دریائے چناب پر بجلی کے پروجیکٹس پر پاکستان کو اعتراض ہے
پاکستان میں سندھ آبی کمیشن نے بھارتی زیرانتظام کشمیر میں تین نئے پن بجلی منصوبوں سے متعلق مقامی حکومت سے تفصیلات طلب کی ہیں۔
اس بات کا اظہار پچھلے سال وجود میں آئی چناب ویلی پاور کارپویشن کے سربراہ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
دوہزار سے زائد میگاواٹ صلاحیت کے یہ منصوبے دریائے چناب کے مختلف مقامات پر تعمیر کیے جارہے ہیں اور اس کے لیے جموں کشمیر حکومت نے حکومت ہند کی پاور کارپوریشن کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس کی رو سے ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کا باسٹھ فی صد حصہ جموں کشمیر کو ملےگا۔
سرینگر میں ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ اٹھارہ ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے پکال ڈول، کیرو اور کیوار پن بجلی منصوبوں سے متعلق یہاں کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تعمیر سے کشمیر بجلی کی پیداوار میں خودکفیل ہوجائےگا۔
کشمیر کے دیگر بجلی پروجیکٹس بھی پاکستان کو اعتراض ہے
لیکن یہ منصوبے چونکہ دریائے چناب پر بن رہے ہیں اس لیے پاکستانی سندھ آبی کمیشن نے تینوں منصوبوں سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں۔
واضح رہے کہ پچاس سال قبل ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئے سندھ طاس آبی معاہدے کے مطابق جہلم، سندھ اور چناب دریاؤں پر پاکستان کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں جبکہ باقی تین دریا ہندوستان کے اختیار میں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ چناب پر بن چکے نو سو میگاواٹ صلاحیت والے بگھلیار پاور پروجیکٹ اور جہلم پر بننے والے کشن گنگا پروجیکٹ پر پاکستان پہلے ہی اعتراضات ظاہر کرچکا ہے اور اس سلسلے میں عالمی بنک ہندوستان اور پاکستان کے بیچ ثالثی کررہا ہے۔
دو ہزار ایک سو میگاواٹ صلاحیت والے ان تازہ پروجیکٹوں سے متعلق چناب ویلی پاور کارپوریشن پرائیوٹ لمیٹڈ کے سربراہ ایم وائی خان نے سرینگر میں اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے ان منصوبوں سے متعلق تفصیلات پاکستانی کمیشن کو روانہ کی ہیں۔
ایم وائی خان نے دعویٰ کیا کہ ایک ہزار میگاواٹ والے پکال ڈول کے منصوبے پر پاکستانی کمیشن نے اعتراض نہیں کیا ہے تاہم کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں۔
واضح رہے کہ کشمیر حکومت نے کئی جائزوں کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں بیس ہزار میگاواٹ تک بجلی وسائل موجود ہیں جنہیں قابل استعمال بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس مقدار میں سے دس ہزار میگاواٹ سے زائد صلاحیت صرف چناب دریا میں ہے تاہم اس پر بننے والے پروجیکٹوں پر پاکستان اعتراضات ظاہر کرتا رہا ہے۔
ایم وائی خان
ایم وائي خان کے مطابق پاکستان کو تفصیلات سونپی گئي ہیں
اِدھر کشمیر کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس بات پر ناراضگی پائی جاتی ہے کہ مقامی حکومت نے بجلی کے وسائل پر حکومت ہند کی نیشنل ہائیڈل پاور کارپوریشن یا این ایچ پی سی کو بے لگام اختیارات دے رکھے ہیں۔ اس کی وجہ سے کشمیریوں کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے۔
یہاں تک کہ حزب اختلاف نے این ایچ پی سی کو کشمیر کی ایسٹ انڈیا کمپنی قرار دیا ہے۔ تاہم ایم وائی خان کا کہنا ہے نئے منصوبوں سے متعلق جو معاہدہ کیا گیا ہے اس کے مطابق پیدا ہونے والی بجلی میں سے ریاست کو باسنٹھ فی صد حصہ ملے گا اور باقی بجلی کو فروخت کرنے کے لیے این ایچ پی سی کو حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔
لیکن ان منصوبوں پر عمل کرنے سے قبل حکومت کو پاکستانی آبی کمیشن کے حتمی ردعمل کا انتظار رہےگا۔
خبر