موجودہ حکومت کو عدلیہ کے ذریعے ہٹانے کا تاثردیاجارہا ہے ، عدلیہ اس کا نوٹس لے، تاج حیدر
کراچی (نمائندہ جنگ) حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نے چےئرمین نیب کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل اور سندھ حکومت کے میڈیا کوآرڈینیٹر تاج حیدر نے جمعرات کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلے پر حیرت ہوئی ہے۔ کیونکہ تکنیکی بنیادوںپر چیئرمین نیب کی تقرری کو غلط قرار دیا گیا ہے کون اس بات کا تعین کرےگا کہ وزیراعظم سے مشاورت کی گئی یا نہیں ، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم سے پوچھا تک نہیں کہ آیا انہیں اس تقرری پر اعتراض ہے، موجودہ حکومت کوعدلیہ کے ذریعے ہٹانے کا تاثر دیاجارہا ہے، عدلیہ اس کا نوٹس لے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ سندھ سے تعلق کی وجہ سے جسٹس(ر) دیدار کے خلاف فےصلہ آیا، شرجیل میمن نے پیپلزمیڈیا سیل میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چےئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے حوالہ دےتے ہوئے کہا کہ اداروں کے سربراہوں کا تقرر حکومت کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے اس امر پر حےر ت کا اظہار کیا کہ عد الت میں کئی دیگر اہم مقدمات زیر التوا ہیں انہیں کیوں نہیں اٹھایاجاتا، مہران بینک اسکینڈل، حدیبیہ پیپر ملز کیس اور خصوصاً پنجاب حکومت کا اسٹے آرڈر جس پر برسوں گذر جانے کے باوجود دوسری تاریخ نہیں لگائی جاتی۔ پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی کہ وہ جمعہ کو اپنا کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند رکھیں ۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی مقامی تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ پرامن مظاہرے کریں۔ تاج حیدر نے اپنی پریس کانفرنس مےں کہا کہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی بطور چیئرمین نیب تقرری کے خلاف سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر سندھ میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کا تعلق چونکہ سندھ سے ہے لہٰذا سپریم کورٹ کی طرف سے اس طرح کا فیصلہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کی غیر جانبداری اور دیانتداری مسلم ہے کسی نے ان کی تقرری پر انگلی نہیں اٹھائی۔ سب لوگ یہ توقع کررہے تھے کہ وہ نیب کے چیئرمین کی حیثیت سے کرپشن کے مقدمات میں معروضی فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی عزت اور بحالی کیلئے پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں ہمارے ہی لوگ شہید ہوئے لیکن یہ بات افسوسناک ہے کہ گذشتہ 3 سال سے عدلیہ کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ٹی وی چینلز مسلسل یہ باتیں کررہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو عدلیہ کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔ عدلیہ کو اس تاثر کا نوٹس لینا چاہیے۔ عدلیہ نے جمعرات کو جس قسم کا فیصلہ کیا ہے اس سے یہ تاثر مزید جڑ پکڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کے غم وغصے اور احتجاج کو پرامن رکھنے کیلئے ہڑتال کی کال دی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ تصادم میں نہیں جارہے۔جب ہمارے قائد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پھانسی دینے والے ایک جج نے بعد ازاں ٹی وی چینل پر آکر کہا کہ عدلیہ نے دباﺅ کی بنیاد پر ایک شخص کو قتل کردیا۔ ہم نے شہید بھٹو کے قتل کو ہمیشہ عدالتی قتل قرار دیا ہے اور یہی چیزیں بھی جلد باہر آجائیں گی کہ جمعرات کا سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسے ہوا۔ دریں اثناءپیپلزمیڈیا سیل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہاکہ اداروں کے سربراہوں کا تقررحکومت کا آئینی حق ہے شرجیل میمن نے کہاکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تمام ارکان سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہونگے اورسندھ ہائیکورٹ تک پر امن پیدل مارچ کیا جائے گا۔ انہوںنے سیاسی جماعتوں اورعوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج میں شامل ہوکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں ۔