|
پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچانے والوں کو ٹکٹ ملنے پر کارکنوں میں اضطراب

26-11-07, 08:17 AM
اسلام آباد (رؤف کلاسرہ) بے نظیر بھٹو کی طرف سے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں عملیت پسندی کے مظاہرے سے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے کیونکہ انہوں نے ایسے لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دے دیئے ہیں جنہوں نے مشکل کے وقت میں پارٹی کی پشت میں چھرا گھونپ دیا تھا اور اس بات نے وفادار کارکنوں میں بھی اضطراب پیدا کردیا ہے۔ اس سلسلے میں 3 بڑی واضح مثالیں سامنے آئی ہیں۔ لاہور میں انہوں نے خواجہ طارق رحیم جوکہ کے ٹی آر کے نام سے بھی مشہور ہیں کو منتخب کیا ہے، کراچی میں انہوں نے حسین حقانی جو معروف ادیب، سفارتکار، سیاستدان اور امریکا میں حالیہ پروفیسر ہیں اور جو تمام حکومتوں کے ساتھ رہے ہیں کی اہلیہ کو قومی اور سندھ اسمبلی کی مخصوص نشستوں کیلئے ٹکٹ دیدیا ہے۔ تیسری مثال میں نہ صرف جھنگ کے شائستہ اطوار جوڑے سیدہ عابدہ حسین اور فخر امام کو ٹکٹ دیا گیا بلکہ ان کی 35 سالہ بیٹی صغریٰ جو کہ ہارورڈ کی فارغ التحصیل ہیں اور پرویز الٰہی کی کابینہ میں وزیر رہی ہیں کو بھی ٹکٹ دیدیا گیا ہے۔بے نظیر کو خواجہ طارق رحیم کے حلقے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ ان کے قومی اسمبلی کے حلقے میں صوبائی سیٹ پر جہانگیر بدر کے بیٹے علی کو ٹکٹ دیا ہے جس کو خواجہ طارق کچھ ناپسند کرتے ہیں۔خواجہ طارق نے برسوں کے بیک ڈور رابطوں اورانہیں اور ان کے شوہر زرداری کو خفیہ معلومات بہم پہنچا کر بے نظیر بھٹو کے معتمدین کے اندرونی حلقوں تک رسائی حاصل کی۔جب انہوں نے ان کا اعتماد حاصل کرلیا تو اب وہ قومی اسمبلی کی نشست پر ان کے امیدوار ہیں اور اگر وہ جیت گئے اور بے نظیر نے حکومت بنائی تو ممکنہ وزیر بھی ہیں۔ وہ فاروق لغاری کے دیرینہ دوست ہیں، جن کو بے نظیر اور زرداری سخت ناپسند کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ان کی حکومت ختم کی تھی، نومبر 1996ء میں کرپشن کے الزامات پر بے نظیر کی حکومت کے خاتمہ پر خواجہ طارق کی طرف سے گورنر کا عہدہ قبول کرنے کو بھی بے نظیر بھٹو اور زرداری نے حیران کردیا تھا۔ستم ظریفی دیکھئے کہ لاہور کے جس گورنر ہاؤس سے آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا، وہاں پر ہی فاروق لغاری کی سربراہی میں قائم سیٹ اپ میں خواجہ طارق نے حلف اٹھایا، اب خواجہ طارق رحیم اور علی بدر اس وقت اس بات پر سخت مقابلے میں ہیں کہ کون کس حلقے سے الیکشن لڑے گا۔ محترمہ بھٹو اس بات پر سخت الجھن میں ہیں کہ ان دو بڑی قد آور شخصیات کو کس طرح سے اکاموڈیٹ کریں کیونکہ وہ مختلف وجوہات کی بناء سے ان میں سے کسی کو بھی ناراض کرنا برداشت نہیں کر سکتیں۔محسوس ہوتا ہے کہ برسوں کی جلاوطنی کے سبق آموز تجربے کے دوران محترمہ بھٹو نے بہت سے اسباق سیکھے ہیں اور ان میں سے سب سے اہم سبق درگزر کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے انہوں نے ان تمام کھلاڑیوں کو معاف کردیا ہے، جنہوں نے انہیں دھوکا دیا اور انہیں کسی نہ کسی وجہ سے بدعنوان کہا، لیکن ان کے نزدیکی ساتھی نے بتایا کہ فاروق لغاری واحد مثال ہیں جنہیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔ خواجہ طارق رحیم جن کو لاہور سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ پیش کیا گیاہے نے جہانگیر بدر کے بیٹے کو اپنے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کو یہ بتا دیا ہے کہ علی بدر کے ساتھ مشترکہ انتخابی مہم چلانا ان کیلئے مشکل ہوگا۔پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے دی نیوز کو بتایا کہ 1996ء میں فاروق لغاری سیٹ اپ کا ایک کردار ہونے کے باوجود خواجہ طارق رحیم نے بے نظیر بھٹو سے ذاتی ملاقاتوں اور ٹیلی فونک رابطوں کے ذریعے تعلق جوڑے رکھا ہے ۔ جب ان سے سوال کیاگیا کہ گورنر پنجاب بن کر فاروق لغاری ساتھ کے ملنے والے خواجہ طارق رحیم جیسے شخص کو کیسے ٹکٹ دیا جاسکتا ہے تو فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر فیصلہ ہوگیا ہے تو یہ پھر پارٹی کا فیصلہ ہوسکتا ہے انہوں نے وضاحت کی کہ محترمہ بھٹو ایسے فیصلے کرتے وقت عموماً سب لوگوں کو اعتماد میں لیتی ہیں تاہم بابر نے کہا کہ مجھے اس بات پر یقین نہیں کہ خواجہ طارق رحیم نے پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواست دی ہے ”میں حقائق جاننے کے بعد آپ سے دوبارہ رابطہ کروں گا “۔فرح ناز اصفہانی کی پیپلزپارٹی کے قومی اور صوبائی کے امیدواروں کی فہرست میں شمولیت کا معاملہ الگ ہے وہ برسوں سے امریکا میں رہائش پذیر ہیں اور ماضی قریب تک وائس آف امریکا میں کام کرتی رہی ہیں جہاں بے نظیر بھٹو اور آصف زرادری کو ایک پروگرام کیلئے اس وقت مدعو کیاگیا جب امریکی انتظامیہ اورمیڈیا کی طرف سے قطع تعلقی کے باعث محترمہ سخت مشکل میں تھیں ۔ حسین حقانی جو اس وقت بوسٹن یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں بے نظیر کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے ہیں اور غیر رسمی طور پر انہیں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور امریکی تھنک ٹینک کے ساتھ معاملات طے کرنے کے سلسلے میں مشورے دیتے رہے ہیں وہ چونکہ پاکستانی سیاست میں اس وقت دلچسپی نہیں رکھتے یا کم از کم اس وقت تک جب تک بے نظیر ایک مرتبہ پھر حکومت نہیں بنا لیتیں اس لئے انہوں نے اپنی اہلیہ کیلئے پیپلزپارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے اپنے رابطوں کو استعمال کیا ہے ۔ فرح کراچی میں پہلے ہی بے نظیر کی انفارمیشن ٹیم کا حصہ ہیں ۔ صغریٰ امام کا معاملہ عملیت پسندی کی بہترین مثال ہے عابدہ حسین اور فخر امام کی طرف سے پیپلزپارٹی میں شمولیت اور جھنگ کی سیٹوں پر کامیابی کے یقینی امکان کے بعد کیونکہ ان کے حریف فیصل صالح حیات مسلم لیگی بن گئے ہیں صغریٰ جھنگ کیلئے ایک واضح انتخاب تھا انہوں نے 2004ء میں پرویز الٰہی کابینہ سے بھی استعفیٰ دیدیا تھا اگر وہ کامیاب ہو گئیں تو پنجاب میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی نمایاں رکن ہوں گی ۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|