|
کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس محمد افضل سومرو اور جسٹس محمود عالم رضوی نے جیو کی آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔ جیو کے وکی

13-11-07, 09:08 AM
اسلام آباد (نمائندگان جنگ،پ ر) ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد حکومت کی جانب سے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف دارالحکومت سمیت ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے ،اخباری دفاتر اور پریس کلبس پر سیاہ پرچم جبکہ بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا ۔ صحافی رہنماؤں نے کہا کہ 20 نومبر سے صحافی احتجاجیتحریک شروع کریں گے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ آر آئی یو جے کی اپیل پر ملک بھر کے علاوہ دارالحکومت اسلام آباد میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے دفتر کے باہر سینکڑوں صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا جبکہکراچی یونین آف جرنلسٹس کے 2 درجن سے زائد یونٹس میں احتجاجی اجلاس منعقد کئے گئے۔ یونٹس اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ سمیت پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا سے متعلق جاری کردہ آرڈیننس فی الفور واپس لئے جانے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ یونٹ ممبران نے آزادی اظہار پر عائد کردہ غیر قانونی پابندیوں سمیت نجی نیوز و ریڈیو چینلز کی نشریات پر عائد پابندی کو بھی حکومتی دعوؤں کی عملی نفی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ یونٹس اجلاس کے شرکاء کی جانب سے مالکان اخبارات و چینلز کو بھی احتجاجی مہم میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے مزید کہا کہ میڈیا پر اس کڑے وقت میں تمام برادری کی جانب سے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر منظور کردہ قراردادوں میں مالکان اخبارات و نیوز چینلز سے اخباری کارکنوں کو ویج ایوارڈ کی فوری ادائیگی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کئے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ یونٹس کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں میں پی ایف یو جے کی اعلان کردہ احتجاجی مہم کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ دریں اثناء میڈیا کوآرڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے مورخہ 14نومبر بروز بدھ کراچی پریس کلب میں بطور احتجاج صبح 10تا شام 5 بجے بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ادھر اسلام آباد میں راولپنڈی ،اسلام آباد پریس کلب کے صدر مشتاق منہاس ، سیکرٹری جنرل وصدر آر آئی یو جے محمد افضل بٹ ، ، پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس ، طلعت حسین ، محسن رضا نے کہا کہ آزادی صحافت کیلئے لڑی جانے والی طویل جنگ سے ہمیں صحافیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں اور عوام کواس میں شریک کرنے کے لیے حکمت عملی اپنانا ہوگی یہ مشکل ترین وقت ہے آمریت کے سامنے جھکنے کے بجائے ہمیں آئین کی بحالی اور ججز کو انہیں حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہم کسی قدغن کو قبول نہیں کرینگے۔ انہوں نے صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں ۔انہوں نے کہا کہ پندرہ اور بیس نومبر کو ملک بھر میں بھرپور احتجاج ہوگا اور بیس نومبر کے بعد تحریک کا راستہ مرحلہ وار شروع ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لاء ہے صدر جنرل پرویز مشرف قوم کو بتائیں کہ وہ کس آئین اور ضابطہ اخلاق کی بات کرتے ہیں ملک میں آئین معطل ہے ۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|