واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پیپلزپارٹی کو ذوالفقار مرزا کی صورت میں متحدہ کا مقابلہ کرنیوالا مل گیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-11, 03:13 AM   #1
پیپلزپارٹی کو ذوالفقار مرزا کی صورت میں متحدہ کا مقابلہ کرنیوالا مل گیا
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 04-09-11, 03:13 AM

دھماکہ خیز پریس کانفرنس کا صدر زرداری کو پہلے سے علم تھا،آفٹر شاکس“ آتے رہیں گے
اسلام آباد (طاہر خلیل) کراچی کی بدامنی نے ایک سال کے اندر 2 ہزار سے زائد شہریوں کو لقمہ اجل بنا دیا ہے اور روشنیوں کے اس شہر سے ہر سال 40 ارب ڈالر مالیت کی اشیاءاور خدمات فراہم کی جاتی ہیں اور اسکی بندرگاہ سے ہر سال 50 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے یہاں جب روزانہ 12/14 لاشیں گرتی ہوں اور بوری بند ایسی لاشیں معمول کا چلن بن جائیں جن کے جسم کے اعضاءکٹے پھٹے ڈرل شدہ اور آنکھیں نکلی ہوئی ہوں ایسے ماحول میں مبصرین کے لئے چیف جسٹس کی برہمی کو ” ملک بچانا ہے تو کراچی کے حالات ٹھیک کرنا ہوں گے“ جائز اور سیکورٹی اداروں کی تشویش درست دکھائی دیتی ہے کہ شہر قائد کی بدامنی ہماری قومی سلامتی، ملکی معیشت اور جمہوری نظام کیلئے بڑا خطرہ بن گئی ہے اس ضمن میں سب سے اہم سوال پیپلز پارٹی کیلئے پیدا ہو گیا جس کی حکومت سندھ میں بھی ہے اور وفاق میں بھی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی میںمنافقت، اقرباءپروری، کرپشن اور جرائم کو صرف نظر کرنے کمے زہر آلود بیج حالیہ برسوں میں بوئے گئے اب وہ زہر ناک فصل پوری طرح تیار ہوگئی ہے بعض حلقے قرار دیتے ہیں کہ مفاہمت کی منافقت بھری پالیسی کراچی میں ایسے ”مفاہمت مافیا“ کے وجود کا سبب بنی جس میں قومی وسائل کی لوٹ مار میں سب کو مساوی حق دیا گیا۔ اب جبکہ ”کولیشن پارٹنر“ کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا تو پیپلزپارٹی نے اپنے حاکمانہ اختیارات سے ہٹ کر ایم کیو ایم کا سائز کم کرنے کیلئے نئی راہ اپنائی ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی جڑیں کاٹنے اور اس پر کاری ضرب لگانے کیلئے صدر زرداری کے یار غار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے قرآن مجید سر پررکھ کر ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ کے مصداق ہنگامہ خیز پریس کانفرنس کر کے سیاست میں ایسا دھماکہ کیا گویا ملک میں سیاسی بھونچال آگیا انہوں نے نہ صرف قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا انکشاف کیا بلکہ اس حوالے سے ہونے والی بعض سازشوں کو بھی بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ ذوالفقار مرزا کے بارے عام تاثر ہے کہ وہ جذباتی آدمی ہیں اور ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جذباتی لوگ عام طور پر سچے ہوتے ہں ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس بلاشبہ ایک بڑا دھماکہ تھی انہوں نے ماضی میں کئی بار ایم کیو ایم کے بارے میں سخت لب ولہجہ اختیار کرنے پر معافی مانگی، معذرت کی، الفاظ واپس لئے اور ایک مرتبہ تو انہیں طویل رخصت پر بھیجا گیا اور دوسری مرتبہ ان کی وزارت تبدیل کردی گئی اس مرتبہ جب وہ ایم کیو ایم کے خلاف معرکہ آرائی کیلئے میدان میں اترے تو انہوں نے حکومت اور پارٹی سے لاتعلقی کا اظہار کرکے سرکار اور سیاسی وابستگی کا دباﺅ ہی ختم کردیا جس پر صدر زرداری کو مرزا سے دوستی پر یوں تبصرہ کرنا پڑا

دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے بظاہر سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیاہے مگر ان کی میرا تھون پریس کانفرنسیں جاری ہیں جلسے جلوس پہلے سے زیادہ گرمجوش اور بااثر ہیں۔

ماسٹر مائنڈ کون ہے؟

بعض حلقے قرار دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اندر ذوالفقار مرزا کی ”بغاوت“ سیکرٹ ایجنسیوں کا کھیل ہے صدر زرداری کو بھی یہ بتایا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کے بعد ذوالفقار مرزا ایجنسیوں کے ”ورغلانے“ میں آ گئے صدر زرداری کو ذوالفقار مرزا کے بیانات سے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے صدر زرداری کی دوستی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے ڈاکٹر مرزا کے رحمن ملک پر تابڑ توڑ حملوں سے صدر زرداری کونقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ رحمن ملک صدر کے انتہائی بااعتماد ساتھی شمار ہوتے ہیں اور کراچی میں رحمن ملک جو کچھ کررہے ہیں اپنے طور پر کچھ بھی نہیں سب کچھ قیادت کی مکمل آشیر باد سے ہورہا ہے دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ ذوالفقار مرزا کے دھماکے کا صدر زرداری کو پہلے سے علم تھا یہی وجہ تھی کہ کراچی پریس کانفرنس سے قبل جب ڈاکٹر بابر اعوان نے کراچی سے صدر زرداری کو فون کر کے ڈاکٹر مرزا کی پریس کانفرنس کے پیشگی منصوبے سے آگاہ کیا تو صدر زرداری نے اس پر کسی فیصلہ کن ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ڈاکٹر مرزا کو پریس کانفرنس کرنے سے نہیں روکا تھا بلکہ صدر نے بھی یہ پریس کانفرنس ٹی وی پر لائیو دیکھی تھی صدر کے اس رویئے سے مخصوص حلقوں کا تاثر گہرا ہورہا ہے کہ ڈاکٹر مرزا نے سیاسی کروٹ صدر زرداری کے ایما پر بدلی تھی کیونکہ وہ اس طریقے سے ایم کیو ایم کو زیر دباﺅ لانا چاہتے تھے اس لئے اسلام آباد میں یہ کہا جارہا ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے نئے سیاسی طرزعمل کے پیچھے صدر زرداری ہی ماسٹر مائنڈ ہیں جس میں ذوالفقار مرزا کو اس طرح استعمال کیا گیا کہ
(1) ایم کیو ایم کو دباﺅ میں لایا جاسکے
(2) اندرون سندھ ایم کیو ایم کے انتخابی حلقے پر ضرب لگائی گئی
(3) سندھی قوم پرستانہ جذبات کو تقویت دی گئی
(4) پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کو مضبوط بنایا جاسکے جو ایم کیو ایم کی آئے روز کی بلیک میلنگ سے تنگ آچکا ہے اور ایم کیو ایم کے درد سر کو ختم کرنے کیلئے ذوالفقار مرزا کو بطور معالج آگے لایا گیا۔

کس کا فائدہ....کس کا نقصان

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے جو راستہ منتخب کیا ہے یہ یقیناً انتہائی پر خطر اور خون آشام بھی ہوسکتا ہے مگر پیپلزپارٹی کے ذرائع کا دعویٰ کررہے ہیں کہ ذوالفقار مرزا نے جو کام کر دکھایا اس سے اندرون سندھ ان کی بھاری بھرکم شخصیت اجاگر ہوئی ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان بھر میں ان کی نئی شناخت ابھری ہے۔ جس سے ان کے مستقبل کا تعین کرنا بھی مشکل نہیں۔ ذوالفقار مرزا اب تک دوسرے درجے کے لیڈر تھے مگر اب وہ فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں وہ کہاں ہوں گے۔
ذوالفقار مرزا کے الزامات کی اے این پی کے صدر اسفند یار ولی اور جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن نے یہ کہہ کر تائید کی ہے کہ یہ الزامات سنجیدہ ہیں تحقیقات ہونی چاہیے اور ایم کیو ایم اپنی پوزیشن واضح کرے۔ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کا بیان بھی حقیقت کے قریب تر ہے کہ حکومت مکمل طور پر ایکسپوز ہوچکی ہے اور قوم سوالات کا جواب مانگتی ہے۔ ذوالفقار مرزا کے الزامات کا جائزہ لینے کیلئے عدالتی کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔ ذوالفقار مرزا نے ایک اور اہم بات یہ کی ہے کہ شریف برادران پیپلزپارٹی کی حمایت کریں ان کی اس بات کا مقصد اس نمبر گیم کی بلیک میلنگ سے نکلنا ہے جو حکومت کو بھان متی کے کنبے میں برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ بیان سے ذوالفقار مرزا نے حکومت کو بھی تجویز کیا ہے کہ وہ نمبر گیم کی بلیک میلنگ سے باہر نکلنے کیلئے مفاہمت‘ مصلحت‘ کوش پالیسی ترک کرے۔ ذوالفقار مرزا کے ”دبنگ“ اور دلیرانہ خیالات ایم کیو ایم کے ووٹرز کیلئے لمحہ فکریہ بنے ہیں اور ایم کیو ایم کے ہمدرد بھی ایک لمحے کو یہ سوچتے ہیں کہ آخر ذوالفقار مرزا نے ایک بڑی مضبوط جماعت سے متعلق قرآن مجید سے پر رکھ کر ایسی باتیں کہہ دیں جو کوئی نیند میں بھی کرنے سے ڈرتا ہے۔ اس لئے ذوالفقار مرزا کے بیانات کو وزن دینے کا پس منظر بھی واضح ہے۔ ان کے پیش منظر سوختہ اور ڈرل شدہ لاشے ہیں اور ویسے بھی پاکستان میں لوگ قرآن کی قسموں پر زیادہ آسانی سے یقین کرلیتے ہیں اور مرزا صاحب نے تو قرآن سر پر رکھ کر الطاف حسین سے لندن میں ہونے والی گفتگو سنادی کہ کیسے بھائی صاحب نے پاکستان توڑنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ایم کیو ایم نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے مگر جن گواہوں کی موجودگی کا حوالہ دیا گیا ان میں سے کسی نے اس کی تردید نہیں کی جبکہ امریکی سفارت خانے نے ذوالفقار مرزا کے بیان پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پر پاکستان توڑنے کا الزام سمجھ سے بالاتر ہے۔
مبصرین کے مطابق ذوالفقار مرزا کے انکشافات نے پاکستانی سیاست میں جو طوفان برپا کیا وہ جلد تھمتا نظر نہیں آتا۔ تاہم اس منظر نامے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرزا صاحب نے جتنی شدومد سے الزامات عائد کئے۔ الزامات کا نشانہ بننے والوں کی جانب سے اتنا ہی کمزور اور لاغر ردعمل سامنے آیا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی اہم سیاسی جماعت ہے جو سندھ کے شہری علاقوں میں موثر رسوخ رکھتی ہے جس کے پاس قومی اسمبلی کے 25‘ سینٹ کی 6 اور سندھ صوبائی اسمبلی کی 51 نشستیں ہیں۔ متوسط طبقے کی نمائندگی کی دعویدار یہ جماعت 1988 سے کسی نہ کسی صورت حکومتی اتحادوں کا حصہ چلی آرہی ہے۔ تاہم 1992 اور 1995 میں اس جماعت کو دہشتگردی کے الزامات کے تحت فوجی اور پولیس آپریشنز کا سامنا بڑی کرنا پڑا۔ ڈاکٹر مرزا اور ایم کیو ایم کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ سال سے محاذ آرائی جاری تھی۔ ماضی میں ڈاکٹر مرزا کے اس سے کہیں کم سنگین الزامات کے جواب میں ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ حکومتی اتحاد سے علیحدگی اور یوم احتجاج کے آپشنز استعمال کئے مگر اس مرتبہ رابطہ کمیٹی کے ایک بیان اور سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کی ایک پریس کانفرنس سے زیادہ بات آگے نہیں بڑھی بلکہ اب تو خبریں آرہی ہیں کہ ایم کیو ایم جلد دوبارہ وزارتیں سنبھالنے کیلئے تیار ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا ووٹرز بھی اپنی قیادت سے کچھ زیادہ خوش نہیں کیونکہ ان کے خیال میں پیپلزپارٹی کو بلیک میلنگ کی سیاست ختم کرنے کا بہت اچھا موقع ملا تھا مگر اس نے تین سال مفاہمت کشی میں گنوادیئے۔ اگر جرائم پیشہ افراد‘ بھتہ خوروں‘ دہشتگردوں اور سرمایے اور اسلحے کے بل پر پرورش پانے والے مافیا کے خلاف شفاف ایکشن لیا جاتا تو اس سے ملک بھر میں قانون کی حکمرانی کا بہترین تاثر اجاگر ہوتا اور حکومت کی ساکھ بہتر ہوسکتی تھی۔ بہرحال ذوالفقار مرزا جو کچھ کررہے ہیں یہ بات اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ وہ کس کے کہنے پر یہ سب کچھ کررہے ہیں۔ کیا صدر زرداری کا اس کے پیچھے ہاتھ ہے یا افواج پاکستان نے انہیں ایسا کرنے کا کہا یا پھر ذوالفقار مرزا کا اپنا فیصلہ ہے مگر اصل معاملات وہ الزامات ہیں جو ذوالفقار مرزا نے عائد کئے۔ ذوالفقار مرزا نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ وہ فوری طور پر سندھ اور پاکستان میں مقبول ہوگئے۔ ان کی پریس کانفرنس سیاسی بھونچال تھی جس کے ”آفٹر شاکس“ آتے رہیں گے۔ پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم کی دلیری سے مقابلہ کرنے والے لیڈر کی ضرورت تھی جو ذوالفقار مرزا کی صورت میں مل گیا۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 60
Reply With Quote
جواب

Tags
ہنگامہ, کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, قرآن, لوگ, لندن, نیند, نثار, نظر, مکمل, مقابلہ, منصوبہ, مجید, معذرت, احتجاج, اسلام, دھماکہ, راستہ, زرداری, سیاست, علی, غار, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پیپلزپارٹی مرکز اور سندھ میں ایم کیوایم کے بغیر حکومت برقرار رکھ سکتی ہے گلاب خان خبریں 2 26-08-10 02:54 PM
پیپلزپارٹی فرانس کی جانب سے سینٹرل ایگز یکٹو اور فیڈرل کونسل کے فیصلوں کا خیر مقدم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:18 AM
ن لیگ اورپیپلزپارٹی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ انکی ناکامی کاثبوت ہے،درانی عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 11:51 AM
نوازلیگ اورپیپلزپارٹی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے کا امکانات ختم عبدالقدوس خبریں 0 17-12-07 02:38 PM
نوازلیگ اورپیپلزپارٹی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے کا امکانات ختم خرم شہزاد خرم خبریں 0 17-12-07 08:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger