اغواء برائے تاوان سندھ خصوصاً کراچی میں باقاعدہ کاروبار بن گیا، تاجروں کو بریفنگ
کال ٹریس سسٹم لے آئے ہیں، فون پر بھتہ مانگنے والوں کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کرلینگے
کراچی (رپورٹ:سہیل افضل) اغواء برائے تاوان سندھ خصوصاً کراچی میں باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک نے ہفتہ کوکراچی چیمبر کے اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2010ء میں صرف 55 اغواء کی وارداتیں ہوئی تھیں جبکہ 2011ء میں حیرت ناک حد تک اس شرح میں اضافہ ہوا اور رواں سال میں یہ اگست تک 1422 تک پہنچ چکی ہے۔ رحمن ملک نے ہفتے کو بریفنگ کے دوران کراچی کی کاروباری برادری کو حالیہ دنوںمیں گرفتار ٹارگٹ کلرز کی ویڈیو بھی دکھائی جس میں ٹارگٹ کلرز کے ہولناک انکشافات تھے۔ لوگوں کو کس طرح اغواءکیا کس کے کہنے پر اغواءکیا کس طرح تشدد کرکے مارا۔ رحمن ملک نے تاجروں کو بتایا کہ جلد ہی ان ٹارگٹ کلرز کی تصاویر اور ویڈیو میڈیا کو جاری کردی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں تاجروںنے وزیرداخلہ سے مطالبہ کیا کہ رینجرز کو ایف آئی آر کے اختیارات بھی دیئے جائیں کیونکہ اگر ایف آئی آر آسانی سے درج ہوگی تو تفتیش کا آغاز ہو سکے گا تاہم وزیر داخلہ اس سوال کا جواب گول کرگئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے دوران میں ایک تاجر کو بھتہ کیلئے فون آگیا جس کی اطلاع وزیر داخلہ کو دی گئی، ان کا کہنا تھا کہ اب ہم ٹیلی فون ٹریس کرنے کا سسٹم لے آئے ہیں 24 گھنٹے میں فون کے ذریعے بھتہ مانگنے والوں کا سراغ لگا کر انہیں پکڑ لیں گے اگرچہ رحمن ملک 3 گھنٹے تک تاجروں کے درمیان رہے، تفصیلی بریفنگ دی اور بار بار یہ بات کہی کہ مکمل امن تک وہ کراچی سے جائیں گے نہیں لیکن اجلاس میں موجود تاجروں، صنعت کاروں کی اکثریت اسے ”لولی پاپ“ ہی قرار دیتی رہی ان کا کہنا تھا کہ عمل کے بغیر تمام باتیں بے کار ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی