|
پیپلزپارٹی، متحدہ کے درمیان فیصلہ کن معاملات پرمذاکرات ہورہے ہیں، دونوں طرف خاموشی

18-08-11, 03:27 AM
اسلام آباد (فاروق اقدس، نامہ نگار خصوصی) سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی کا جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر ملنے میں تاخیر سے صورتحال میں اضطراب سا پیدا ہو گیا ہے۔ ماضی کے تجربے کی روشنی میں باور تو یہی کیا جا رہا تھا کہ ایم کیو ایم کی پارلیمانی قیادت اسلام آباد جا کر تمام معاملات پر بات کرے گی اور پھر وزیراعظم ہاوس اور ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ کے درمیان ہونے والے رابطے میں چیزوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی لیکن دونوں سے ایک غیرمعمولی اور پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو خود اسلام آباد آنا پڑا۔ ڈاکٹر عشرت العباد جو انتظامی اعتبار سے بحیثیت گورنر صدر مملکت کے نمائندے ہیں لیکن جماعتی وابستگی کے حوالے سے وہ اپنے تنظیمی قائد الطاف حسین کے احکامات ماننے کے پابند ہیں دو روز قبل جب وہ حکومت سے ایم کیو ایم کی حکومت میں واپسی سے متعلق تمام امور طے کرنے اور ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی حاصل کرنے کے لئے اسلام آباد آئے تو انہوں نے اسلام آباد میں سندھ ہاوس میں واقع گورنر انیکسی میں قیام کو ترجیح دی۔ صدر سے ان کی طویل ملاقات کے بعد انہیں وزیراعظم سے ملاقات میں مشاورت اور یقین دہانیوں کے لئے ملاقات کا مرحلہ طے کرنا پڑا اور پھر بدھ کی شب ایک بار پھر ان کی صدر سے ملاقات ناگزیر ہو گئی۔ اس دوران کراچی کی صورتحال میں ابتری اور بالخصوص سابق رکن اسمبلی واجد کریم داد کے قتل نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان اس وقت اسلام آباد میں کن کن معاملات پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے وہ کون سے مطالبات اور تحفظات ہیں جن پر صورتحال طوالت کا شکار ہو رہی ہے۔وہ کون سی شرائط ہیں حکومت جنہیں تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے اور ایم کیو ایم اپنے تحفظات و خدشات پر یقین دہانی حاصل کرنے کے لئے مصر ہے۔ اس بارے میں دونوں طرف سے خاموشی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما اس صورتحال پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے معذوری ظاہر کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ اس صورتحال پر بات کرنے کا اختیار صرف گورنر سندھ کو ہے جبکہ حکومتی نمائندے محض تسلیوں کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کل تک سب ٹھیک ہو جائے گا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|