|
چارٹرڈ آف ڈیمانڈ تیارکر نے کیلئے8 رکنی کمیٹی قائم،مطالبات ڈیڈ لائن کے اند ر منظور نہ ہوئے تو مل کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر یں گے،نوازبینظیر می

04-12-07, 09:10 AM
اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل)پیپلز پارٹی کی سربراہ اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات ڈیڈ لائن کے اندر منظور نہیں ہوئے تو مل کر بائیکاٹ کا فیصلہ کرینگے،دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں عام انتخابات منصفانہ اور صاف شفاف ہوتے نظر نہیں آتے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر پرویز تحفظات دور کریں، انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کرنا نہیں چاہتے مجبور کیا جارہا ہے، انہوں نے واضح کیا کہ قومیں آمریت میں کمزور ہوتی ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ بحالی جمہوریت کی جدو جہد ہر شہری کا فرض ہے،حکومت سے مطالبات کیلئے چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرنے کیلئے8رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں رضا ربانی ، صفدر عباسی، نوید ملک، عبدالقدیر ،اسحاق ڈار، احسن اقبال، عبدالرحیم مندو خیل اورپروفیسر خورشیدشامل ہیں،تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی زیر قیادت اے پی ڈی ایم کے وفد نے گزشتہ رات یہاں زرداری ہاؤس میں پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو سے ملاقات کی وفد میں راجہ ظفر الحق، اقبال ظفر جھگڑا، محمود خان اچکزئی، تہمینہ دولتانہ، لیاقت بلوچ اور میر حاصل بزنجو شامل تھے جبکہ بینظیر کی معاونت مخدوم امین فہیم، شیری رحمن، ناہید خان، راجہ پرویز اشرف اور رضا ربانی نے کی۔ فریقین نے اس مسئلے پر گفتگو کی کہ آیا انتخابات کا بائیکاٹ موثر ہو گا یا نہیں ہو گا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کا اصرار تھا کہ پیپلزپارٹی 1985 ء کے انتخابات کے بائیکاٹ کے نتائج آج تک پارٹی اور پوری قوم بھگت رہی ہے اس لیے وہ دوبارہ اس قسم کی غلطی نہیں کریں گے کیونکہ انتخابات کے بائیکاٹ کے نتیجے میں ایسی غیر نمائندہ قوتیں قوم پر مسلط ہو جاتی ہیں جن سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کا اصرار تھا کہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے کیونکہ پی سی او اور موجودہ نگران سیٹ اپ کے زیر انتظام ہونے والے انتخابات صاف اور شفاف نہیں ہوں گے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ موجودہ حالات میں عام انتخابات منصفانہ اور صاف شفاف ہوتے نظر نہیں آتے اس لئے ہم حکومت کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کریں گے اور اگر حکومت نے اسے قبول نہ کیا تو ہم دونوں الیکشن کے بائیکاٹ کی طرف جائیں گے۔ گزشتہ رات زرداری ہاؤس اسلام آباد میں اہم مذاکرات کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ میاں نوازشریف نے کئی سیاسی امور سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کااظہار کیا کہ نوازشریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے۔ نوازشریف نے بینظیر بھٹو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہم سے بات چیت کی۔ آئندہ تین سے چار روز میں ہم چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کر کے حکومت کے سامنے رکھیں گے اور اگر اس نے ہمار ے مطالبات پورے نہ کئے تو ہم بائیکا ٹ کی طرف جائیں گے۔ نوازشریف نے کہا کہ ہم بائیکاٹ کرنا نہیں چاہتے ہمیں بائیکاٹ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے صدر مشرف کو ہمارے تحفظات دور کرنا ہوں گے۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی سمیت اے پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں الیکشن کا بائیکا ٹ کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں محترمہ بینظیر بھٹو نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے کافی مطالبات منظور کئے جا چکے ہیں اس لئے ا لیکشن کو منصفانہ بنانے کیلئے ہمارے کچھ مطالبات رہتے ہیں وہ پورے نہ ہوئے تو ہم پھر دونوں بائیکاٹ کی طرف جا سکتے ہیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے بتایا کہ ابھی ججوں کی رہائی باقی رہتی ہے۔ اعتزاز احسن کی نظربندی میں توسیع کی گئی ہے جس پر ہم سب کو تشویش ہے۔ میڈیا پر سے پابندی ہٹائی گئی ہے لیکن جیو پر ابھی تک پابندی ہے جسے ہٹایا جاناچاہئے، کیونکہ جیو سب سے بڑا ٹی وی چینل ہے۔سابق وزراء اعظم نوازشریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان 3گھنٹے تک بات چیت ہوئی حکومت سازی کے بارے میں سوال پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ3گھنٹے میں حکومت سازی کے معاملات طے نہیں ہوتے جس طر ح ہم آج ملے ہیں یہ طے پایا ہے کہ ہم آئندہ بھی اسی طرح فراخدلی سے ملتے رہیں گے۔ اے آر ڈی اور اے پی ڈی ایم اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابات منصفانہ ہونے چاہئیں۔ نوازشریف نے کہا کہ سب کو انتخابات میں حصہ لینے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں ۔پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے امریکی مشقوں کے حوالے سے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ ماضی کے جمہوری حکومتوں کے ادوار میں پاکستان کے جمہوری اثاثوں کو کوئی خطرہ نہیں رہا اور وہ انتہائی محفوظ رہے ہیں کہ وہ پہلے کے ادوار میں ہمارے جوہری ہتھیاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس بات کی بے نظیر بھٹو نے تائید کرتے ہوئے کہا قومیں آمریت میں کمزور ہوتی ہیں اور جو بات ہم سن رہے ہیں وہ افسوسناک ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ہر محب وطن شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ آگے آئے اور جمہوریت بحال کریں اور یہ خطرہ پاکستان کی یکجہتی اور وجود کو ہے ہم دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہماری دھرتی کو کتنا خطرہ ہے مگر جب ایک خلا پیدا ہوتا ہے تو اس کو کوئی نہ کوئی قوت پر کرلیتی ہے اس لیے ضروری ہے ہم ملک میں فوری طور پر جمہوریت بحال کریں اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں تک منتقل کریں اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو اس کے اثرات نہ صرف ہمارے جوہری اثاثوں بلکہ ہمارے پورے ملک اور عوام کے لیے بہت برے ہوں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|