واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پیٹرولیم مصنوعات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-07-08, 02:54 PM   #1
پیٹرولیم مصنوعات
Real_Light Real_Light آف لائن ہے 26-07-08, 02:54 PM

حکمرانی، فرض شناسی اور نفع اندوزی

بتایا جاتا ہے کہ جیسے وباؤں کی پھوٹ پڑنے سے ڈاکٹروں حکیموں، دوا فروشوں سے لے کر قبریں کھودنے اور کفن فروخت کرنے والوں کی چاندی ہو جاتی ہے اور جیسے زلزلوں، سیلابوں اور سونامیوں سے معماروں اور عمارتی سامان فروخت کرنے والوں کے نصیبے جاگ اٹھتے ہیں ویسے ہی تیل کی عالمی منڈی میں تقریباً ہفتہ وار بلکہ روزانہ نرخوں کے اضافے سے اگر عام صارفین بلبلا اٹھتے ہیں اور تمام کی تمام ضروریات زندگی ہوشربا مہنگائی کی زد میں آجاتی ہیں تو تیل صاف کرنے والے کارخانوں، تیل کا کاروبار کرنے والوں اور سٹاک مارکیٹ میں تیل پر جوا کھیلنے والوں پر رحمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے اور اس آفت آشام مہنگائی اور عوام کی مجبوری سے ٹیکس نچوڑنے والی حکومتوں پر آسمان سے ہن برسنے لگتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں فروری 2008ء کے بعد کے چھٹے اور عوام کو روٹی، کپڑا ، مکان فراہم کرنے کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت کے چار مہینوں کے پانچویں خوفناک اضافے کے بارے میں حکمرانوں کا یہ تاثر ہے کہ اس کو زلزلے اور سونامی جیسی قدرتی آفت ناگہانی اور نصیبوں کے لکھے کے طور پر قبول اور برداشت کر لیا جائے جس سے بچاؤ، مداوے اور محفوظ رہنے کی کوئی صورت اور کوئی ممکن طریقہ نہیں ہے چنانچہ حکومت اپنے ملک کے غریب صارفین کی کوئی مدد نہیں کرسکتی مگر اس نوعیت کے حقائق سے لوگوں کی آگاہی کو روکنا مشکل ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کی ذمہ دارحکومتیں اور فرض شناس پالیسی ساز ادارے جہاں تیل کی بجائے متبادل ایندھن کے وسائل تلاش کرنے میں مصروف ہیں وہاں اپنے لوگوں کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے طریقوں پر غور کرتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں سفر کے ارزاں ترین وسیلے کے طور پر بحری اور دریائی سفر کے وسائل کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ریلوے کی سہولتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے سرکاری وسائل کو ترقی دی جا رہی ہے تاکہ لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لاکر زیادہ سے زیادہ انرجی بچائیں لیکن وطن عزیز کے حکمران اور پالیسی ساز ایسی کسی تجویزپر توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ مہنگائی اور گرانی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کرتے ہیں۔
پیٹرول کے ایک لیٹرکی قیمت فروری کے آخر تک 53روپے ستر پیسے تھی جو اب 86روپے، 66پیسے تک پہنچ گئی ہے اور ”جے پی آٹھ“ 87روپے، 79پیسے سے بڑھ کر 96روپے چار پیسے ہوگیا ہے اور اگلی جست میں سو روپے فی لیٹر سے بھی بڑھ جائے گا۔ پاکستان کا تیل کا درآمدی بجٹ جو گزشتہ سال 2006-07ء میں سات ارب تین کروڑ ڈالر تھا ایک سال میں 56فیصد بڑھ کر گیارہ ارب چار کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
مذکورہ بالا حالات تقاضا کرتے ہیں کہ تیل کے نرخ مقرر کرنے والے فرسودہ طریقے میں تبدیلی لائی جائے اوز عوام کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے مگر ہمارے حکمرانوں نے ڈیزل اور مٹی کے تیل پر ریفائنریز کو ملنے والی Deemedڈیوٹی کو ختم کرنے اور تیل کی کمپنیوں کو دیئے جانے والے پریمیم کو منسوخ کرنے کی بجائے 2008ء کے قومی بجٹ میں پٹرولیم کی تمام مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ کردیا۔ یہ ڈیوٹیز جنرل سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی، ڈیلرز کمیشن، کمپنی، مارجن، سمندر سفر کے دوران ہونے والے نقصانات، انشورنس، وارفیج، بینکنگ اخراجات، پیٹرولیم ہینڈ لنگ چارجز کے علاوہ ہیں جو سب مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیٹرول پر جنرل سیلز ٹیکس میں چار ماہ کے دوران پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے اور سات روپے فی لیٹر سے بڑھ کر دس روپے چوالیس پیسے ہوگیا ہے۔ "HOBC"پر جنرل سیلز ٹیکس میں 47فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور وہ آٹھ روپے 46پیسے سے بارہ روپے 26پیسے کر دیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل پر اس کا اضافہ پچاس فیصد ہے اور چار روپے ساٹھ پیسے سے بڑھ کر چھ روپے 86پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ لائٹ ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس میں ساٹھ فیصد اضافہ کرکے سوا چار روپے فی لیٹر سے چھ روپے 77پیسے کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ڈیلروں اور آئل کمپنیوں کے مارجن میں علی الترتیب 40,39اور 96فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور یہ اضافہ 17 فروری 2008ء کے بعد ہوا ہے۔ان تمام ”اضافوں“ کو جمع کیا جائے تو اربوں روپے کی باران رحمت بن جاتی ہے جو ڈیلروں، تیل کمپنیوں اور حکمرانوں کے خزانوں میں جاتی ہے اور غریب صارفین کو نچڑے ہوئے لیموں کی طرح مزید نچوڑتی ہے۔ ہمارے حکمران یہ جانتے ہوئے کہ عالمی سطح پر تیل کے نرخوں میں کس خوفناک انداز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر مذکورہ بالا مدوں میں اضافے کے شوق کو پورا نہ کرتے تو ان پر آسمان نے نہیں ٹوٹ گرنا تھا۔ عالمی سطح پر ماہرین اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ محصولات کا نرخ کم کرنے سے محصولات کی آمدنی میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا ہے مگر یہ سوچ ابھی ہمارے حکومتی ماہرین تک نہیں پہنچ پائی۔ ہمارے حکومتی ماہرین تو یہ بھی تسلیم نہیں کریں گے کہ ہماری تیل کے نرخ مقرر کرنے کی پالیسی نے صارفین کو سات سالوں میں 200ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس سے تیل صاف کرنے والے کارخانوں نے 300سے 400ارب روپے کمائے ہیں۔ بعض پاکستانی کارخانوں نے تو سات سالوں میں اپنے منافعوں میں تین سو سے 3100فیصد کا اضافہ بھی کیا ہوگا۔ OGRAایک عرصے سے حکومت کو مشورہ دے رہا ہے کہ تیل کے نرخ مقرر کرنے کے فرسودہ طریقے میں تبدیلی لائی جائے اور اسے زیادہ سے زیادہ شفاف اور صارفین دوست بنایا جائے۔ تیل کے عالمی نرخوں میں اضافے کا سارا بوجھ صارفین پر ڈالنے کی بجائے حکومت کو بھی اپنی نفع اندوزی میں کمی لانی چاہئے مگر حکمران اس جانب توجہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ سیاسی دباؤ اور اقتصادی دیانت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر ڈیزل کے اوپر28ڈالر فی ٹن کا پریمیم واپس لے لیا جائے تو اس کی فی لیٹر نرخ 37سے 40روپے تک آجائیں گے۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے

 
Real_Light's Avatar
Real_Light
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
شکریہ: 3,117
988 مراسلہ میں 1,963 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 229
Reply With Quote
جواب

Tags
color, فروخت, فرض, پیٹرولیم مصنوعات, پاکستان, پاکستانی, نقصانات،, مہنگائی, منشور, ممکن, تلاش, جوا, دوست, زندگی, سفر, سال, علی, عزیز, صاف, صارفین


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بھارت: پیٹرولیم مصنوعات میں 73پیسے کی کمی عبدالقدوس خبریں 9 20-06-09 03:26 PM
پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا اعلان پ تفسیر حیدر خبریں 0 19-09-08 05:35 PM
حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں کریگی تفسیر حیدر خبریں 0 17-08-08 11:37 AM
بھارت:مہنگائی سے نمٹنے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات میں 88پیسے کی مزید کمی عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:03 AM
پاکستان :پیٹرولیم مصنوعات میں ساڑھے تین روپے اضافے کا امکان عبدالقدوس خبریں 0 16-04-08 07:38 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:04 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger