|
کراچی میں پرتشدد واقعات کیخلاف وکلا کااحتجاج،عدالتوں کا جزوی بائیکاٹ

17-04-08, 11:24 AM
کراچی…سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ تیس دن میں عدلیہ بحال نہ ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ہوگی۔وہ نواپریل کے واقعات میں شہیدوکلاکی یاد میں منائے جانے والے یوم ِشہداپر سندھ ہائی کورٹ بار کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ رشید اے رضوی نے کہا کہ وکلا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور نو مارچ دو ہزار سات کو شروع کی گئی تحریک کے ثمرات بہت جلد ملنا شروع ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وکلا صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔تیس دن میں عدلیہ بحال نہ ہوئی تو اس کی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ہوگی اور وکلا آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔وکلا کے دیگر رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے چلائی جارہی ہے جس میں وکلا نے جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔سندھ ہائی کورٹ بار کے وکلا نے مطالبہ کیا کہ سانحہ نو اپریل کے ساتھ سانحہ بارہ مئی کی تحقیقات بھی دوبارہ کرائی جائیں اور مجرموں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں ۔سندھ ہائی کورٹ بار نے وکلا تحریک کے تمام شہداکوزبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔کراچی کے وکلا نے ہر جمعرات کی طرح آج بھی علامتی بھوک ہڑتال کی اور عدالتوں کا جزوی بائیکاٹ کیا۔
|
میاں شاہد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|