|
پیپلز پارٹی سے مذاکرات ناکام ،ایم کیو ایم نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان ک

14-04-08, 08:58 AM
پیپلز پارٹی سے مذاکرات ناکام ،ایم کیو ایم نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت میں سنجیدہ نہیں ہے۔ لہٰذا رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ وفاق اور صوبہ سندھ میں حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔ اس فیصلے کی توثیق قائد تحریک الطاف حسین نے بھی کردی ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین اور اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے حزب اختلاف میں بیٹھنے کے اعلان پر اراکین نے زبردست تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ ایک جمہوریت پسند جماعت ہے جو ملک کو مضبوط و مستحکم دیکھنے کے ساتھ ساتھ ملک میں جمہوری عمل کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 18/فروری 2008ء کو جب عام انتخابات ہوئے تو قائد تحریک الطاف حسین نے اگلے روز اپنے خطاب میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف، مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو الیکشن میں ان کی جماعتوں کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور یہ اعلان کیا کہ ہم ان کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔ پھر جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اتحاد کا اعلان ہوا تو قائد تحریک الطاف حسین نے اس اتحاد کی غیرمشروط حمایت کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم سے مفاہمت کے سوال پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے منفی بیانات دیے جانے لگے اور شدید تحفظات کا اظہار کیا جانے لگا لیکن ایم کیو ایم کی جانب سے واضح طور پر یہی موقف اختیار کیا گیا کہ ہمیں حکومت میں جانے کا کوئی شوق نہیں اور ہم اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی حکومت کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائیں گے اور حکومت کے مثبت اقدامات کی حمایت کریں گے اور ان کے ساتھ غیرمشروط تعاون کریں گے۔ عوامی حلقوں کے دباؤ پر 28/فروری 2008ء کو پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنما قائم علی شاہ، این ڈی خان اور مصباح الرحمن نائن زیرو تشریف لائے لیکن سیاسی حالات پر صرف ابتدائی بات چیت ہوئی۔ اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے ایم کیو ایم نے مسلم لیگ ق اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مشورے کے بعد وزیراعظم کے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور اتحادی جماعتوں کے مشورے سے ڈاکٹر فاروق ستار کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے قائد تحریک الطاف حسین سے رابطہ کیا اور ملک میں جمہوریت کے استحکام خصوصاً سندھ میں امن و بھائی چارے کے فروغ کی خاطر وزارت عظمیٰ کے لیے ایم کیو ایم کے امیدوار کو پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار کرنے کی درخواست کی۔ ایم کیو ایم نے ملک میں جمہوریت کے استحکام، جمہوریت کے فروغ، خاص طور پر سندھ میں دیہی اور شہری آبادی کے درمیان بھائی چارے، اتحاد و یکجہتی اور قومی مفاہمت کی خاطر خیرسگالی کے طور پر اپنے امیدوار کو نہ صرف پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں غیرمشروط طور پر دستبردار کرلیا بلکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں ووٹ بھی دیے اور جب وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کا مرحلہ آیا تو انہیں اعتماد کا ووٹ بھی دیا۔فاروق ستار نے کہا کہ 2/اپریل کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ نائن زیرو تشریف لائے تو ہم نے ان کا جو والہانہ استقبال کیا وہ آپ سب نے دیکھا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے ملک خصوصاً سندھ کے وسیع تر مفاد میں اتحاد، بھائی چارے اور قومی مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کا عہد کیا۔ ہمیں یہ امید تھی کہ ہم نے نائن زیرو پر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ جس والہانہ محبت اور خیرسگالی کا عملی مظاہرہ کیا ہے اس کے جواب میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی اسی خیرسگالی کا مظاہرہ کیا جائے گا لیکن جب 4/اپریل کو ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور عہدیداروں پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید کی برسی میں شرکت کے لیے گڑھی خدا بخش پہنچا تو وہاں پیپلز پارٹی کی جانب سے انتہائی سردمہری کا رویہ اختیار کیا گیا اور پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو لینے تک نہیں آیا لیکن ہم نے اس بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ سندھ میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ہم نے ایک بار پھر قومی مفاہمت اور جذبہ خیرسگالی کے طور پر انتخاب میں اپنے امیدوار کھڑے نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی غیرمشروط حمایت کی۔ قائد تحریک الطاف حسین اور آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی ہرممکن کوشش رہی کہ قائد تحریک الطاف حسین اور آصف علی زرداری کے درمیان ملک کے وسیع تر مفاد میں جو اتفاق رائے ہوا اور جو معاملات طے ہوئے ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اسی جذبے اور نیت کے ساتھ متحدہ قومی موومنٹ کی مذاکراتی کمیٹی نے پیپلز پارٹی کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ خلوص دل کے ساتھ مذاکرات کیے تاہم بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم کی جانب سے تمام مواقع پر جس غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ ہمارے لیے ہمیشہ سوالیہ نشان رہا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کے جو بھی دور ہوئے ان میں کوئی سنجیدہ بات چیت نہیں کی گئی اور ہمیں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ مذاکرات کے یہ دور صرف ”نشستن گفتن برخاستن“ سے زیادہ ثابت نہ ہوئے۔ ہم نے پھر بھی ملک خصوصاً سندھ کے وسیع تر مفاد میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات کا جو دور ہوا اس میں پیپلز پارٹی کی غیرسنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ پیپلز پارٹی کے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ چند منٹ بات چیت میں شریک ہوکر معذرت کرکے چلے گئے اور ان کی پانچ رکنی کمیٹی میں سے صرف دو ارکان پیر مظہر الحق اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے مذاکرات میں شرکت کی لیکن اس میں بھی کوئی ٹھوس اور حوصلہ افزاء بات چیت نہیں ہوئی۔ متحدہ قومی موومنٹ اور قائد تحریک الطاف حسین پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کرنے میں جس حد تک آگے جاسکتے تھے چلے گئے اور آخری وقت تک مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھی لیکن پیپلز پارٹی کی جانب سے جو غیرسنجیدہ رویہ اختیار کیا گیا وہ ہمارے لیے انتہائی مایوس کن ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس بات چیت کی ناکامی کی ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک طرف تو مذاکرات اور بات چیت کے نام پر وقت گزارا جاتا رہا، صرف خوش کن باتیں کی جاتی رہیں اور دوسری جانب پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بعض ایسے اقدامات بھی کیے گئے جو ہمارے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ گزشتہ روز شعیب سڈل کو آئی جی سندھ مقرر کردیا گیا جس کے بارے میں ملک خصوصاً کراچی کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ شعیب سڈل پیپلز پارٹی کے دور میں ایم کیو ایم کے ہزراوں کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں شریک ہے۔ اس تعیناتی پر ہمارے شہداء کے لواحقین، ایم کیو ایم کے کارکنان اور حق پرست عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہم نے شعیب سڈل کی تعیناتی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو پیپلز پارٹی کی جانب سے ہم سے کہا گیا کہ شعیب سڈل ہمارا ہیرو ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور ایسے افسران کو بھی تعینات کیا گیا ہے جو ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں۔ اس تمام صورتحال سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت میں سنجیدہ نہیں ہے لہٰذا رابطہ کمیٹی نے آج اپنے اجلاس میں ساری صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ وفاق اور صوبہ سندھ میں حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔ اس فیصلے کی توثیق قائد تحریک الطاف حسین نے بھی کردی ہے۔ ہم ایک مثبت اور تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، ہم حکومت کی راہ میں بلاجواز رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے ملک اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں حکومت کے تمام مثبت اقدامات کی حمایت کریں گے اور خصوصاً سندھ میں امن و بھائی چارے اور یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ہم اپنی مفاہمانہ پالیسی پر عمل جاری رکھیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک جن خطرات میں گھرا ہوا ہے اس میں ملک کو مخاصمت اور ٹکراؤ کی نہیں بلکہ مفاہمت اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی عزت و وقار اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یقیناً حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن بھی جمہوریت کا حصہ ہوتی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ایم کیو ایم کے اپوزیشن کے کردار کا بھی احترام کرے گی۔ ہم یہاں یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ریاستی طاقت اور جبر کے ذریعے ہمیں دبالیا جائے گا تو ہم یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ 1995ء نہیں 2008ء ہے اور اب کسی کی بھی آواز کو طاقت کے ذریعے نہیں دبایاجاسکتا۔ ہم ماضی میں بھی ہر کڑی آزمائش میں ثابت قدم رہے ہیں، آج بھی ثابت قدم ہیں اور کڑی سے کڑی آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمارے حوصلوں میں رتی برابر بھی کمی نہ آئی ہے اور نہ آسکتی ہے۔ ہم ایم کیو ایم کے تمام کارکنوں اور حق پرست عوام سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور متحدومنظم رہیں۔ ہم حق پرست ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی، سینیٹ کے ممبران،سٹی و ڈسٹرکٹ ناظمین، تعلقہ ناظمین، ٹاؤن ناظمین، یو سی ناظمین، نائب ناظمین، کونسلرز اور کارکنوں سے بھی کہتے ہیں کہ وہ حالات پر کڑی نظر رکھیں، اپنے اتحاد کو مضبوط بنائیں اور عوام میں جاکر انہیں حالات سے آگاہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مذاکرات میں ابھی حکومت سازی یا وزارتوں پر بات چیت کا لمحہ نہیں آیاتھا۔ سینیٹر بابر غوری نے کہاکہ عوامی مینڈیٹ کے مطابق پاور شیئرنگ کی بات ہوئی ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|