واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


کرکٹ کے میدانوں سے طاقتوروں کی جاگیروں تک ہر جگہ کرپشن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-08-10, 03:15 AM   #1
کرکٹ کے میدانوں سے طاقتوروں کی جاگیروں تک ہر جگہ کرپشن
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 30-08-10, 03:15 AM

حکمراں کرپٹ تو عام سیاستدان،بیوروکریسی کے ارکان اور دیگر بھی یہی کرینگے


اسلام آباد (تجزیہ: انصار عباسی) کرکٹ کے میدانوں سے لیکر گلیوں تک، طاقت کی راہداریوں سے لیکر اُمراء و طاقتوروں کی جاگیروں تک، سرکاری اداروں سے لے کر نجی تنظیموں، محکمہ پولیس سے لے کر سول سوسائٹی تک، آج کا پاکستان لاقونیت سے بھرپور معاشرے کی تصویر پیش کر رہا ہے جہاں مجرم اور کرپٹ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں جبکہ قانون کی حکمرانی کہیں دکھائی نہیں دیتی حالانکہ جرائم پر قابو پانے کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔ پوری قوم کو شرمندگی کا سامنا ہے  اگرچہ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی لندن میں میچ فکسنگ کے الزامات ہوں یا سیالکوٹ میں شہریوں کے ہاتھوں ظلم و تشدد کا واقعہ، یہ ہماری ناکامیوں کے ہی نتائج ہیں اور ہمارے مجرمانہ نظام انصاف خصوصاً پولیسنگ، عدالتی کارروائی اور احتساب کا نظام۔ چین میں یہ کہا جاتاہے کہ مچھلی سر کی جانب سے سڑنا شروع ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہمارے حکمراں کرپٹ ہونگے تو ہمیں عام سیاستدانوں، بیوروکریسی کے ارکان اور دیگر سے بھی یہی توقع کرنی چاہئے۔ اگر آلودہ حکمراں احتساب سے بالاتر ہوں تو ہم اپنے کرکٹرز کو اپنی عزت اور ملک کا وقار داؤ پر لگاتے ہوئے اپنا کھیل بیچنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ ان پر میچ فکسنگ اور ممنوعہ دواؤں کے استعمال کے الزامات لگتے ہیں سزا ملتی ہے لیکن وہ پھر واپس آ جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کرپشن ایک معیار بن چکا ہے اور انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ وہ جانتے ہیں اگر رنگے ہاتھوں بھی پکڑے گئے تو کوئی سزا نہیں ملے گی۔ اُنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے غیرقانونی ذرائع سے پیسہ بنانے کی یہ موزوں ترین جگہ ہے۔ سیالکوٹ میں الزامات لگا کر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بدترین اور ظالمانہ تشددکے بعد دو بھائیوں کی ہلاکت سے ہماری اپنی کمزوری ظاہرہوتی ہے۔ کوئی کیسے اتنا ظالم اور وحشی ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ سب کچھ پولیس کی موجودگی میں ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے بلکہ اس جیسے کئی واقعات پہلے بھی رونما ہو چکے ہیں کہ مشتعل ہجوم نے نظام انصاف پر بھروسے کی بجائے ملزم ڈاکوؤں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ سیالکوٹ کے درندگی سے بھرپور واقعے کی ویڈیو میں ایک شخص شاید ویڈیو بنانے والے کی مدد کرتے ہوئے فخریہ انداز میں یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ویڈیو جیو پر چلے گی جیسے کے یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہوگی لیکن لوگوں نے ایسا کیوں ہونے دیا اور کیا وجہ تھی کہ کسی نے بھی اس جرم کو وقوع پر پذیر ہونے سے نہیں روکا؟ جواب بہت سادہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں سزا نہیں ملے گی۔ یہ صرف اس بناء پر نہیں ہوا کہ وہاں کی مقامی پولیس اس کی حمایت کر رہی تھی بلکہ وہاں ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ہمیں ایسے ”عوامی انصاف“ کا منظر کراچی میں بھی دیکھنے کو ملا جہاں دو مبینہ ڈاکوؤں کو کئی افراد کی موجودگی میں لوگوں نے جلا کر مار دیا۔ واقعے کی نہ تو کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ واقعہ دیکھنے والوں میں سے ہی کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔ بالکل اسی انداز میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 8مبینہ ڈاکوؤں کو مشتعل دیہاتیوں نے بربریت والے انداز میں قتل کر دیا گیا لیکن ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی۔ نہ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی۔ حکومت قانون سازوں اور عدلیہ کو سوچنا چاہئے ’عوامی انصاف ‘ کا انداز کیوں پھیلتا جا رہا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہاں لوگوں کا پولیس اور کرمنل جسٹس سسٹم پر سے اعتماد اُٹھ چکا ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہاں مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی۔ ملک کی آزاد عدلیہ شاندار کاکردگی کا مظاہر ہ کر رہی ہے لیکن سیالکوٹ جیسے واقعات پر صرف سوموٹو ایکشن لینے سے کام نہیں چلے گا جب تک کہ کرمنل جسٹس سسٹم میں موجود خامیاں دور کرنے سے قبل صورتحال میں بہتری نہیں آئے گی۔ سیاستدانوں کی جانب سے مقتول بھائیوں کے گھر جا کر اہل خانہ سے ملنے سے ممکن ہے کہ اُنہیں انصاف مل جائے لیکن معاشرہ چاہتا ہے کہ ایسا نظام قائم ہو جو کہ جرم کی راہ میں رکاوٹ بن جائے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اس کی کمی ہے۔ مجرموں کی حوصلہ افزائی کیوں نہیں ہوگی جب ٹی وی کیمرہ میں آجانے کے باوجود، 12مئی 2007ء کی گلیوں اور سڑکوں پر درجنوں افراد کے قاتل بھی نہیں پکڑے گئے۔ ہم اپنے اطراف میں قتل عام کو کیسے روک سکتے ہیں جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ٹارگٹ کلرز نے کراچی اور بلوچستان میں سیکڑوں بیگناہوں کو ہلاک کر دیا ہے لیکن نہ تو کبھی کسی قاتل کی گرفتاری کی خبر آئی اور نہ ہی کوئی مقدمہ چلنے کی۔ ٹارگٹ کلرز کویہاں ایک موافق پیغام ملتا ہے کہ اپنے شکار کو پکڑے جانے یا سزا کے خوف کے بغیر نشانہ بناتے رہو۔ حالیہ برسوں میں تاوان کیلئے اغواء اور کار چوری میں ملوث انڈر ورلڈ بہت زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ روزانہ دولتمند خاندانوں کے افراد تاوان کیلئے اغوا ہوتے ہیں۔ اغواء کار اپنی مرضی کی رقم حاصل کرتے ہیں اور بعض اوقات وہ مغوی کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ایسے واقعات بھی ہیں جب تاوان وصول کرنے کے بعد بھی مغویوں کو قتل کر دیا گیا۔ لیکن کبھی بھی ایسے کسی مجرم کی کو سزا ہوئی نہ ہی انہیں لٹکانے کی خبر سامنے آئی جس سے دوسروں کو سبق حاصل ہوتا۔ بالکل اسی انداز میں دو درجن کاریں چوری ہوتی ہیں اور غائب کر دی جاتی ہیں لیکن ان کار چوروں کو کبھی بھی کسی نے سزا ملتے نہیں دیکھا۔ بڑھتے ہوئے جرائم اور لاقانونیت کی اس صورتحال میں ہمیں کرمنل جسٹس سسٹم پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ جرائم کی راہ میں رُکاوٹ پیدا ہو اور ایسا ماحول پیدا ہو جہاں مجرم کو پکڑے جانے یا سزا کا خوف ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ہر جگہ جنگل کا قانون نظر آئے گا۔ یہی درست وقت ہے کہ سنجیدگی سے اس مسئلے کو سوچا جائے اور صرف دکھاوے کے اقدامات اور مقتدروں کی غلامی کی بجائے ٹھوس قدم اُٹھائے جائیں۔

روزنامہ جنگ کی خبر
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,554
2,981 مراسلہ میں 8,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 124
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-08-10), مرزا عامر (31-08-10)
پرانا 30-08-10, 12:58 PM   #2
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,776
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ!
بھائی جان خبر کو سرخ رنگ میں‌لکھنے میں‌کیا مصلحت ہے؟؟؟؟؟
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (31-08-10)
پرانا 31-08-10, 12:06 PM   #3
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,195
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Exclamation

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
شئیرنگ کا شکریہ!
بھائی جان خبر کو سرخ رنگ میں‌لکھنے میں‌کیا مصلحت ہے؟؟؟؟؟
اس کا مطلب ہوتا ہے کہ خبر تازہ ترین اور ویری ہاٹ ہے۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-09-10, 03:13 AM   #4
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
کمائي: 94,288
شکریہ: 1,554
2,981 مراسلہ میں 8,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فرحان دانش مراسلہ دیکھیں
اس کا مطلب ہوتا ہے کہ خبر تازہ ترین اور ویری ہاٹ ہے۔
بہت مناسب تبصرہ ہے، ویسے میں نے پہلے اس حوالے سے اس بات کا جواب دیا تھا ڈھونڈ کر اس کا لنک دوں گا کیونکہ وہ اب دوبارہ نہیں لکھ سکوں گا۔
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-09-10, 02:30 AM   #5
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
کمائي: 94,288
شکریہ: 1,554
2,981 مراسلہ میں 8,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم نے تو پیسے عیدی سمجھ کے لئے
فراز
ظالموں نے میچ فکسنگ کا الزام لگا دیا
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کراچی, ٹیک, پولیس, پاکستان, واقعات, لندن, چین, ممکن, مجرموں, معاشرہ, آج, اسلام, تصویر, جواب, خلاف, خبر, شاندار, شخص, عزت, غیرقانونی, غلامی, غائب, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انیمیشن فلموں کے شوقین متوجہ ہوں! shafresha گپ شپ 91 24-08-11 01:09 AM
خود کش دھماکوں کے زخمی ادویات اور ڈاکٹروں کی توجہ کو ترس گئے وجدان خبریں 2 24-03-08 09:30 AM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:01 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger