|
پی ٹی اے نے تجارتی اور کمیونٹی کی بنیاد پر موبائل فون سروس کی اجازت دیدی

14-04-08, 10:21 AM
پی ٹی اے نے تجارتی اور کمیونٹی کی بنیاد پر موبائل فون سروس کی اجازت دیدی
اسلام آباد(ابرار مصطفی‘ خصوصی رپورٹر) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تجارتی اور کمیونٹی کی بنیاد پر موبائل فون سروس شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ سہولت ان اداروں اور تنظیموں کو حاصل ہو گی جن کے پاس موبائل فون سپیکٹرم نہیں ہو گا۔ تاہم وہ نیٹ ورک اور ٹاور کی تنصیب کر سکتے ہوں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے موبائل ورچل نیٹ ورک آپریٹرز (mvno) کے نام سے پالیسی جاری کر دی ہے جو موبائل فون پالیسی 2004ء کی شق 6.12 کے تحت جاری کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت تمام ایسے تجارتی ادارے اور تنظیمیں اپنی موبائل فون سروس شروع کر سکتی ہیں اس سلسلہ میں ان کو چھ موبائل فون کمپنیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ معاہدہ کرنا ہو گا جس کی حتمی منظوری (پی ٹی اے) دے گی۔ اس پالیسی کے تحت پانچ ماڈلز جاری ہوئے ہیں۔ خواہش مند اداروں اور تنظیموں کو ان پانچ ماڈلز میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ پی ٹی اے کے پالیسی فریم ورک کے تحت صرف ایسے ادارے اور تنظیمیں موبائل فون سروس شروع کر سکیں گی جو سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں۔ نجی کاروباری و تجارتی ادارے اور تنظیمیں اپنے (برانڈ نیم) تجارتی نام کے ساتھ سروس شروع کر سکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں پی ٹی اے متعلقہ اداروں کے لئے الگ نمبرز کا گروپ جاری کرے گی تاکہ اس نام کے ساتھ موبائل فون کنکشن(سم) جاری ہو سکے۔ پالیسی کے تحت معاہدہ کے فریق ایک دوسرے کا نیٹ ورک اور سوئچ رومز استعمال کر سکیں گے۔ ایک فریق اپنا نیٹ ورک بھی قائم کر سکے گا جس پر موبائل فون کمپنی کی سروس اس کے برانڈ نام کے ساتھ شروع کر سکے گا۔ اس سروس کے معیار کو برقرار رکھنا فریقین کی ذمہ داری ہو گی جو پی ٹی اے نے طے کر رکھا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ایسے علاقوں میں بھی موبائل فون سروس شروع ہو سکے گی جن میں ابھی تک موبائل فون کمپنیوں نے سروس فراہم نہیں کی ہے۔ معاہدہ کے تحت نجی ادارہ موبائل فون کمپنی سے سروس(منٹ) حاصل کر کے اپنے صارفین کو فروخت کرے اس طرح وہ ماہانہ اور ہفتہ کی بنیاد پر استعمال ہونے والے منٹ کی ادائیگی کی ذمہ دار ہو گی۔ وہ اپنے صارفین سے وصول کرنے کی پابند ہو گی۔ نجی ادارہ موبائل فون سروس کی فراہمی کے لئے نیٹ ورک اور سوئچ رومز کی تنصیب کر سکے گا لیکن اس نیٹ ورک سے ملکی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہئے۔ پالیسی فریم ورک کے مطابق تمام معاہدوں کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات اور تنصیبات کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ ایک بار معاہدہ ہو جانے کے بعد فریقین اس میں تبدیلی نہیں کر سکیں گے جبکہ پی ٹی اے اس پالیسی پر ضرورت کے پیش نظر نظرثانی کر سکے گی۔ پی ٹی اے کی پالیسی کے بعد ایسے ادارے اور تنظیمیں موبائل فون سروس شروع کر سکیں گی جن کے پاس موبائل فون سروس کا لائسنس نہیں ہے اور نہ ہی اس نے سپیکٹرم کی فیس ادا کی ہو۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|