|
چینی کی خریداری کا بروقت فیصلہ نہ ہوا تو ایک اور بحران پیدا ہوگا

14-02-11, 05:36 AM
اسلام آباد (اظہر سید، خبر نگار خصوصی) وفاقی وزارت صنعت و تجارت چینی کی خریداری کا بروقت فیصلہ نہ کر کے مستقبل قریب میں ایک اور بحران کی راہ ہموار کر رہی ہے، پاکستان میں اس وقت چینی کی پیداوار 36 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے اور دنیا میں سب سے کم قیمت بھی ہے۔ ذمہ دار حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت بلند ترین سطح پر ہے جو پاکستان پہنچ کر 795 ڈالر فی ٹن پڑے گی، بھارت سے چینی درآمد کی گئی تو وہ بھی 85 روپے فی کلو پڑے گی، پاکستان میں ایکس ملز قیمت 60 روپے فی کلو ہے حکومت 3 لاکھ ٹن چینی خرید کر بفر سٹاک کے طور پر رکھ سکتی ہے، رواں سال چینی کی طلب اور رسد میں دو سے تین لاکھ ٹن عدم توازن کا خدشہ ہو گا اس وقت کم قیمت پر خریدی گئی چینی کو مارکیٹ میں فروخت کر کے حکومت قیمتوں کو مستحکم رکھ سکے گی ورنہ چینی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور عالمی مارکیٹ سے مہنگے داموں چینی خرید کر اس پر اربوں روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت چینی پر 50 فیصد سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی سمری کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں 30 اربے روپے تک کے اضافی وسائل حاصل ہونگے اور چینی کی نئی پیداوار کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں ہو گا، تاہم پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید کیانی کا موقف ہے کہ سیلز ٹیکس کی 50 فیصد چھوٹ ختم کرنے سے چینی کی قیمتوں میں 10 روپے تک کا اضافہ ہو جائے گا اس وقت سیلز ٹیکس 21 روپے فی کلو کی قیمت پر وصول کیا جا رہا ہے اس کی شرح 2 روپے 31 پیسے فی کلو ہے اس مرحلہ پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کی گئی تو ایکسائز ڈیوٹی کے ساتھ اس کی شرح 11 روپے فی کلو تک پہنچ جائے گی، جنگ سے گفتگو میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ چین کا کرشنگ سیزن صرف چار ماہ ہوتا ہے اس لئے سیلز ٹیکس بھی چار ماہ تک وصول کیا جائے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,554
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|