ڈبل کراس کا لفظی مطلب تو یہی ہے کہ کلیساؤں وغیرہ پر لگائی جانے والی صلیبیں جو بعض اوقات دہری بنائی جاتی ہیں۔ لیکن اس کا محاورے والے مطلب سے کوئی واسطہ نہیں جس کے حساب سے یہ دھوکہ بازی کے مفہوم میں برتا جاتا ہے۔ لیکن یہ کسی عام بددیانتی کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عیاری اگر ایسے شخص کی جانب سے ہو جو پہلے آپ کا ساتھی تھا تو آپ کہیں گے اس نے مجھے ڈبل کراس کیا ہے۔
لیکن اس جدید محاورے کی تاریخ جاننے کے لئے ہمیں پہلے تو لفظ کراس کا جائزہ لینا ہوگا۔ سترہویں صدی سے اس کے مفاہیم میں ایک مطلب یہ بھی شامل ہے کہ جب کوئی معاملہ واضح، دیانتدارانہ، دو ٹوک اور منصفانہ، (یعنی انگریزی محاورے میں Square )، نہ ہو تو اسے Cross کہتے۔ یہ زیادہ تر کھیلوں کے سلسلے میں استعمال ہوتا۔ انیسویں صدی میں اسکا مطلب تھا اگر دو کھلاڑیوں جیسے باکسروں میں کسی ایک کو پیسے دئے جائیں تاکہ وہ ہار جائے لیکن پیسے لینے کے بعد وہ مد مقابل کی پٹائی کر دے تو اسے ڈبل کراس کہا جانے لگا یعنی رقم بھی لے لی اور مقابلہ بھی جیت لیا۔
ڈبل ڈِیلنگ، فئیر اینڈ سکوئر ڈیِلنگ کا الٹ ہے۔
اسی طرح دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران برطانیہ میں سرکاری طور پر ڈبل کراسنگ کی اجازت دی گئی۔ اور فوج کر جانب سے 20 Committee قائم کی گئی جو جرمنی کی خفیہ سرگرمیوں کے توڑ کے لئے بنائی گئی تھی اور جسکی سربراہی جان ماسٹر مین نے کی۔ اسکے نام میں جو ہندسے استعمال کئے جاتے ان میں رومن ہونے کے باعث دو ایکس یا کراس ہوتے اور یوں اس پروگرام کے تحت جرمن جاسوسوں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ برطانیہ کے لئے ڈبل ایجنٹ کا کام کریں۔ انہیں ایسی پیشکش کی جاتی کہ جس سے وہ انکار کر ہی نہ سکتے اور وہ یہ تھی کہ جرمنی کوغلط معلومات بھیجو ورنہ تمہیں گولی مار دی جائے گی۔
بعد میں جان ماسٹر مین نے 1972 میں جب اپنی کتاب شائع کی تواسکے بعد ڈبل کراس اور ڈبل ایجنٹ کی اصطلاحات عام بول چال میں استعمال ہونے لگیں۔ کتاب کا نام ہے: The Double-Cross System in the War of 1939-1945