معاملات بے لگام نہیں چھوڑے جاسکتے، آپریشن ہو یا کوئی قدم اٹھایا جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض بنتا ہے کہ قیام امن کےلئے بلاامتیاز کارروائی کریں، انٹرویو
رینجرز کے خصوصی اختیارات یقینی طور پر کارکردگی اور قوت میں اضافے کا باعث ہونگے، حکومت کے پاس کراچی میں دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم کرنے کا آخری موقع ہے، مبصرین
اسلام آباد (محمدصالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) مسلح افواج (جو کہ کراچی میں رینجرز کے اقدامات کے جزوی طورپر ذمہ دار ہے) نے ہفتے کو ایک بار پھر انتباہی گولہ داغ دیا ہے جب اس کے ترجمان نے کراچی میں بےگناہوں کی ہلاکتوں پر ناراضی کا اظہار کیا ۔’ان سارے معاملات کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا کیونکہ مسلح افواج کو اس پر انتہائی تشویش اور بے چینی ہے۔ ہفتے کی شام ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ میں موجود ایک قابل اعتبار ذریعے نے ’جنگ ‘سے خصوصی طورپر گفتگو کرتے ہوئے واضح کردیا کہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس کا انٹرویومسلح افواج کے پہلے سے متعین کردہ پوزیشن کے برخلاف نہیں ہے لیکن اس کو معاملے کے سنگین ہونے کے حوالے سے اہمیت دی جانی چاہیے۔ ذریعے نے مزید اشارہ کیا کہ ’بعض اوقات کوئی قدم اٹھانے سے قبل کئی فائر کرنا ضروری ہوتے ہیں لیکن کسی کی بھی اس کی حیثیت سے کم نہیں سمجھنا چاہیے اور وہ بھی اس حالت میں کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو۔ چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور کور کمانڈرز پہلے ہی کراچی کی صورتحال کے حوالے سے اپنی بے چینی کا اظہار کرچکے ہیں اور ہر وہ پاکستانی جسے مادر وطن اور انسانیت سے محبت ہے کراچی میں بلا وجہ ہلاکتوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ ذرائع نے یاد دہانی کرائی کہ رینجرز کی قیادت فوج سے ہی آتی ہے اور ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد چوہدری کراچی کی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اس بناء پر آپ کو ان کی صلاحیتوں کا معترف ہونا پڑے گا اور اقدامات پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ وہ ایک باوقار سپاہی ہیں اور ان کو اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی اندازہ ہے۔ کراچی میں رینجرز کو دیئے گئے خصوصی اختیارات سے یقینی طور پر اس کی کارکردگی اور قوت میں اضافہ ہوگا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ حکومت رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے پر مجبور تھی۔ اسی دوران ذریعے کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اپنا روایتی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے کراچی میں دیرپا امن اور ہم آہنگی قائم کرنے کا آخری موقع ہے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہی مقدر بن جائے گا۔ مسلح افواج اس سارے معاملے میں براہ راست ملوث نہ ہونے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے لیکن انتظامیہ کی ہدایات زیادہ عرصے تک باقی نہیں رہیں گی۔ مسلح افواج کی جانب سے وزیراعظم کے حالیہ بیان کو سراہا گیا کہ کراچی کی صورتحال کو قابو میں لانے کے لئے فوج کو نہیں بلایا جائے گا۔ ذریعے نے بتایا کہ وزیراعظم عسکری قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کو فوج کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے غیرملکی خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو سے کچھ جہاندیدہ سیاسی حکمرانوں کو پریشانی ہوئی ہے جن کا یہ خیال تھا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان کو غیرمعینہ وقت حاصل اور ان کو فری ہینڈ ملا ہوا ہے، لیکن اب ان کو علم ہو گیا ہے کہ کچھ نگراں آنکھیں ان پر مرکوز ہیں اور ان کا مشاہداتی کردار برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلح افواج نے زور دیا ہے کہ کراچی میں فوری طور پر ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ ضروری ہے اس کےلئے آپریشن کیا جائے یا کوئی بھی قدم اٹھایا جائے اسے خواہ کوئی بھی نام دیا جائے لیکن یہ حقیقی معنوں میں بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ دریں اثناء آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ کراچی میں جاری تشدد پر پاک فوج کو تشویش ہے۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں بے گناہ شہری لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ کراچی کے حالات پر جہاں پورے ملک کو تشویش ہے خاص طور پر کراچی کے شہریوں کو، اس طرح فوج کو بھی تشویش ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ کراچی سے ہر قسم کا تشدد ختم ہونا چاہئے۔ انہوںنے باجوڑ ایجنسی سے اغواء ہونے والے بچوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ باجوڑ ایجنسی سے کسی قسم کا کوئی اغواء نہیں ہوا ہے۔ ماموند قبائل بارڈر کے دونوں طرف آباد ہیں۔ روایت کے مطابق اور اپیزنٹ رائٹ کے تحت ان کو اجازت ہے کہ وہ بارڈر کے آرپار جا سکتے ہیں۔ انہوںنے کراچی کی صورتحال کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر کارروائی کررہے ہیں اور تمام خفیہ ادارے ان کو معلومات فراہم کررہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کارروائی موثر طریقے سے ہوگی اور اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی