واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


کرنل امام کو جنوری میں ہی قتل کردیا گیا تھا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-02-11, 06:01 AM   #1
کرنل امام کو جنوری میں ہی قتل کردیا گیا تھا
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 20-02-11, 06:01 AM

لاہور(عامر امیر) تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے کرنل سلطان امیر تارڑ عرف کرنل امام کو امریکی و پاکستانی ایجنسیوں کےلئے جاسوسی اور کمانڈر حکیم اللہ محسود اور ان کے نائب کمانڈر ولی الرحمن کو قتل کرنے کےلئے ڈرون حملوں میں امریکہ کی معاونت کے الزام میں درحقیقت اس سال 22 جنوری کو ہی قتل کردیا تھا کرنل امام کے قتل کی تفتیش کرنے والی پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ ماہ میران شاہ کے علاقے ڈنڈی درپہ خیل میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز نے ان کو گولی ماردینے کی خبرنشر کی تھی انہیں اغواء کرنے والوں نے ان کے قتل کرنے کے بعدان کے اہل خانہ کی ان سے گفتگو کرانے کا سلسلہ بھی ترک کردیا تھا قتل کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر دفن کیا گیا تحریک طالبان نے اب محض ان کے قتل کی ویڈیو جاری کی ہے ذرائع نے بتایا کہ یرغمال بنائے جانے سے قبل اسکواڈرن لیڈر (ر) خالد خواجہ اور کرنل (ر) امام نے ایک برطانوی صحافی کے ہمراہ حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن سے مارچ 2010ء میں ملاقات کی تھی جوان کا انٹرویو کرنا چاہتا تھا تحریک طالبان پاکستان کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد خالد خواجہ اورکرنل امام نے پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حکیم اللہ محسود کی موجودگی کا مقام بتا دیا جس کے بعد صرف شمالی وزیرستان ایجنسی میں 8 سے 30 مارچ کے دوران 10 ڈرون حملے ہوئے اورخصوصاً اس جگہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں طالبان کمانڈروں کی ان لوگوں سے ملاقات ہوئی تھی اورحکیم اللہ اورولی الرحمن ان حملوں میں بال بال بچے تھے یہی وجہ ہے کہ حکیم اللہ یہ ضروری سمجھتا تھا کہ کرنل امام کو اس کے سامنے سزادی جائے یہی وجہ ہے کہ آئی ایس آئی کے ان سابق عہدیداروں کو یرغمال بنا لیا گیا ان دونوں سابق فوجی عہدیداروں کے خاندانی ذرائع نے تاہم ان الزامات کی تردید کی ہے درحقیقت عثمان پنجابی عرف محمدعمر نے خواجہ اورامام کو برطانوی صحافی کے ساتھ طالبان اورامریکی ڈرون حملوں کے متاثرین پردستاویزی فلم بنانے کےلئے شمالی وزیرستان آنے کی دعوت دی اور جب 26 مارچ 2010 ء کو یہ لوگ میرعلی پہنچے توانہیں اغواء کرلیا گیا عثمان عرف عمر نے بعدازاں انہیں اغواء کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی اور ان پر 2007 ء میں اسلام آباد کی لال مسجد پر کئے گئے آپریشن سے اب تک پاکستانی طالبان کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کیا تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کے رہنما جن میں پٹھان اورپنجابی دونوں شامل ہیں کرنل امام اورخالد خواجہ سے پاکستانی طالبان کی مخالفت اور افغان طالبان کوسپورٹ کرنے کے باعث بھی نالاں تھے انہوں نے یاد دلایا کہ شمالی وزیرستان میں 30 اپریل 2010ء کو خالد خواجہ کو قتل کردینے کے بعد عثمان عرف عمر نے خود کو طالبان میڈیا سنٹر کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ خالد خواجہ کو اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ پاکستانی طالبان کو دہشت گرد اور افغان طالبان کو مجاہدین کہتا تھا اور انہوں نے طالبان کی عدالت کے سامنے اپنے تمام گناہ قبول کرلئے تھے کرنل امام کے قریبی فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ طالبان جنگجوﺅں کو پا کستانی سیکورٹی فورسز سے جنگ بندی پر آمادہ کرنے کیلئے ”بیک چینل“ مشن پر وزیرستان گئے تھے۔ 23 اپریل 2010ء کو ایشین ٹائیگرز نامی ایک گروپ کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل میں کرنل امام کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ”میرا اصل نام سلطان امیر ہے اور میں نے پاک فوج میں 18سال ملازمت کی ہے جس میں گیارہ سال آئی ایس آئی کی سروس شامل ہے میں نے شمالی وزیرستان آنے کیلئے جنرل اسلم بیگ کے ساتھ مشورہ کیا تھا اسی ویڈیو میں خالد خواجہ نے کہا کہ انہوں نے18سال پاکستانی ایئر فورس میں ملازمت کی ہے جس میں آئی ایس آئی کی ملازمت کا دو سالہ عرصہ بھی شامل ہے میں یہاں لیفٹیننٹ جنرل حمید گل جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے کرنل ساجد کے کہنے پر آیا تھا 25جولائی 2010ء کو جاری کی گئی ایک اور ویڈیو میں کرنل امام نے کہا کہ وہ لشکر جھنگوی العالمی کے عبداللہ مقصود گروپ کی قید میں ہیں اور اگر حکومت نے اغواء کاروں کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو میرا انجام خالد خواجہ سے بھی برا ہوگا۔ ان دونوں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر نے پاکستانی طالبان کوایک پیغام میں امیر امام اور خالد خواجہ کی رہائی کی درخواست کی تھی تاہم عثمان پنجابی نے ان کی بات نہ مانتے ہوئے خالد خواجہ کو قتل کردیا اور برطانوی صحافی اسد قریشی کی رہائی کیلئے بھاری تاوان وصول کیا کرنل امام کے معاملے پر طالبان دو گروپوں میں بٹ گئے نتیجتاً صابر محسود کی سربراہی میں اس کے ساتھیوں نے عثمان پنجابی اور اس کے پانچ ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا بعدازاں یہ معاملہ حکیم اللہ محسود کے سامنے پیش ہوا جس نے کرنل امام کو اپنی تحویل میں لے لیا اور عثمان پنجابی کے قتل کے جرم میں صابر محسود کو موت کی سزا دے دی اس وقت سے پاکستانی فورسز کرنل امام کو رہائی کیلئے محسود کے ساتھ رابطے کیلئے کوشاں تھیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کالعدم حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمان خلیل جو ثالث کا کردار ادا کررہے تھے حکام کو طالبان کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہے کرنل امام آئی ایس آئی کے ان چوٹی کے کمانڈر میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے پاکستانی اور امریکی ایجنسیوں کے کیمپوں میں افغان مجاہدین کو تربیت دی اور افغان مجاہدین اور طالبان انہیں سوویت فوجوں کے خلاف افغان جہاد میں ان کے کردار کے باعث عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جب افغان طالبان نے 1995ء میں کمانڈر اسماعیل خان کے خلاف لڑتے ہوئے ہرات پر قبضہ کیا تو کرنل امام ہرات میں پاکستانی قونصل جنرل مقرر ہوئے بعدازاں ان کی رہنمائی میں طالبان نے فوجی اہمیت کے حامل افغانستان کے شہروں مزار شریف اور جلال آباد پربھی قبضہ کرلیا کرنل امام افغانستان ہی میں رہے اور امریکہ پر نائن الیون کے حملے کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے وقت وہ پاکستان واپس آگئے تھے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,554
2,981 مراسلہ میں 8,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 126
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-02-11, 09:46 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,650
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برئے کاموں کا برا نتیجہ۔۔۔ ان کو بھی طالبان بنانے کا بہت شوق ہوا تھا اور اسی شوق نے جان لے لی۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, قید, موت, مسجد, آپریشن, اللہ, الزام, امیر, امریکہ, اسلام, ترک, جرم, خلاف, درخواست, سال, طالبان, عثمان, عدالت, عرف, عرصہ, عزت, صابر, صحافی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تھانیدار کا بیٹاخاندان کے 6افراد مار کر تھانے پیش ہو گیا جاویداسد خبریں 1 14-08-10 06:16 AM
ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا محمدعمر شعر و شاعری 2 14-11-09 09:35 AM
ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 11:25 AM
وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا Ashfaq Ahmed شعر و شاعری 0 22-09-07 07:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger