| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 170
|
||||
|
|
#3 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مراسلات: 155
کمائي: 2,854
شکریہ: 5
75 مراسلہ میں 126 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت کرے۔ نمازیوں کواور عید کی خوشیاں منانے والوں کو ان وحشیوں نے کیوں نشانہ بنایا؟ کیا یہ مذہبی شدت پسندی کا ایک اور ظالمانہ مظاہرہ ہے؟ |
|
|
|
| اجل کنول کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (01-09-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,138
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے۔آمین
|
|
|
|
| نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد یاسرعلی (01-09-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,087
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں ۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔یہ سفاکانہ دہشت گردی کرنے والے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے دہشت گردی کا تسلسل ملک کی سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور موثر لانگ ٹرم و شارٹ ٹرم حکمت عملی وضع کرنا ہو گی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو سکے، چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ۶۸ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔ اللہ تعالہ فرماتے ہین: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32( کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵) وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳) مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲) جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں"۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیںدیا جاسکتا ۔ طالبان ملا عمر کے Code of Conduct کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہین۔ طالبان نے ملا عمر کی بیعت کی ہوئی ہے،ملا عمر پاکستان پر حملوں کو برا سمجھتے ہین مگر پاکستانی طالبان ملا عمر کی بیعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان مین معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہین۔ رسول کریم نے فرمایا کہ جنگ کی حالت مین بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے۔ ویسے طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ مزید بران یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گئا ہے۔ |
|
|
|
| A Nawaz Khan کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (02-09-11) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,138
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ہی رحم فرمائے آمین ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, pakistan, فوری, کوئٹہ, کنٹرول, وقت, لوگ, نماز, موقع, منتقل, مسلمانوں, مسجد, مطابق, تصاویر, حکم, خلاف, شہر, شخص, طور, عید, عورتیں, علاقے, عملے, صوبہ, صوبے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|