|
پی سی اوججوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے، پاکستان بار کونسل

21-11-07, 08:31 AM
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ ملک بھر میں پی سی او ججوں کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔ بار کونسل نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں نے پی سی اوکے تحت حلف اٹھا کر قوم سے غداری کی اور عدلیہ اور آئین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ 2 نومبر کی عدلیہ کی بحالی وکلاء کی اولین ترجیح ہے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے پی سی او ججوں کا بائیکاٹ جاری رہے گا تاہم اس سلسلے میں 3 دسمبر کو صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ وکلاء برادری گھروں پر نظربند اور آئین کے تحت فرائض کی انجام دہی سے زبردستی روکے جانے والے ججوں کی بحالی کی خاطر اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ وکلاء کا اوّلین مطالبہ 2 نومبر کی عدلیہ کی بحالی ہے جبکہ باقی تمام مطالبات عدلیہ کی بحالی کے بعد آتے ہیں۔ پاکستان بار کونسل نے ایمرجنسی اور پی سی او کے خلاف اے پی ڈی ایم کی 23 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال کی حمایت کر دی لہٰذا وکلاء 23 نومبر کو ملک گیر ہڑتال اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ بار کونسل نے کہا کہ چوہدری اعتزاز احسن، منیر اے ملک، طارق محمود، علی احمد کرد اور امداد علی اعوان سے جیلوں میں برا سلوک کیا جا رہا ہے لہٰذا ان وکلاء کا فوری طور پر آزادانہ میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرا کے رپورٹ عوام کے لئے جاری کرائے۔ پاکستان بار کونسل کا اجلاس گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک نامعلوم مقام پر ہوا اجلاس کے دوران اسلام آباد سے باہر وکلاء رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کر کے یہ فیصلے کیے گئے اس اجلاس کی کارروائی پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ نے اپنے دستخطوں سے جاری کی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|