کالعدم نفاذشریعت محمدی نے سوات میں قائم امن کیمپ ختم کردیا ہے جبکہ مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ صدرزرداری امن معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں،دوبار ہ خون خرابہ شروع ہوا تو ذمہ داری حکومت پر ہوگی،صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ برقرار رہے گا، دوسری جانب سرحد حکومت نے صدرِ مملکت پر زور دیا ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو نظام عدل ریگولیشن کے ترمیمی مسودے پر دستخط کردیں۔ مینگورہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ملاکنڈ ڈویڑن میں شریعت کا نفاذ نہیں چاہتی اور وہ احتجاجاً اپنے امن کیمپ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔البتہ صوفی محمد کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور ان کے درمیان ہونے والا معاہدہ برقرار رہے گا۔ صدرآصف علی زرداری امن معاہدے میں روڑے اٹکا رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت بھی معاہدے پر قائم ہے ۔ سوات میں امن وامان قائم کرنے کیلئے نفاذ شریعت کامعاہدہ کیا گیا تھا تاہم حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نفاذ شریعت کیلئے مخلص ہے تاہم وفاقی حکومت اورصدر پاکستان آصف علی زرداری سوات کے علاقے میں شریعت کانفاذ نہیں چاہتی
یہ تحریر کاپی پیسٹ کی ہے اصل حوالہ
Daily UrduPoint.com, Live Urdu News- Updated 24 hoursکالعدم نفاذشریعت محمدی نے سوات میں قائم امن کیمپ ختم کردیا، معاہدہ برقراررکھنے کااعلان ، صدرزرداری امن معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں،دوبار ہ خون خرابہ شروع ہوا تو ذمہ داری حکومت پر ہوگی،مولان