|
کراچی میں وکلاء کی ہڑتال اور ریلی،عدالتوں میں سیکڑوں مقدمات کی سماعت نہ ہو

18-04-08, 08:05 AM
کراچی میں وکلاء کی ہڑتال اور ریلی،عدالتوں میں سیکڑوں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے پانچوں اضلاع کی عدالتوں میں وکلاء کی ہڑتال جاری ہے۔ جمعرات کو قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سیکڑوں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔ سٹی کورٹ سے وکلاء نے ریلی نکالی جو ایم اے جناح روڈ تک گئی۔ انتظامیہ نے سٹی کورٹ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔ دریں اثناء کراچی بار ایسوسی ایشن کا جنرل باڈی اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے صدر محمود الحسن نے کہا کہ وکلاء تشدد سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ پرویز مشرف ملک کے لئے سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں۔ ایوان صدر سے وکلاء تحریک کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کا واقعہ بھی سازش کا حصہ ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ ریلی نکالنے کے لئے اجازت لینا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاست دان ہر قدم پر وکلاء کے ساتھ ہیں۔ حسن محمود جعفری ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ متاثرین، شہید ہونے والوں کے گھر جاکر ان کے بچوں کی دیکھ بھال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم معزول چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کی بحالی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ وکلاء اور عوام متحد ہو کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔ عبدالوہاب بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم تحریک میں شہیدوں کے خون کا حساب لیں گے۔ ہماری تحریک پرامن ہے تشدد برداشت نہیں کریں گے۔ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ججوں کا مسئلہ 13 دن میں حل ہوجائے گا بصورت دیگر ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ کل پاکستان وکلاء کنونشن 26 اپریل کو کراچی میں ہو رہا ہے ۔ اس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ سندھ بار کونسل کے رکن صلاح الدین گنڈاپور نے کہا کہ کراچی کو یہ فخر حاصل ہے کہ ہمارے پانچ ساتھی وکلاء نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور آج ہم فخر سے یہ کہتے ہیں کہ ہماری جدوجہد کی کامیابی، ہمارے شہیدوں کی قربانی کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجہ ریاض کو دن دھاڑے اس مقام پر شہید کیا گیا جسے ہم وی آئی پی روڈ کہتے ہیں وہاں کے کیمرہ کی آنکھ سے کوئی بچ نہیں نکل سکتا لیکن قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ دس دن میں راجہ ریاض کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ سید نہال ہاشمی نے کہا کہ وکلاء اصولی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سرور محمد خان نے کہا کہ اگر 12 مئی کے سانحہ کے ملزم پکڑے جاتے تو 9 اپریل کا واقعہ نہ ہوتا۔ علاوہ ازیں ملیر بار ایسوسی ایشن میں جمعرات کو یوم شہدائے کراچی منایا گیا۔دیگر بار ایسوسی ایشن کے افراد نے بھی ملیر بار کا دورہ کیا۔ واضح رہے کہ ملیر بار کے عہدیداروں کی 19 اپریل کو حلف برداری ہوگی جس کے مہمان خصوصی ملیر کے ڈسٹرکٹ جج نعمت اللہ پھلپوٹو ہونگے۔ جمعرات کو ملیر کورٹس بند تھیں بار کے صدر امان اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ہم عدلیہ کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|