پیپلز پارٹی میں نووارد توقیر ضیاء اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار
پیپلز پارٹی میں نووارد توقیر ضیاء اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار
اسلام آباد (رپورٹ:عمر چیمہ) بینظیر بھٹو کے قتل سے بہت سے نوواردوں کا سیاسی مستقبل بے یقینی کا شکار ہو گیا، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء بھی ان سے علیحدہ نہیں اگرچہ ان کا دعویٰ ہے کہ صرف ایک ملاقات میں انہوں نے بینظیر بھٹو کے ساتھ موثر ذہنی آہنگی قائم کر لی تھی۔ سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف ایک موقع پر پیپلزپارٹی نے بدعنوانی کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی کے نئے لیڈروں کے خیالات سے آگاہ ہونے کے بعد ہی وہ اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی قیادت کے ذہن کا اندازہ لگانا ہو گا کہ وہ میرے بارے میں کیاسوچتے ہیں اور مجھ سے کیا کام لے سکتے ہیں۔ توقیر ضیاء نے تسلیم کیا کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ان کے دیرینہ روابط نہیں تھے مگر انہوں نے مقتول چیئر پرسن پی پی پی کے ساتھ مثالی ہم آہنگی قائم ہونے کے بارے میں دعویٰ کیا۔ اپنے قتل سے ایک روز قبل 26 دسمبر کو انتخابی مہم کے سلسلہ میں پشاور کے دورے میں صرف ایک ملاقات کے دوران انہیں مرحومہ بینظیر کا اعتماد کرنے میں بہت کم وقت لگا۔ پارٹی میں ان کی شمولیت کے اوائل دسمبرمیں ہو جانے کے باوجو دضیاء نے کہا کہ بینظیر سے میری پہلی ملاقات ان کے پشاور جاتے ہوئے ہوئی جہاں انہیں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرنا تھا، بینظیر نے ایک ای میل بھیجی جس میں توقیر ضیاء کے ان کے ہمراہ پشاور جانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور وہاں مجھے ان کا اعتماد حاصل ہوا، ہم نے اکٹھے سفر کیا اور اچھے طریقے سے تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ضیاء نے کہا کہ انہوں نے میری باتیں انتہائی دلچسپی کے ساتھ سنیں۔ پشاور یاترا کے علاوہ بینظیر سے کسی ملاقات کے بارے میں استفسار پر انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی حیثیت میں ان کے نیشنل ڈیفنس کالج آنے پر اور جب وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز تھے ان کی بینظیر سے ملاقات ہوئی۔ اس سوال پر کہ پی پی پی میں ان کا جانا کس طرح ممکن ہوا توقیر ضیاء نے کہاکہ پارٹی کے صوبائی لیڈر قاسم ضیاء نے مجھ سے رابطہ کیا، مجھ سے عمران خان اور قاسم ضیاء دونوں نے رابطہ کیا۔ پی پی پی میں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگرچہ میں جہانگیر بدر سے اکثر ملتا رہتا ہوں مگر میں اپنی افادیت کے فیصلہ کیلئے اعلیٰ قیادت آصف علی زرداری اور مخدوم امین فہیم کا منتظر ہوں تاہم جہانگیر بدر نے توقیر ضیاء کو پارٹی کیلئے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر نے ان کی بہت تعریف کی، بینظیر بھٹو نے ضیاء کو ایک بہادر شخص کہا، وہ بینظیر کے راولپنڈی میں آخری خطاب کے دوران سٹیج پر موجود تھے۔ بدر نے کہا کہ ضیاء پوری طرح پی پی پی کا حصہ ہیں۔ ضیاء وہ شخص ہیں جن کے خلاف پی پی پی نے جب وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے نیب میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کیا۔ 7 پریل 2005ء کو دائر ریفرنس میں ان پر حکومتی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک مہنگی سرکاری کار اس کی اصل قیمت کے نصف سے بھی کم پر خریدنے کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ تمام تفصیل پی پی پی کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی۔ ضیاء کے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیارکرنے کے بعد بھی بینظیر بھٹو کے ایک ترجمان نے کہاکہ پارٹی اس ریفرنس کی پیروی جاری رکھے گی۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی نیب کا فرض ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کی صورت میں اس نوعیت کے ریفرنسوں کی مخالف پیروی جاری رکھی جائے گی۔
|