واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


کھندرو یا بارود کا کھیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-08-07, 01:34 PM   #1
کھندرو یا بارود کا کھیت
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 15-08-07, 01:34 PM

سرینگر سے ستّر کلومیٹر جنوب میں واقع سیاحتی مقام اچھہ ول سے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ فوجی اسلحہ خانہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد نقل مکانی کرچکے ہیں۔
ماہرین اس واقعہ کو دوہزار پانچ میں آنے والے زلزلے کے بعد سب سے بڑا انسانی بحران سمجھتے ہیں۔
امدادی ادارے ایکشن ایڈ کے ریاستی سربراہ ارجمند حسین طالب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ تو بہت خطرناک انسانی بحران ہے۔ اسے آپ ہلاکتوں کی تعداد کے پس منظر میں نہ دیکھیں۔ تیس ہزار لوگ بے گھر ہیں، ان کی صحت و صفائی کا مسئلہ ہے، کھانے پینے کا پرابلم ہے۔ اور پھر ہندوستان کے میڈیا میں اس واردات کی محدود کوریج نے امدادی امکانات کو اور بھی کم کردیا ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے تین روز بعد ہندوستانی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے اعلان کیا تھا کہ تباہ ہونے والے ڈپو سے پیدا ہونے والی صورتحال کو درست کرنے میں چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

مسٹر طالب کہتے ہیں کہ فوجی جنرل کا یہ اعلان نہایت خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’چند ہفتوں بعد لوگ گھر تو جائیں گے لیکن جس طرح کے آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے، لوگوں کو کھڑی فصلیں کاٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ خطرناک بھی ہے کیونکہ پندرہ کلومیٹر کے فاصلہ میں ایسے بارودی شیل بکھرے پڑے ہیں، جو ہاتھ لگانے پر پھٹ سکتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں: ’اس دوران وہاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ خاص طور پر خواتین اور بچے نفسیاتی بحران کا شکار بھی ہوگئے ہیں۔‘
کشمیر کے ڈویژنل کمشنر محبوب اقبال کے مطابق پندرہ دیہاتوں کے تقریباً بیس ہزار لوگوں کو اسلحہ خانہ میں گولہ بارود پھٹنے کے خدشے سے اننت ناگ میں مختلف عارضی راحت کیمپوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

اننت ناگ کے راحت کیمپ میں پیر کو متاثرین نے حکومت کے خلاف مظاہرے کے دوران سرکاری طور مہیا کیے گئے سینکڑوں کمبل نذرآتش کر دیے۔ کھندرو کے رہنے والے عبدالصمد نے اننت ناگ نے بتایا: ’مقامی لوگ مدد کر رہے ہیں اور کچھ این جی اوز ہیں۔ حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔‘
عبدالصمد اپنے تین منزلہ مکان کو مال و اسباب سمیت چھوڑ کر اپنے کنبہ کے گیارہ افراد سمیت کھلے میدان میں پناہ گزیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میری بیٹیوں کی شادی کیسے ہوگی؟‘

کھندرو کے ہی جاوید احمد ڈار نے بتایا کہ کھندرو اور ملحقہ دیہات میں متعدد شادیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جاوید کا کہنا تھا کہ بند بوتل منرل واٹر بنانے والی ایک کمپنی کا پانی کا انتظام تو کیا ہے لیکن پاخانہ اور نہانے دھونے کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھوٹنے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے ایکشن ایڈ کے سربراہ نے بتایا کہ ان کے دو کیمپ اسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ حکومت نے وسائل مہیا نہ کیے تو وہ بے بس ہوجائیں گے۔
فوج کی شمالی کمان کے سربراہ جنرل پناگ کے مطابق کھندرو کا اسلحہ خانہ 1948میں قائم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دو سو پچیس مربع کلومیٹر رقبہ کو کلیئر کرنے کی ضررت ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ فوجی جنرل کے اعلان سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ پورا علاقہ بارود کے کھیت میں تبدیل ہوگیا ہے۔

شعلوں میں گرفتار اسلحہ خانہ سے صرف سو گز کی دوری پر کھندرو کے ایک معزز رہائشی ایڈووکیٹ عبدالمجید میر دیگر لوگوں کو دلاسا دینے میں مصروف تھے۔ مسٹر میر نے بی بی سی کو بتایا کہ کھندرو دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان کئی دیہات پر مشتمل ایک چھوٹی وادی کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اسلحہ خانے کے دو کلومیٹر اردگرد خار دار تار ہے اور اس کے آٹھ کلومیٹر والی پٹی میں بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہے جو پچھلے سترہ سالہ عرصہ میں متعدد افراد کی جان لے چکا ہے۔‘

مسٹر میر نے مزید بتایا کہ صرف پچھلے چار سال میں دو خواتین اور تین نوجوان جنگلی خطے سے گزرنے کے دوران بارودی سرنگ پھٹنے سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی سال اس اسلحہ ڈپو اور اس کے ساتھ واقع فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کی منتقلی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ایڈووکیٹ میر نے بتایا کہ ’لوگ اب اس قدر تنگ آچکے تھے کہ وہ یہاں سے منتقل ہونے کے لئے بھی آمادہ تھے، اس سلسلے میں فوج نے کہا بھی تھا کہ وہ متبادل جگہوں پر زمینین خریدنے کا معاوضہ دے گی لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہمیں اس طرح بے گھر ہونا پڑے گا۔‘
کھندرو، اترسو، سومبرن اور دیگر دیہاتوں کے جنگلی علاقوں میں بارودی سرنگوں کے جال سے بھی علاقے میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اسلحہ خانہ میں آگ لگنے سے پندرہ کلومیٹر دور واقع جنگلی علاقوں میں بارودی دھماکے ہوئے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے پندرہ کلومیٹر حصار میں بارودی سرنگوں کا جال ہے۔ اس صورتحال کو نہایت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ معروف وکیل اور سماجی رضاکار ریاض خاور نے بتایا کہ ’اس انسانی مسئلہ کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 381
Reply With Quote
پرانا 16-09-07, 11:44 AM   #2
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 725
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 168 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نائیس انفارمیشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
ایم اے راجا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
لوگ, منتقلی, معلوم, آپریشن, خواتین, خلاف, صورتحال, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کھیت میں کھجور کا درخت بھائی گپ شپ 4 18-02-11 08:00 AM
چاول کا کھیت ہے یہ ہاں جی ہاں بھائی گپ شپ 4 28-09-09 11:31 AM
کیا یہ چاول کا کھیت ہے؟ بھائی گپ شپ 24 30-11-08 05:13 PM
یہ کس چیز کا کھیت ہے؟ بھائی گپ شپ 15 31-10-08 09:07 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger