|
کرم ایجنسی:متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا

05-01-08, 08:31 AM
کرم ایجنسی:متحارب فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا
پارا چنار، پشاور،اسلام آباد (نمائندگان جنگ)قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں قبائلی رہنماؤں اور پولیٹیکل حکام کی کوششوں سے جمعہ کو غیر معینہ مدت کیلئے جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔کرم ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ ظہیرالاسلام نے پارا چنار سے این این آئی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ مقامی پولیٹیکل انتظامیہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اب مستقل امن کے قیام کیلئے طور طریقوں پر غور کررہی ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ نے کہا کہ انتظامیہ اب ضروری اشیاء کی ترسیل پر توجہ دے رہی ہے تاکہ کرفیو کے دوران جن لوگوں کوضروری اشیاء نہیں پہنچ سکیں وہ مزید مشکلات کا سامنا نہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے سڑکیں کھولنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ایک سوال پر پولیٹیکل ایجنٹ نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد کرفیو میں نرمی کے بارے میں بھی سوچاجائیگا۔ انہوں نے قبائلی رہنماؤں و عوام سے اپیل کی کہ وہ ملکی مفادکی خاطر اختلافات ختم کریں اور حکومت کیساتھ امن وامان کے قیام میں تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایسے حالات سے گزررہا ہے جس میں ہم سب پر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ظہیرالاسلام نے کہا کہ وہ ہر فرقہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اختلافات ختم کر کے حکومت اور مشترکہ جرگے کے ممبران کیساتھ تعاون کر کے علاقے میں امن قائم کریں۔کرم ایجنسی میں فریقین کے عمائدین امن معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں ایجنسی میں مستقل فائر بندی ہو گئی ہے اورفریقین نے اپنے اپنے مورچے خالی کرنا شروع کردیئے ہیں،یہ امن معاہدہ اس سولہ رکنی ہنگو امن جرگہ کی کوششوں سے ہوا ہے، جو گورنر صوبہ سرحدلفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) علی عمرجان اورکزئی نے تشکیل دیا تھا اور جس نے گزشتہ اتوار کو پاراچنار پہنچنے کے فوراً بعد عمائدین سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ہنگو امن جرگہ میں ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے ممتاز عمائدین شامل ہیں۔دریں اثناء متحارب فریقین کے درمیان معاہدے سے قبل تازہ لڑائی میں سات افراد ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوگئے۔نمائندہ جنگ کے مطابق اپر کرم میں تری مینگل اور دیواڑ کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ دیواڑ گاؤں کے ایک مکان پر میزائل گرنے سے 4افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے ہیں۔دوسری طرف صدہ شہر میں گورنر سرحد کا تشکیل کردہ ہنگو امن جرگہ قبائلی اکابرین کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد صدہ شہر خار ،بالش خیل، سنگین اور ابراہیم زئی میں عارضی فائر بندی پر اتفاق ہوگیا جس کے بعد اس پر عملدرآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔آج امن جرگہ اور عمائدین دوبارہ مذاکرات کرینگے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|