|
کراچی: امن کی کنجی سیاسی جماعتوں کے پاس

04-08-11, 12:58 AM
امن قائم کرنے کی ذمہ داری ریاست ہی کی ہے۔انسانی حقوق کمیشن
انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے کراچی میں جاری تشدد پر اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا ہے کہ لینڈ مافیا سمیت کئی گروہ کراچی کے امن عامہ کی خراب صورتِ حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر یہ گروہ کراچی میں جاری تشدد کی بنیادی وجہ نہیں ہیں اور کراچی میں موجود طاقت ور سیاسی جماعتوں کے پاس امن کی کنجی ہے۔
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ ایک دوسرے کے جائز سیاسی مفادات کا احترام کرنا چاہیے اور سیاسی فوائد کے لیے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ اس نے جس سے بھی بات وہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی بات کرتا ہے اس لیے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اسلحہ برآمد کرنے کی کوئی مہم شروع نہ کی جاسکے۔
ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ مختلف عوامل کی وجہ سے ریاست کی امن قائم رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے مگر امن قائم کرنے کی ذمہ داری ریاست ہی کی ہے۔
عوام کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے بھی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں جن میں کسی جگہ پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف فون پر شکایت درج کروائی گئی مگر پولیس کا رد عمل بہت ہی سست تھا
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جاری تشدد کی وجوہات جاننے کے لیے جو فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجا تھا اس نے اپنی عبوری رپورٹ پیر کو جاری کردی ۔
ایچ آر سی پی کے مطابق کچھ افراد نے انٹرویوز کے دوران جمہوری حکومت کے کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
عوام کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے بھی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں جن میں کسی جگہ پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف فون پر شکایت درج کروائی گئی مگر پولیس کا رد عمل بہت ہی سست تھا۔ کمیشن کے مطابق جب تک ایسے معاملات کو ٹھیک نہیں کیا جاتا عوام میں پولیس کا اعتماد بحال نہیں ہوسکتا۔
عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی شہر کی آبادی اور اس کے پھیلاؤ میں اضافہ اور اس کے ایک میگا سٹی بننے سے یہاں صحت ، تعلیم ، ٹرانسپورٹ ، پانی ، بجلی ، گیس اور روزگار کے شدید مسائل ہیں جن کے تدارک کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
اس کمیشن کی سربراہی ایچ آر سی پی کی سربراہ زُہرہ یوسف کررہی تھیں جب کے اس میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے کمیشن کے وائس چیئرپرسنز بھی شامل تھے۔
سندھ کے وزیرِ اعلٰی کے پاس ان کے لیے بالکل وقت نہیں تھا اور مشن کی رائے میں یہی وجہ سے کہ سیاسی اتھارٹیزتک سول سوسائٹی کے اداروں کی محدود رسائی کراچی میں نظم و نسق کی تباہی کی وجوہات میں سے ایک ہے
انسانی حقوق کمیشن
ایچ آر سی پی کی پریس ریلیز کے مطابق کمیشن کے اراکین نے سیاسی جماعتوں ، وکلاء ، پولیس ، میڈیا ، اساتذہ سمیت کئی افراد سے ملاقاتیں کیں اس کے علاوہ ہسپتالوں کا بھی دورہ کیا اور ڈاکٹروں اور میڈیکو لیگل سے وابستہ افراد سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وفد نے کٹی پہاڑی سمیت کراچی کے متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے مکینوں اور متاثرہ افراد سے انٹرویو کیے جب کے کھلے عام عوام سے بھی ملاقاتیں کیں۔
کمیشن نے اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ باوجود کوشش کے کمیشن صرف چند سرکاری افسران سے ہی ملاقات کرسکا ۔
کمیشن نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سندھ کے وزیرِ اعلٰی کے پاس ان کے لیے بالکل وقت نہیں تھا اور مشن کی رائے میں یہی وجہ سے کہ سیاسی اتھارٹیزتک سول سوسائٹی کے اداروں کی محدود رسائی کراچی میں نظم و نسق کی تباہی کی وجوہات میں سے ایک ہے۔
ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی جانب سے جمع کیے جانے والے بیانات اور گواہیوں پر مبنی مکمل رپورٹ اس وقت تیاری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
بشکریہ: بی بی سی اردو
__________________
سمندر نے سمندر ،دریا نے دریا جانا مجھے
جسکا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے
|
نیلم خان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|