|
کراچی میں 450 ارب روپے کے سرکاری مکانات کی جعلی الاٹمنٹ ،2 افسران معطل

18-04-08, 07:48 AM
کراچی میں 450 ارب روپے کے سرکاری مکانات کی جعلی الاٹمنٹ ،2 افسران معطل
اسلام آباد ( رپورٹ :… انصار عباسی ) حکومت نے اپنے پہلے تادیبی اقدام کے طور پر حال ہی میں منکشف ہونے والے اسکینڈل میں، جہاں ایم کیو ایم کے سابق وزیر نے حکومت کی منظور کردہ پالیسی کے بغیر اپنے طور پر کراچی میں 450 ارب روپے مالیت کے 3050 سرکاری مکانات/ کوارٹرز بوگس سرٹیفکیٹ کے ذریعے بانٹ دیے تھے، دو سرکاری اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وزیر ہاؤسنگ اور ورکس رحمت اللہ کاکڑ نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے اسٹیٹ افسر غلام عباس بلوچ اور اس وقت کے اسٹیٹ انچارج کراچی سہیل سرور کو اس اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر معطل کر دیا ہے۔ وزیر نے انکشاف کیا کہ یہ معاملہ وزارت قانون کے سپرد کر دیا گیا ہے کہ وہ مشورہ دے کہ کس طرح یہ جائیدادیں ان لوگوں سے واپس لی جائیں جنہیں اس وقت کے حکام نے جعلی ملکیتی اہلیت کی اسناد کی بناء پر انہیں دے دی تھیں۔ وزیر نے کہا کہ دی نیوز میں اس حوالے سے خبر شائع ہونے کے بعد انہوں انضباطی کارروائی شروع کی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا حکومت وہ بوگس آرڈر مسنوخ کریگی جو 3050 قابضین کو جاری کئے گئے تھے تو انہوں نے کہا کہ کیا حکومت کو جعلی اقدامات کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس جائیداد کا تخمینہ لگایا ہے جو 450 ارب ہے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس عبدالرؤف چوہدری نے حال ہی میں اس نمائندے کو بتایا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے کراچی اور اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہوں میں طویل عرصے سے قابضین کو ملکیتی اہلیت کی اسناد جاری کرنے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن اس وقت کے وزیر صفوان اللہ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر ہی مجوزہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیے تھے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ جن لوگوں کو بوگس سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے تھے ان میں سے کئی افراد نے تو اپنے زیر قبضہ جائیدادیں فروخت بھی کر دی ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|