|
کراچی پولیس عدم تحفظ کاشکار، تھانوں کے گیٹ اور گلیاں بند

02-10-11, 03:43 AM
کراچی (رپورٹ ٭ آغا خالد) ڈیفنس میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کے گھر پر بم دھماکے کے بعد پولیس میں عدم تحفظ کا احساس اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کراچی میں تھانوں کے گیٹ بند کردیئے گئے اور بعض ایسے تھانوں کی گلیاں بھی بند کردی گئی ہیں جو حساس علاقوں میں واقع ہیں۔ پولیس کے اس طرح کے اقدامات سے عام سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے جب کہ جن علاقوں میں تھانے قائم ہیں ان علاقوں کے رہائشی بھی مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ تاہم سی سی پی او سعود مرزا نے اس قسم کے کسی بھی اقدامات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تھانوں نے اپنے تحفظ کیلئے اقدامات کئے ہوں گے۔ ”جنگ“ کے سروے میں عوام کا کہنا تھا کہ پولیس کا کام عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنا ہے مگر کراچی میں چوہدری اسلم کے گھر پر حملے کے بعد پولیس نے خوفزدہ ہوکر محفوظ عمارتوں میں اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور اب ان تھانوں میں جانے والوں کو اس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایسے مراحل سے پولیس ہیڈ آفس جانے والوں کو بھی نہیں گزرنا پڑتا۔ چوہدری اسلم کے گھر کے قریب واقع درخشاں تھانے کے عملے نے پوری دو گلیاں بند کردی ہیں اور عام گاڑیوں کو ان گلیوں سے گزرنے کی اجازت نہیں جس سے ان گلیوں میں واقع عمارتوں کے مکین بھی شدید دشواریوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ درخشاں تھانہ کراچی میں ماڈل تھانے کی حیثیت سے ڈیفنس کے فیز 8 میں قائم کیا گیا تھا، یہ کراچی کی تاجر برادری اور ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشیوں کی جانب سے تعمیر کرکے پولیس کو تحفہ میں دیا گیا تھا۔ اس طرح کلفٹن پل اور ایرانی پل سے اترتے ہی فریئر تھانے کی گلی بھی دوطرفہ رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردی گئی ہے اور اسے بند کرنے کےلئے انتہائی بے ہودہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے کانٹے دار جھاڑیوں کی باڑھ بچھا دی گئی ہے اس پوش علاقے کے تھانے کا یہ منظر وہاں سے گزرنے والے دن بھر دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں 102 تھانے اور 12 سے زائد چوکیاں ہیں اور ہر تھانے نے اپنے تحفظ کے لئے اس طرح کے اقدامات کئے ہیں اور ان تھانوں میں جانے والے سائلین کو گیٹ پر تعینات عملے کے سوالات کے علاوہ ہیڈ محرر یا ڈیوٹی افسر کی اجازت کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے اور اس تکلیف دہ عمل سے گزرنے کے لئے سائلین کو گھنٹوں گیٹ کے باہر کھڑا رہنا پڑتا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,554
2,981 مراسلہ میں 8,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|