|
پیپلز پارٹی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرنےوالی واحد جماعت

02-03-11, 04:23 AM
کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“ میں میزبان کامران خان نے اپنے تجزیے میں کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جب کہ اس کے پاس یہ آپشن موجود تھا کہ وہ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے سے تقریباً 4 سے 5 ارب روپے سالانہ بچا تی اورغریب عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت سے محفوظ رکھتی لیکن چونکہ حکومت کے اپنے اخراجات بے پناہ ہیں اور اسے اسٹیٹ بینک کے ذریعے روزانہ 2ارب کے نوٹ چھاپنے پڑ رہے ہیں اس لئے حکومت کے پاس اس زہریلی گولی نگلنے کے سوا چارہ نہیں تھا، اس پرکوئی بھی سیاسی رد عمل ہو سکتا ہے اور ابتدائی طور پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں پی پی کے خلاف نظر آتی ہیں، اورپیٹرول کی قیمت میں اضافے کا دفاع کرتے پیپلز پارٹی واحد جماعت نظر آتی ہے،سینیٹ میں ق لیگ اور جماعت اسلامی نے تحریک التواءبھی جمع کروائی ہے، جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں اضافے کے خلاف درخواست دائر کردی گئی ہے، اسی طرح کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے جمعرات سے غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، پنجاب میں اربن سٹی بس نے انٹر سٹی کرایوں میں 20فیصد اضافہ کیا جسے عوام نے مسترد کر دیا، کراچی میں سنی تحریک کی جانب سے جمعے کو ہڑتال کا اعلان کیا گےا ہے۔چیمبر آف کامرس انڈسٹری نے حکومت سے کہا ہے کہ اس سے پاکستان میں پیداواری لاگت پر فرق پڑے گاجس سے ایکسپورٹ میں کمی آسکتی ہے اور مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، متحدہ قومی موومنٹ نے اس اضافے پر ایک بار پھر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور حکومت کو اس اضافے کو واپس لینے کے لئے 3دن کی مہلت دی ہے، متحدہ اس سے قبل بھی اضافے کے خلاف حکومت سے الگ ہو چکی ہے۔کامران خان نے فاروق ستار سے پوچھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف ایم کیو ایم کا کیا رد عمل ہو گا، جس کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل بھی اضافے کے خلاف فوری رد عمل کا مظاہرہ کیا اورنہ صرف وفاقی کابینہ سے باہر آئے بلکہ حکومت کے ٹریژری بینچ سے بھی باہر آئے، ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے جو 9تجاویز کا مسودہ حکومت کو دیا تھا اگر حکومت اس پر چلتی اور الطاف حسین کے معاشی وژن کو فالو کرتی تو یہ اضافہ نہ کرنا پڑتا۔حکومت جاگیرداروں ، سرمایہ داروں پر ٹیکس لگاتی نہیں اور غریب عوام کو مزید کچل رہی ہے،حکومت نے پیٹرول پر لیوی کے نام سے ایک بھتہ بھی لگایا ہوا ہے اگر اس کو ہی ختم کر دیا جائے اور دیگر ذرائع مثلا ٹیکس چوروں اور منافع خوری کاسد باب کریں تو یہ سب اضافہ نہ کرنا پڑے، میری ذاتی رائے یہ ہو سکتی ہے کہ ہم ایک بار پھر حکومت سے الگ ہو جائیں لیکن ہم بہت سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ عوام کو متحد کیا جائے کیوںکہ اس وقت عوام میں ایک لاوا پک رہا ہے اور اگر وہ پھٹ گیا تو پھراس انقلاب میں کوئی نظم و نسق نہیں رہے گا اور اس کی کوئی منزل نہیں ہوگی اور یہ صورتحال انارکی کی جانب چلی جائے گی جو ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے،اس موقع پر کامران خان نے پوچھا کہ کیا یہی وجہ ہے کہ الطاف حسین فوج کو آگے آنے کی دعوت دے رہے ہیں جس کے جواب میں فاروق ستار نے کہا کہ الطاف حسین نے یہ بات ان جرنیلوں سے کی جو محب وطن ہیں اور کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ورنہ ملک انارکی کی جانب چلا جائے گا۔
ڈی جی ایف آئی اے کی رخصتی، کیا حکومت سپریم کورٹ کو پھر چکما دے گئی اس حوالے سے کامران خان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے منگل کو آخری بار براہ راست حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر کرپشن کی تحقیقات کرنے والے ادارے ایف آئی اے کے ڈی جی وسیم احمد کو فوری طور پر بر طرف کرے جو کہ اس تحقیقات میں رکاوٹ بن رہے ہیں، اور کرپشن کے تین بڑے کیسز کی تحقیقات میں رکاوٹ بن رہے ہیں، ان کیسز میں اسٹیل مل کرپشن،نیشنل انشورنس کارپوریشن اور حج اسکینڈل کیسز شامل ہیں، ان تینوں کیسز میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی،سپریم کورٹ مسلسل ڈی جی وسیم احمد کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھا رہی ہے۔ میزبان کامران خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کا نام حج اسکینڈل کے دوران خبروں میں آیا۔ حج اسکینڈل کی تحقیقات کے دوران سپریم کورٹ میں بتایا گیا کہ حج اسکینڈل کے ایک مشتبہ ملزم زین سکھیرا کے مطابق عبدالقادر گیلانی نے دبئی سے ایک بلٹ پروف لینڈ کروزر امپورٹ کی تھی جس کی مالیت 2 کروڑ روپے کے قریب ہے اس بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ممکن ہے اس گاڑی کا تعلق ان لوگوں سے ہو جو کہ حج اسکینڈل میں براہ راست ملوث ہوں۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا تھا، وہ تحقیقات اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو اہم تازہ ترین معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کی مالی حیثیت میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ انکشاف آج دی نیوز کے ممتاز انویسٹی گیٹو رپورٹر عمر چیمہ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں باقاعدہ سرکاری دستاویزات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ ان سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2008ءکے انتخابات سے قبل عبدالقادر گیلانی کے ذاتی اثاثوں کی مالیت 85لاکھ روپے تھی جو انہوں نے 2008ءمیں ڈیکلیئر کی تھی۔ جون 2009ءمیں انہوں نے اپنے جو اثاثے ڈیکلیئر کئے ہیں وہ 7کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ چکے ہیںاور وہ انکم ٹیکس نہیں دیتے ہیں۔ کامران خان نے عبدالقادر گیلانی کے اثاثوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے 2008ءمیں عبدالقادر گیلانی کے پاس 50تولہ سونا تھا جو اب 500 تولہ ہوچکا ہے۔ 21لاکھ روپے کے بینک اکاﺅنٹس تھے جو کہ اب 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کے ہوچکے ہیں۔ 110 ایکڑ زرعی زمین تھی جو اب 123 ایکڑ ہوچکی ہے۔ 16لاکھ روپے مالیت کی گاڑی ان کے پاس تھی اور اب 20 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی ان کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس 3لاکھ روپے کا فرنیچر ہے اور اب انہوں نے ڈیکلیئر کیا ہے کہ ان کے پاس 20 لاکھ روپے کا فرنیچر ہے ۔ ان کے پاس 20لاکھ روپے کے پرائز بانڈ بھی ہیں۔ ڈی ایچ اے لاہور میں 3کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا مکان اور ایک کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی بلٹ پروف گاڑی ہے۔ کامران خان نے بتایا کہ وزیراعظم یوسف گیلانی کی اہلیہ محترمہ فوزیہ گیلانی کے حوالے سے جواعداد و شمار سرکاری طور پر جاری ہوئے اس کے مطابق 2008ءمیں جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اقتدار سنبھالا تو ان کے ذمے 35 کروڑ 40 لاکھ روپے کے واجب الادا قرضے تھے جبکہ 2009ءمیں 12 فیصد یعنی چار کروڑ پچاس لاکھ کی ادائیگی پر ان کے خلاف مقدمات واپس لے لئے گئے تھے اور بقیہ 31کروڑ روپے سے زائد کے قرضے معاف کردیئے گئے تھے اور 12 فیصد رقم بھی 12 ماہانہ قسطوں میں ادا کرنے کی خصوصی رعایت انہیں دی گئی تھی۔ یہ محترمہ فوزیہ گیلانی کے ساتھ ان کیسز میں ہوا جو نیب نے ان کے خلاف رجسٹر کیے تھے۔ اور ان کا تعلق ان قرضوں سے ہے جو انہوں نے اپنے بزنس انٹرپرائزز کے لئے حاصل کیے تھے۔ دی نیوز اخبار کے ممتاز انویسٹی گیٹو رپورٹر عمر چیمہ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے گھرانے کی مالی حیثیت کے بارے میں اپنی رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار ان کا اپنا اعتراف ہے۔ انہوں نے یہ تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس جمع کرائی ہے اور ابھی ان کی 2010ءکی تفصیل آنی ہے۔ عمر چیمہ نے بتایا کہ یہ لوگ بینک میں پیسے کم رکھتے ہیں زیادہ تر کیش یہ اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ وزیراعظم کے صاحبزادے پرائز بانڈ کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کی اپنی زرعی زمین ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی ڈیکلیریشن میں 2009ءملتان میں اپنا ایک گھر ظاہر کیا ہے جو 2008ءمیں ان کے پاس نہیں تھا۔ انہوں نے اس کی وضاحت یہ دی ہے کہ میں نے یہ گھر اپنی زمین فروخت کر کے لیا ہے۔ انہوں نے غالباً حمید پور میں اپنی زمین فروخت کی ہے اور عبدالقادر گیلانی نے اسی سال اسی حمید پور سے ہی زمین خریدی ہے ، اس پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا باپ نے بیٹے کو زمین بیچی ہے؟ دی نیوز کے انویسٹی گیٹو رپورٹر نے بتایا کہ میں نے پچھلا پورا ہفتہ روزانہ ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، وزیراعظم کے ترجمان سے بات کی کہ میں اثاثوں کے حوالے سے ان سے بات کرنا چاہ رہا ہوںجس پر انہوں نے مجھے ایک نمبر دیا جس پر میں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے نہ تو میری کال اٹینڈ کی اور نہ ہی کسی میسج کا رسپانس دیا۔ محترمہ فوزیہ گیلانی کے قرضوں سے متعلق گفتگوکرتے ہوئے عمر چیمہ نے بتایا کہ ان کے قرضوں کے معاملات سیٹل ہوچکے ہیں اور انہوں نے جو 12 فیصد رقم دینی تھی وہ بھی 12 قسطوں میں دی ہے۔ ایک قرضہ انہوں نے 1987ءمیں اور دوسرا قرضہ 1989ءمیں لیا تھا ۔ ان کی اسی وقت کی پیمنٹ ابھی تک باقی تھی۔ وزیراعظم گیلانی کی وائف ان کی dependent ہیں ۔ انہوں نے یہ ساڑھے چار کروڑ روپے کہاں سے ادا کئے ہیں اس کا ذکر وزیراعظم کے کاغذات نامزدگی میں موجود نہیں ہے ۔ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے میزبان کامران خان نے کہاکہ مغربی میڈیا میں بھی یہ بات کہی جارہی ہے کہ امریکا نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پاکستان اور دنیا کو بیوقوف بنایا ۔برطانیہ کے ممتاز اخبار گارڈین میں برطانیہ کے سابق سفارتکار کا ایک مضمو ن شائع ہوا ہے ۔ کریک مرے کے اس مضمون کے مطابق امریکا نے نہ صرف سراسر زیادتی کی ہے بلکہ اس نے اپنے صدر کو بھی یہ کہلواکر پریشان اور رسوا کیا کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتکار ہے۔ کریک مرے نے لکھا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کی سفارتی حیثیت کی تصدیق اور ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ پر غلط بیانی انتہائی دکھ کی بات ہے۔ ویانا کنونشن کے مطابق مکمل سفارتی استثنیٰ صرف سفارتی ایجنٹس کو حاصل ہوتا ہے جو کہ ویانا کنونشن کے تحت کسی مشن کا سربراہ یا اس مشن کے سفارتی عملے کا رکن ہوتا ہے، تشریح کے مطابق سفارتی عملے کے پاس سفارتی عہدہ ہوتا ہے جو کہ تھرڈ سیکرٹری سے سفیر یا ہائی کمشنر تک جاتا ہے اور ڈیوس کے پاس مذکورہ سفارتی عہدہ نہیں تھا۔ کسی بھی بیرونی مشن کے انتظامی اور تیکنیکی عملے کوا گرچہ محدود سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے لیکن اس میں وہ کارروائیاں شامل نہیں جو ان کی ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہوتیں۔ آگے چل کر کریک مرے نے لکھا کہ امریکا تصدیق کرچکا ہے کہ ڈیوس کا تعلق انتظامی اور تکنیکی عملے سے تھا اور امریکا کو واضح کرنا ہوگا کہ ڈیوس ہتھیار، فلیش لائٹ اور ٹیلی اسکوپ سے لیس کون سی سفارتی ذمہ داریاں ادا کررہا تھا۔ ویانا کنونشن میں سفارتخانوں کی قانونی ڈیوٹیز کی فہرست دی گئی ہے اور کسی بھی نکتے کے تحت مذکورہ آلات رکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کسی بھی صورت میں یہ ممکن نہیں کہ ڈیوس کو سفارت یا قونصل خانے کے تکنیکی اسٹاف کا ممبر قرار دیا جاسکے، ویانا کنونشن کی شق 10 کہتی ہے کہ میزبان ملک کے حکام کو سفارتی نوٹس کے ذریعے مذکورہ اسٹاف کے ارکان کی آمد اور روانگی کی باقاعدہ تفصیل فراہم کی جاتی ہے۔ ویانا کنونشن کی شق11 کے تحت سفارتکاروں کی عددی تفصیلات پہلے سے طے ہوتی ہیں اور کسی بھی سفارتکار کی تصدیق اسی صورت میں کی جاتی ہے جب کوئی دوسرا رکن میزبان ملک چھوڑ رہا ہوتا ہے، ڈیوس کے معاملے میں اگر یہ شق پوری نہیں ہوتی تو ذمہ داریاں نبھانے کے دعوﺅں کے باوجود ڈیوس پر کوئی استثنیٰ لاگو نہیں ہوتا۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ ڈیوس کے حوالے سے کوئی سفارتی نوٹ نہیں دیا گیا اور امریکا اس کے برعکس دعویٰ کرتا ہے تو یہ نوٹ کیوں پیش نہیں کیا گیا، اور حقیقت یہ ہے کہ سفارتی پاسپورٹ پر کسی کو بھی دنیا بھر میں سفارتی حیثیت حاصل نہیں ہوجاتی۔ امریکی حکومت اور میڈیا نے جان بوجھ کر ڈیوس معاملے کو الجھا دیا ہے اور عالمی قوانین کے بنیادی اصولوں سے انحراف کا جاری امریکی سلسلہ افسوسناک ہے۔ کامران خان نے کہا کہ یہ تمام باتیں پاکستانی میڈیا یا عوام نے نہیں بلکہ برطانیہ کے سابق سفارتکار کریک مرے نے ممتاز برطانوی اخبار گارڈین میںکہی ہیں۔اپنے مضمون میں انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ میڈیا غور سے ویانا کنونشن کو پڑھ ہی نہیں رہا جس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|