ جنگ) چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میںسپریم کورٹ کے فل بنچ نے ریماکس دیئے ہیں کہ پولیس دہشت گردی کے مقدمات میں تفتیش ٹھیک نہیں کرتی اور پھر عدالتوں پر الزام لگا دیا جاتا ہے کہ عدالتیں دہشت گرد چھوڑدیتی ہیں۔ فل بنچ کے رکن مسٹر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ایسے تفتیشی افسروں کو الٹا لٹکا دینا چاہئے۔ انہوں نے ڈیڑھ سو سال پہلے جو پڑھا اور سنا تھا۔ اس کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ آٹھویں پاس لوگوں کو تفتیش کرنے پر لگا دیا گیا ہے۔ جنہیں قانون کا کچھ پتہ نہیں۔ راولپنڈی چرچ پر گرنیڈوں سے حملہ کرنے کے مقدمے کے تین ملزمان کی موت اور عمر قید کی سزاﺅں کے خلاف اپیلیوں کی سماعت کے دوران مسٹر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریماکس دیئے کہ جب ہم ججوں کو قید کیا گیا تھا تو اس وقت کے بادشاہ سلامت بھی یہی کہتے تھے کہ یہ لوگ دہشت گردوں کی زبان بولتے ہیں۔ حالانکہ میں نے تو ایسی کوئی زبان نہیں بولی تھی۔ عدالت نے کہا کہ جب مقدمات میں گواہ ہی نہیں آئیں گے تو عدالتیں کیا کریں۔ پوری دنیا میں گواہوں کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں انتظامیہ اور پولیس خود کچھ کرتی نہیں اور الزام عدالتوں پر لگا دیا جاتا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی مشتاق سکھیرا کو طلب کیا۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اس نوعیت کے مقدمات کی تفتیش میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کریں تاکہ تفتیش میں کوئی پہلو بھی نظر انداز نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے کیس پر مزید کارروائی آج جمعہ کی صبح تک ملتوی کر دی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی