|
چیف جسٹس کی برہمی پر وکلاءپر پولیس تشدد کی تمام ایف آئی آرز بحال ،بے قابو پولیس کسی کی نہیں سنتی

24-11-10, 05:25 PM
24 نومبر 2010
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس کسی کے کنٹرول میں نہیں اور اِس نے ریاست کے اندر ریاست بنا رکھی ہے اسی لئے پولیس افسروں اور اہلکاروں کیخلاف وکلاء پر تشدد کے مقدمات ختم کردئیے گئے تاہم عدالت عظمیٰ کے اظہار برہمی اور سخت ایکشن کے انتباہ پر انسپکٹر جنرل پولیس نے عدالت میں حاضر ہوکر آگاہ کیا کہ منسوخ کی جانے والی ایف آئی آر بحال کردی گئی ہیں جس پر عدالت نے وکلا ءپر پولیس تشدد کیس کی سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی ۔چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ کے روبرو لاہور کے ایوان عدل میں وکلاءپر پولیس تشدد کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور کے ایوان عدل میں وکلاءپر تشدد کرنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں کیخلاف درج ایف آئی آر ز پولیس نے خود ہی منسوخ کردی ہیں جبکہ تحقیقات ابھی نا مکمل ہیں جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا تو پنجاب حکومت کے سب سے بڑے قانونی افسر ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ پولیس کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے ،اس نے ریاست کے اندر اپنی الگ ریاست بنا رکھی ہے اور کسی کی نہیں سنتی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے انکوائری رپورٹ میں سب کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے لیکن عدالت کوئی ایف آئی آر منسوخ نہیں ہونے نہیںدے گی۔’پولیس نے ایوان عدل میں نوجوان وکلاءپر زیادتی اور ظلم کیا اور تشدد کرکے انہیں لہولہان کردیا‘۔ عدالت نے کیس کی سماعت کچھ دیر موخر کرکے انسپکٹر جنرل پولیس کو حاضر ہونے کا حکم دیا اور واضح کیا کہ عدالت ایف آئی آرز منسوخ نہیں ہونے دے گی ۔ وقفے کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس عدالت میں حاضر ہوئے اور عدالت کے استفسار پر بتایا کہ تشدد کے وقوعہ کے وقت فیصل گلزار ایس پی تھا جبکہ پولیس اہلکاروں کے خلاف منسوخ کی جانے والی ایف آئی آرز بحال کردی گئی ہیں۔اُن کاکہنا تھا کہ کیس کی مزید تفتیش کرائم برانچ کرے گا۔ آئی جی پنجاب نے مزید تفتیش کے لئے دو ہفتے کی مہلت مانگ لی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے پوچھا کہ کسی کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہوئی؟ کسی ڈی آئی جی یا ایس پی کو معطل یا گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ؟تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ پولیس اُن کے کنٹرول میں نہیں اور نہ ہی ایڈوائس سنتی ہے ۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|