گلا کٹی لاشوں سے شہریوں میں سخت خوف و ہراس،رینجرز و پولیس پر عدم اعتماد، اولڈسٹی ایریا اور لیاری میں کاروبار بند رہا، بلدیہ ٹاون تھانے پر دستی بم سے حملہ اہلکار محفوظ رہے ، میر عالم روڈ پر راکٹ حملے،2دکانیں اورایک بس جلا دی گئیں
شیرشاہ پنکھا ہوٹل سے 4، بغدادی سے3، غنی چورنگی ، ماڑی پور روڈ، گارڈن، سعید آباد، سٹی ریلوے لائن سے 2-2، ناردرن بائی پاس، شاہجہاں آباد سے ایک ایک لاش برآمد، متاثرہ علاقوں میں پو لیس و رینجرز کی بھاری نفری تعینات
کراچی (اعجاز احمد، آصف علی سید)شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ، گھروں، دُکانوں اور بسوں سے اغواءکے بعد 28افراد قتل کر دیئے گئے، دہشت گرد تشدد زدہ لاشیں چلتی گاڑیوں سے پھینکتے رہے، کشیدگی کے باعث اولڈ سٹی ایریا اور لیاری میں کاروبار بند رہا، بلدیہ ٹاون تھانے پر دستی بم سے حملہ کیا گیا لیکن اس میں اہلکار محفوظ رہے ، جوڑیا بازار میں بھی فائرنگ اور بم پھینکا گیا ، میر عالم روڈ پر راکٹ حملے کئے گئے،جبکہ شیرشاہ پنکھا ہوٹل سے 4،بغدادی سے3،غنی چورنگی، ماری پور روڈ، گارڈن، سعید آباد، سٹی ریلوے لائن سے 2-2، ناردرن بائی پاس، شاہجہاں آباد سے ایک ایک لاش ملی ہیں، متاثرہ علاقوں میں پو لیس و رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ فائرنگ اور اغواءکے بعد قتل اور گلے کاٹ کر ہلاک کیے جانے کے واقعات سے شہریوں میں سخت خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے شہریوںکا پولیس ، رینجرز اور سیکیورٹی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا اﷲ کے سوا کوئی محافظ نہیں ہے ، پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری کی تعیناتی کے باوجود شہر کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں اور کسی بھی جگہ قانون کی حکمرانی دکھائی نہیں دیتی۔ شہر کے مختلف علاقوں نیو کراچی، گودھرا کالونی، نارتھ ناظم آباد، لانڈھی، شیرپاﺅ کالونی، گلستان جوہر اور گلشن معمار میں فائرنگ سے 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ شرپسندوں نے 2 دکانیں بھی جلادیں، تفصیلات کے مطابق شہر میںجاری بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات میں شیرشاہ کے علاقے پنکھا ہوٹل کے قریب کھڑی سوزوکی ہائی روف سے 4افراد کی ہاتھ پاﺅں بندھی لاشیں ملیں جنہیں تشدد کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ،مقتولین کی لاشیں سول اسپتال پہنچائی گئیںپولیس کے مطابق مقتولین میں سے تین افراد کی شناخت جاوید ولد جمیل ، مدثر ولد عبدالغفور اور عمران ولد عبدالستار کے نام سے ہوگئی جبکہ ایک شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولین ناگن چورنگی کے رہائشی تھے تینوں افراد موبائل فون کمپنی کے ملازم تھے ، سائٹ تھانے کی حدود غنی چورنگی کے قریب سے دو افراد کی ہاتھ پاوں بندھی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں اغواءکے بعد تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیاتھا۔ ایک مقتول کی شناخت اعجاز ولد عبدالجبار کے نام سے ہوئی ہے پولیس کے مطابق مقتول پاکستان کوارٹرز کا رہائشی تھا اور نیو ٹاون تھانے میں ہیڈ کانسٹیبل تھا دوسرے شخص کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ کلری تھانہ کی حدود ماری پور روڈ پر شنواری ہوٹل کے قریب سے 2 نوجوانوں کی ہاتھ پاﺅں بندھی لاشیں ملیں جنہیں سروں میں گولیاں ماری گئیں، سولجربازار تھانے کی حدود گارڈن میں چڑیاگھر کے قریب سے 2 افراد کی بوری میں بند ہاتھ پاﺅں بندھی لاشیں ملیں جنہیں تشدد کے بعد تیزدھار آلے سے گلاکاٹ کر ہلاک کیاگیا، مقتولین کی عمریں 25 سے 28سال کے درمیان ہیں تاہم ان کی شناخت نہیں ہوسکی ۔بغدادی تھانے کی حدود کلری گراﺅنڈ کے قریب سے 3افراد کی بوری میں بند ہاتھ پاﺅں بندھی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں پولیس نے پوسٹ مارٹم کیلئے سول اسپتال منتقل کردیا، پولیس کے مطابق مقتولین کی عمریں 25 سے 30سال کے درمیان ہےں تاہم ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے لاشوں کی فوری طور پر شناخت ہوسکے۔ بلدیہ ٹاﺅن کے علاقے سعیدآباد میں بھی 2نوجوانوں کی ہاتھ پاﺅں بندھی لاشیں ملیں جنہیں تشدد کے بعد سروں میں گولیاں مارکر ہلاک کیاگیا، پولیس کے مطابق مقتولین کو وحید ولد بشیر اور زبیر کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں مقتولین بلدیہ سیکٹر12کے رہائشی تھے اور سعید آباد میں جوتے کی دکان پر ملازم تھے پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ نبی بخش تھانے کی حدود میںفاطمہ جناح کالج کے قریب بھی ایک نوجوان کی بوری بند لاش ملی ہے۔ منگھوپیر میں ناردرن بائی پاس کے قریب سے 50سالہ نبی بخش ولد کریم داد کی دو روز پرانی لاش ملی جسے پولیس نے پوسٹ مارٹم کیلئے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کے مطابق مقتول علی محمد گوٹھ کا رہائشی تھا ، سٹی ریلوے تھانے کی حدود وزیر مینشن روڈ سٹی ریلوے لائن کے قریب سے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں پولیس کے مطابق مقتولین کو اغواءکے بعد تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت ذیشان ولد الیاس اور شاہ زیب ولد فضل کے نام سے ہوئی ہے مقتولین آپس میں کزن تھے اور نیو کراچی کے رہائشی تھے پولیس کے مطابق دونوں گذشتہ روز اپنی کار میں ماموں سے ملنے کے لیے نکلے تھے تاہم انھیں راستے سے ہی اغواءکر لیا گیا ، رضویہ تھانے کی حدود شاہ جہاں آباد میں ندی کے کنارے سے نامعلوم شخص کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی جسے سول اسپتال لایا گیا، اورنگی ٹاون تھانے کی حدود سیکٹر 8-L قطر اسپتال کے عقب میں خدا بخش روڈ پر فائرنگ سے جاوید عرف کریزی ولد غلام حیدر بلوچ ہلاک ہوگیا پولیس کے مطابق مقتول منشیات فروش تھا ،پی آئی بی کالونی مکرانی پاڑہ میں مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے مبین ، اظہر بلوچ اور زاہدہ پروین کو زخمی کردیا اور فرار ہوگئے ، گلشن اقبال کے علاقے اردو یونیورسٹی کے قریب فائرنگ سے دو افراد زخمی ہوگئے ، بلدیہ ٹاون کے علاقے میں بلدیہ نمبر3میر عالم روڈ نامعلوم ملزمان نے دستی بموں اور راکٹوں سے حملے کیے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اس دوران ملزمان نے بلدیہ ٹاون تھانے پر بھی حملہ کیا جس کے باعث پولیس اہلکار تھانے میں محصور ہوکر رہ گئے شدید فائرنگ کے باعث تھانے کی چھت پر چوکی میں موجود پولیس اہلکار بھاگ کھڑے ہوئے ،ماری پور روڈ پر بھٹو گیٹ کے سامنے نامعلوم ملزمان نے ایک بس کو نذر آتش کردیا ،میٹھادر کے علاقے جوڑیا بازار برتن گلی میں نامعلوم مسلح ملزمان نے شدید فائرنگ کردی اس دوران ملزمان نے دستی بم سے بھی حملہ کیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اطلاع ملنے پرپولیس موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کو کنٹرول کرلیا پولیس کے مطابق دستی بم خالی جگہ گرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوا واضح رہے کہ جوڑیا بازار مارکیٹ دو دن بند رہنے کے بعد کھلی تھی جسے فائرنگ کرکے دوبارہ بند کرادیا گیا فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ،اولڈسٹی ایریا اور لیاری میں کشیدگی کے باعث لی مارکیٹ‘ بولٹن مارکیٹ‘ میٹھادر‘کھارادر‘ ڈینسوہال‘ رنچھوڑلائن میں بازار اور دکانیں بند رہیں اور متاثرہ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ۔ لیاری، آگرہ تاج کالونی میں دستی بم پھینکا گیا، مگر اس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق جمعرات کو تھانہ نیو کراچی انڈسٹریل کی حدود نیو کراچی سیکٹر 11-G گودھرا کالونی میں ایک ٹیکسی پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص 30 سالہ دستگیر ولد انور ہلاک ہوگیا جس کے بعد 2 مذہبی گروہوں میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے نتیجے میں 23 سالہ توفیق ولد محمدحسین ہلاک جبکہ 28 سالہ اختر ولد اقبال، 26 سالہ محمدعلی ولد اقبال، 30 سالہ سراج ولد حاجی عبدالرحمن، 30 سالہ شکیل ولد شاہد، 50 سالہ شہناز زوجہ تہذیب حسن، ان کی بیٹیاں 13 سالہ اسمائ، 10 سالہ مریم اور 40 سالہ اختر ولد حاجی جاوید زخمی ہوگئے۔ شرپسندوں نے اس علاقے میں 2 دکانوں کو بھی آگ لگادی۔ فائرنگ کا یہ سلسلہ تھانہ نیو کراچی کی حدود نیو کراچی سیکٹر 11-D تک پھیل گیا جہاں پان کی دکان پر فائرنگ سے 42 سالہ یونس انصاری ولد عبدالغنی ہلاک ہوگیا۔ ان واقعات کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی جس نے سرچ آپریشن شروع کردیا تھا۔ علاقہ مکینوں نے ان واقعات کے خلاف احتجاج بھی کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کے شیل برسائے۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ رینجرز نے فائرنگ کی ہے جس سے کچھ لوگ زخمی ہوئے مگر رینجرز اور پولیس نے اس کی تردید کرتے ہوئے واضح کہا کہ ہلاک شدگان اور زخمی دوطرفہ فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ تھانہ شاہراہ نورجہاں کی حدود نارتھ ناظم آباد، بلاک ایس، موچی گلی اسٹاپ کے قریب نامعلوم افراد نے ایک کھڑے رکشے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں رکشہ ڈرائیور محمدرشید ولد ثناءاللہ ہلاک ہوگیا۔ تھانہ قائدآباد کی حدود لانڈھی، شیرپاﺅ کالونی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے 30 سالہ قاسم ولد سعید ہلاک جبکہ 25 سالہ رحیم اللہ ولد شیرخان، 5 سالہ سمیرا دختر خالد، 30 سالہ سردار ولد مسکین، 25 سالہ کوچے خان ولد ابراہیم،35 سالہ اسلم ولد حنیف، اس کا بھائی 20 سالہ شہباز، 30 سالہ راشد محمد ولد جمعہ خان، 18 سالہ فاروق ولد گل نبی اور 6 سالہ ثمرہ بے بی دختر پرویز زخمی ہوگئی۔ تھانہ گلستان جوہر کی حدود گلستان جوہر بلاک نمبر 4، مغل ہزارہ گوٹھ میں فائرنگ سے 28 سالہ شبیرحسین ولد غلام حیدر ہلاک ہوگیا۔ تھانہ گلشن معمار کی حدود گلشن معمار، سیکٹر Z-4 میں فائرنگ سے 48 سالہ سیدعبدالواسع ولد عبدالستار زخمی ہوگیا۔ تمام لاشوں اور زخمیوں کو جناح، سول اور عباسی سپتال پہنچایا گیا۔ دریں اثناءتھانہ کلری کی حدود لیاری، آگرہ تاج کالونی نورانی مسجد والی گلی نمبر 8-H میں نامعلوم سمت سے ایک دستی بم آکر گرا تاہم خالی مقام پر بم گرنے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔مزید برآں تھانہ مبینہ ٹاﺅن کی حدود گلشن اقبال بلاک نمبر 4سے ملحق لیموں گوٹھ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے50سالہ شریف گبول ولد حاجی مراد بخش گبول ہلاک ہو گیا۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واضح الفاظ میں قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ بے گناہ ، معصوم اور پر امن شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیلئے سخت سے سخت اقدامات کئے جائیں اور شر پسندوں ، دہشتگردوں اور عوام دشمن قوتوں کی سرگرمیوں کو سختی کے ساتھ کچل دیں۔انھوں نے کہا کہ جرم جرم ہے جبکہ مجرموں کی سرگرمیوں کو مکمل ، مربوط اور مستعد انداز میں کچلنے سے گریز نہ کیا جائے تاکہ ملک کے بڑے معاشی شہر کراچی میں حالات کو پر امن بنایا جاسکے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی