|
پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کیلئے 260 ،(ق) لیگ کے 200 امیدوار

10-12-07, 10:36 AM
پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی کیلئے 260 ،(ق) لیگ کے 200 امیدوار
اسلام آباد (طارق بٹ) پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی 272 جنرل سیٹوں پر سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرکے تمام سیاسی پارٹیوں سے سبقت لے گئی ہے سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ”دی نیوز“ کو بتایا کہ پارٹی نے ایوان زیریں کے لیے 260 امیدواروں کا اعلان کیا ہے، پیپلز پارٹی کی حریف مسلم لیگ (ق) نے 200 سے زائد سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں لیکن سندھ کے کئی حلقوں میں مسلم لیگ (ق) نے اپنے امیدوار کھڑے نہیں کئے وہاں وہ مسلم لیگ فنکشنل اور ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کر رہی ہے۔ پنجاب جہاں انتخابی معرکے کی سب سے بڑی جنگ لڑی جائے گی میں پیپلز پارٹی نے تقریباً تمام 148 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں اسی طرح مسلم لیگ (ق) نے بھی ہر حلقے میں امیدوار کھڑے کیے ہیں جو سب سے بڑے صوبے میں کامیابی کی بناء پر وفاقی حکومت بنانا چاہ رہی ہے، پنجاب کی 148 سیٹوں پر مسلم لیگ ق نے 137 امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ باقی 11 پر وہ بااثر امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے جیسا کہ مسلم لیگ ق دعویٰ کر رہی ہے، یہ تاثر عام ہے کہ یہ جماعت پنجاب میں سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کھڑے کر رہی ہے جو اپنے حلقوں میں بڑا اثر رکھتے ہیں ان میں سے اکثریت سابق ارکان اسمبلی کی ہے ایک تاثر ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ق کے مقابلے میں کمزور امیدوار سامنے لائی ہے لیکن فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ہم نے نہ صرف مضبوط ترین امیدواروں کو کھڑا کیا ہے بلکہ ان امیدواروں کے ساتھ مضبوط جماعت اور انتخابی نشان تیر ہے جو بڑا فرق ڈالے گا۔ ہم نے مہم کو تیز کر دیا ہے اگر انتخابات شفاف اور غیر جابندارانہ ہوئے تو پیپلز پارٹی اپنے کارکنوں کی محنت سے کلین سویپ کرے گی، پیپلز پارٹی کے حلقے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نواز شریف کے الیکشن لڑنے کا پارٹی کو زبردست فائدہ ہو گا اور اتنا ہی نقصان ق لیگ کو ہو گا دونوں لیگوں کا ووٹ تقسیم ہونا، پیپلز پارٹی کے فائدے میں جائے گا۔ محترمہ بینظیر بھٹو سے حالیہ ملاقات میں بھی میاں نواز شریف نے یہی بات کی تھی انہوں نے کہا تھا کہ غداروں اور وفاداریاں بدلنے والوں کی قسمت میں ایسا ہونا ہوتا ہے۔۔ پیپلز پارٹی کے حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو بڑی طاقتور مہم چلاتی ہیں جبکہ نواز شریف کی اس معاملے میں قابلیت پر بھی شک نہیں کیا جا سکتا ان کے مطابق جب محترمہ بینظیر بھٹو پوری قوت سے انتخابی مہم چلائیں گی تو کئی برج الٹ جائیں گے اور تمام اندازے دھرے رہ جائیں گے میاں نواز شریف کی واپسی سے قبل مسلم لیگ ق پنجاب سے 110 نشستوں کو حاصل کرنے کا کہہ رہی تھی لیکن جب وہ واپس آئے تو ق لیگ کے اندازے کم ہوتے گئے اب یہ کہہ رہی ہے کہ نواز شریف کی واپسی سے ق لیگ کی 25 نشستوں پر نتائج بدل سکتے ہیں۔ اس کے رہنما نجی طور پر اعتراف کر رہے ہیں کہ شہروں میں مسلم لیگ (ن) اکثریت رکھتی ہے اور کلین سویپ کرے گی جس سے مسلم لیگ ق کہیں نظر نہیں آ رہی، اپنی واپسی کے بعد بغیر کسی تیاری کے نواز شریف نے دو جلسوں سے خطاب کیا ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی انہوں نے صدر پرویز کے خلاف جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور کہا کہ انتخابات کو صدر کے خلاف ریفرنڈم بنا دیں گے دوسری طرف مسلم لیگ ق اب تک اس طرح کی کوئی ریلی نہیں نکال سکی اس کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں اور اب یہ اپنے امیدواروں کی طرف سے انفرادی طور پر حلقوں میں چلائی جانے والی مہم پر تکیہ کر رہی ہے اس کا کہنا ہے کہ پچھلے 5سالوں میں کئے گئے بے شمار ترقیاتی کاموں کے اثرات ملنے کا وقت آ گیا ہے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|