|
کراچی :میڈیا پرپابندیوں اورجیو کی بندش کیخلاف مظاہرے کرنیوالے صحافیوں پر وحشیانہ لاٹھی چارج،180گرفتار،رات گئے رہائی

21-11-07, 08:11 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں پریس کلب کے قریب میڈیا پر پابندیوں اور جیو کی بندش کیخلاف مظاہرہ کرنے والے صحافیوں پر پولیس نے وحشیانہ لاٹھی چارج اور تشدد کے بعد 180کو گرفتار کر لیا،پریس کلب سے نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء پر پولیس نے دھاوابول دیا اور انہیں گورنر ہاؤس نہ جانے دیا،صحافیوں پرمکے،گھونسوں اور تھپڑ برسائے اور لاتیں بھی ماریں جس سے کئی صحافیوں کے سر پھٹ گئے،پولیس کے تشدد کا نشانہ خواتین صحافی بھی بنیں،پولیس نے صحافیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا جس پر بیشتر نے احتجاجاً گرفتاری دی،صحافتی و انسانی حقوق کی تنظیموں و دیگر نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی پُرزور مذمت کی اور حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا، بعد ازاں گرفتار صحافیوں کو اعلیٰ حکام کی ہدایت پر رات گئے رہا کر دیا گیا۔ گرفتار ہونے والے صحافیوں میں ایک درجن کے قریب خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔ تفصیلات کے مطابق آزادی صحافت پر موجودہ حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں نیز جیو سمیت مختلف نجی ٹی وی اور ریڈیو چینلز کی نشریات بند کئے جانے کے خلاف پی ایف یو جے نے منگل کو کراچی پریس کلب سے گورنر ہاوٴس تک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ احتجاجی ریلی میں شرکت کیلئے پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کے ارکان کی ایک بہت بڑی تعداد پریس کلب پہنچ گئی۔ ریلی کے شرکاء تقریباً 3 بجے آزادی صحافت کے حق میں اور ٹی وی چینلز کی بحالی کیلئے نعرے لگاتے ہوتے پریس کلب سے سڑک پر آئے اور گورنر ہاوٴس کی جانب مارچ کیا۔ پولیس کی بھاری نفری جو کہ گورنر ہاوٴس جانے والے راستے پر تعینات تھی نے ریلی کے شرکاء کو روکا اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں پولیس نے ایک درجن کے قریب صحافیوں کو گرفتار کرلیا جس پر صحافی برادری میں اشتعال پیدا ہوگیا اور انہوں نے پولیس انتظامیہ سے اپنے ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا لیکن انتظامیہ کی جانب سے سرد مہری کے بعدصحافیوں کی بڑی تعداد نے دوبارہ شدید نعرے بازی کرتے ہوئے گورنر ہاوٴس کی جانب مارچ شروع کردیا۔ ریلی کے شرکاء جیسے ہی دین محمد وفائی روڈ پر پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے اعلیٰ حکام کے حکم پر ریلی کے شرکاء پر ھلہ بول دیا جس سے خواتین سمیت کئی صحافی زخمی ہوگئے، کئی کے سر بھی پھٹ گئے۔ پولیس صحافیوں کو تھپڑ، مکے مارتے ہوئے گھسیٹ گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالتی رہی۔ بڑی تعداد میں صحافیوں کی گرفتاری پر ریلی کے شرکاء کی بڑی تعداد نے گرفتار پیش کرنا شروع کردیں جس پر پولیس حکام صحافیوں کو گاڑیوں میں ڈال کر مختلف تھانوں میں لے گئے بعض زخمی صحافیوں کو علاج کیلئے اسپتال پہنچانے کی بجائے موبائلوں میں ڈال کر تھانوں کے حوالات پہنچادیا گیا۔ مختلف تھانوں سے حاصل شدہ رپورٹس کے مطابق 180 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکس تھانے میں 6 خواتین سمیت 37 صحافیوں کو رکھا گیا تھا۔ درخشاں میں 35، کلفٹن میں 30 جبکہ ایک درجن کے قریب صحافیوں کو فریئر پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ گرفتار تمام صحافیوں کو مجرموں کی طرح حوالات میں بند کیا گیا ۔ گرفتار صحافیوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے پریس کلب کے اندر گھسنے کی بھی کوشش کی اور بعض صحافیوں کو پریس کلب کی حدود کے اندر سے بھی گرفتار کیا تاہم بعد ازاں کلب کے گیٹ بند کردیئے گئے۔ پولیس نے کلب کے گیٹ پر کھڑے صحافیوں کو بھی حراست میں لیا۔واضح رہے کہ پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد گرفتار کئے جانے والے صحافیوں کو شہر کے دور دراز میں واقع تھانوں میں منتقل کردیا تھا۔ریلی میں شامل خاتون صحافیوں کو بھی گرفتارکیا گیا ذرائع کے مطابق ایک درجن کے قریب پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کی خواتین کو پولیس نے گرفتار کرکے دور دراز تھانوں میں لیجا کر بند کردیا تھا۔کراچی یونین آف جرنلسٹ (دستور )نے پولیس کی جانب سے پریس کلب کے قریب صحافیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر بڑا حملہ قرار دیا،دستور کے ہنگامی اجلاس میں اس اقدامات کو صحافیوں کو پر امن احتجاج سے روکنے کی سازش قرار دیا گیا ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر محمد نواز رضا اور سیکریٹری جنرل راؤ شمیم نے مشترکہ بیان میں کراچی میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد اور ان کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے مرکزی چیئر مین شفیع الدین اشرف اور ایپنک کراچی کے چیئر مین محمد ذاکر انصاری نے اپنے مشترکہ بیان میں پریس کلب سے نکلنے والی صحافیوں کی ریلی پر پولیس کے تشدد سے صحافیوں کے زخمی ہونے اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جنرل پرویز کی آمرانہ قیادت ،ایمرجنسی اور پی سی او کو ملکی بقاء اور استحکام کیلئے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر ابرار حسن ، ابوالانعام، رشید اے رضوی، عبدالحفیظ لاکھو، اختر حسین، افتخار جاوید قاضی ، امین لاکھانی، شہادت اعوان، مشفع احمد، ساتھی ایم اسحاق، یاسین آزاد، صلاح الدین گنڈا پور، مصطفے لاکھانی، خالد ممتاز، نہال ہاشمی نے پریس کلب پر صحافیوں پر اندھا دھند لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مختلف سیاسی، سماجی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مذہبی شخصیات نے صحافیوں پر لاٹھی چارج اور انہیں گرفتار کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کے اس عمل کو وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے کہا کہ صحافیوں پر تشدد کرنے کے واقعہ کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ جامعہ احتشامیہ کے نائب نے بھی صحافیوں پر لاٹھی چارج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کی مذمت کی ۔ ہیومن رائٹس واچ نے کراچی پریس کلب پر سینئر صحافیوں اور ہیومن رائٹس کے کارکنان پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔امریکا میں موجود پاکستانی صحافیوں کی تنظیم نے کراچی میں صحافیوں اور ٹی وی کیمرہ پرسنز پر پولیس کے وحشیانہ تشدد کی پرزور مذمت کی ہے ۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|