|
پی پی اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید، سیاسی طوفان بپا کرنیکا الزام

26-09-10, 03:33 AM
اسلام آباد (رؤف کلاسرا) صدر آصف علی زرداری پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں مخصوص قوتوں (سپریم کورٹ آف پاکستان پڑھا جائے) کی طرف سے انہیں پھنسانے کے ایجنڈے پر کام کرنے اور ان تمام کا سامنا کرنے کا واضح اشارہ دینے کے بعد اپنے اور اپنے ہاتھوں سے چنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خلاف کورٹ کے کمرہ نمبر 1میں بڑھتے ہوئے طوفان سے نبردآزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پراعتماد نظر آنے والے صدر زرداری نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ان کی پارٹی کے کچھ ساتھیوں نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں کے کردار پر تنقید کی اور ان پر بقول ان کے بغیر کسی منطقی وجہ کے ملک میں بڑا سیاسی طوفان پیدا کرنے کا الزام لگایا۔ کہا جاتا ہے کہ صدر زرداری نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ (سپریم کورٹ کے جج) مجھے پھنسانے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں لیکن میں ان کا مقابلہ کرونگا۔ اندرونی ذرائع کے مطابق صدر زرداری نے اپنے پارٹی ساتھیوں کو یہ بھی کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے پاس ہونے سے پہلے وہ جانتے تھے کہ ترمیم کے 40سے 50 فیصد حصوں پر عملدرآمد ہو گا۔ اسی لئے وہ یہ جان کر مایوس نہیں تھے کہ اس کی رفتار سست ہے یا اسے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں صدر زرداری کی زیرصدارت ایوان صدر میں موجودہ سیاسی صورتحال اور وزارت قانون کو سپریم کورٹ کی طرف سے وزیراعظم کو سوئس حکام کو صدر زرداری کیخلاف سوئس کیسز دوبارہ کھولنے کیلئے خط لکھنے کے احکامات سے پیدا ہونے والے مہیب بحران پر تبادلہ خیال کیلئے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جب اس نامہ نگار نے صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کا موقف معلوم کرنے کیلئے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے فون کال منقطع کر دی اور اس سلسلہ میں ان کے موبائل فون پر بھیجے جانے والے ایک ٹیکسٹ میسج کا جواب بھی موصول نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اجلاس میں وزیراعظم گیلانی کو بتایا گیا کہ بہتر ہو گا کہ وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت نہ کرنے دی جائے کیونکہ وہ ایک سیاسی آدمی نہیں ہیں اور انہیں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بیزار عام آدمی کی مشکلات اور مسائل پر تشویش نہیں ہے۔ گیلانی کو بے نظیر بھٹو کی تقلید کرنے کا کہا گیا جو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتی تھیں اور عوام دوستانہ فیصلے کیا کرتی تھیں جبکہ وزیراعظم گیلانی ایوان وزیراعظم میں براجمان ہیں اور انہوں نے ڈاکٹر حفیظ جیسے ٹینکوکریٹس کو ملک میں تباہی پھیلانے کی اجازت دیدی ہے۔ تاہم صدر زرداری نے اپنے پارٹی رہنماؤں میں سے ایک لیڈر کے ان ریمارکس کو نہیں سراہا کہ پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (فنکشنل) پراعتماد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جب مشکل وقت آئے گا تو یہ سب سے پہلے اتحاد سے نکل جائینگے۔ صدر زرداری کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں پر اعتماد نہ کیا جائے۔ صدر زرداری نے کہا کہ اس بحران کا سامنا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے رابطہ قائم کیا جائے کیونکہ وہ ایک ذمہ دار سیاسی قوت ہے اور اس کی سیاسی حمایت اس مشکل وقت میں بہت اہمیت کی حامل ہو گی۔ اس معاملے پر پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) سے بات چیت کیلئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو ذمہ داری سونپی جائے۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے صدر اور وزیراعظم پر یہ دباؤ بھی ڈالا کہ کابینہ کے اتنے بڑے سائز کو کم کیا جائے اور گورننس کے حوالے سے سجیدہ کام کئے جائیں تاکہ لوگوں پر ان کا اعتماد قائم ہو۔ سینیٹر رضا ربانی ان ارکان میں شامل ہیں جنہوں نے کابینہ کا سائز کم کرنے کے معاملے کو اٹھایا، رضا ربانی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ 18ویں ترمیم پر اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ زرداری نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ترمیم پر اب تک اس کی صرف 40 سے 50 فیصد شقوں پر عملدرآمد ہوا لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کیلئے کچھ وقت لگے گا۔ رضا ربانی نے صدر اور وزیراعظم سے کہا کہ برطرف سرکاری ملازمین کی دوبارہ بحالی کے بعد ان کے متعلقہ محکمے کوئی مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کررہے۔ بحال ملازمین کو نہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کو کوئی بہتر پوزیشن مہیا کی گئی۔ نواب یوسف تالپور نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) رکن ڈاکٹر صفدر عباسی کو اجلاس میں شرکت سے روکنے کا دھماکہ خیز معاملہ اٹھایا، انہوں نے صدر زرداری پر زور دیا کہ وہ بڑے دل کا مظاہرہ کریں اور پارٹی کے اندر تمام آراء کو سنیں اگرچہ وہ انہیں پسند کرتے ہوں یا ناپسند۔ نواب تالپور نے اپنی حکومت اور وزراء کی تنقید کی اور اس بات کی نشاندہی کی کہ وزراء پارٹی کارکنوں کے تئیں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک قربانیاں پیش کر رہی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے آخری بار اپنی جان کی قربانی دی لیکن نواب کی رائے تھی کہ اب پارٹی کو زیادہ سیاسی نقصان کا سامنا ہے اگر اسے اس کے ماضی سے موازنہ کیا جائے تو پارٹی رہنماؤں اور وزراء کی غیرسنجیدگی کے باعث آیا ہے جو حکمرانی میں آج سنجیدہ نہیں لگتے۔ نواب تالپور ملک میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ سے متعلق زیادہ پریشان تھے۔ انہوں نے قیمتوں کے انڈیکس کی مدد سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والے پارٹی احباب پر واضح کیا کہ حکومتی چیک کے بغیر کس طرح قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوگیا ہے کہ یہ ایک غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے کہ وہ اسے خرید سکے لیکن اس بارے میں کسی کو کوئی پروا نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سی ای سی ممبران تازہ سیاسی ایشوز پر بات کرنے کے بجائے اپنے ذاتی معاملات کو طے کرنے میں لگے رہے اور ایک دوسرے پر حملے کئے۔ پختونخوا کے سی ای سی ارکان نے بھی اپنے بلوچستان کے دوستوں کے طرزعمل کو اپنانے کی کوشش کی لیکن انہیں الزامات سے جوابی الزامات کے کھیل میں شامل ہونے سے روک دیا گیا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی 25 ستمبر 2010ء
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|