|
کھوسہ نے حلف اٹھا لیا وزیر اعلیٰ ہائوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کااعلان

12-04-08, 03:44 PM
دوست محمد کھوسہ نے حلف اٹھا لیا، وزیر اعلیٰ ہائوس کو آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان
لاہور ۔۔۔۔۔ مسلم لیگ ن کے دوست محمد کھوسہ بلامقابلہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ہیں جبکہ انہوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے، گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول نے ان سے حلف لیا، نئے وزیر اعلیٰ نے 263 ووٹ حاصل کئے جبکہ ایوان میں اپنے پہلے خطاب میں نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ حکمران نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں اور خادم بن کر عوام کی خدمت کریں گے، 2 نومبر والی عدلیہ جلد بحال ہو جائے گی، آٹے کے بحران کی ذمہ دار عبوری حکومت ہے، بحران پر جلد قابو پا لیا جائے، کسی کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتے بلکہ ملک و قوم کی بہتری کےلئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دوست محمد کھوسہ بلامقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں اورانہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ ان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر راجہ فیاض احمد نے صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ گو رنر پنجاب خالد مقبول نے ان سے حلف لیا۔ دوست محمد کھوسہ نے 263 ووٹ حاصل کئے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو سپیکر رانا اقبال کی زیر صدارت شروع ہوا۔ سیکرٹری نے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے طریقہ کار کا اعلان کیا۔ جس کے بعد قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آیا۔ مسلم لیگ ن کے دوست محمد کھوسہ کو ایوان میں 263 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اجلاس سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ حکمران نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں اور خادم بن کر عوام کی خدمت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے دروازے امیر ہو یا غریب ،عام ہو یا خاص سب کیلئے کھلے ہیں۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام نے سابقہ حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کی تھیں لیکن وہ عوامی توقعات پر پوری نہیں اتریں کیونکہ وہ جمہوری حکومتیں نہیں تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ترجیحات اور پارٹی پالیسیوں میں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم کے شعبے میں بہتری، صحت کے شعبے میں بہتری اور لاقانونیت کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نیا اتحاد ان حالات کو بہتر انداز میں تبدیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم 8 سالوں سے آمریت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیںجبکہ جب تک وطن عزیز سے آمریت کا سایہ نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت عدلیہ کی بحالی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور جلد ہی 2 نومبر والی عدلیہ بحال ہو جائے گی۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے ہم چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری کےلئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سابق حکمرانوں کی طرح اپنی خواہشات پوری کرنے نہیں آئے بلکہ عوامی امنگوں کو پورا کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جو بحران سابقہ حکمرانوں سے ورثے میں ملے ہیں ان کو حل کرنے کےلئے دن رات محنت کر یں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا پیسہ کسی کی ذات کا پیسہ نہیں ہوتا بلکہ وہ عوام کی خون پسینے کی دولت ہوتی ہے اور جو بھی شخص اس کو اپنی خواہشات کےلئے استعمال کرے گا ان سے پردہ اٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو دو وقت کی روٹی نہیں مل رہی جبکہ حکمرانوں نے اپنے لئے محلات تعمیر کئے ہیں اربوں کی گاڑیاں خریدی گئی ہیں اس کےلئے عوام کو ساری حقیقت کا پتہ چلنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی طرف سے لوٹی گئی دولت کی ہم نشاندہی کریں گے اور متعلقہ ادارے فوری اقدامات اٹھا کر کارروائیاں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے کا بحران آج کا نہیں بلکہ یہ عبوری حکومت سے چلا آ رہا ہے جس کی ذ مہ دار سابقہ حکومت اور عبوری حکومت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جلد اس بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران دوست محمد کھوسہ نے کروڑوں روپے سے تعمیر کئے گئے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو 17.5 کنال اراضی پر تعمیر کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 51 کروڑ 18 لاکھ روپے کی ان وی وی آئی پی گاڑیوں کی خریدو فروخت پر خرچ کئے گئے۔ 48 کروڑ 94 لاکھ سے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں۔ 137 گاڑیاں سی ایم سیکرٹریٹ میں اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کا دور حکومت ختم ہونے کے چار پانچ مہینے بعد اب تک ایک بلٹ پروف گاڑی آج بھی ان کے قبضے میں ہے ۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی زمین کی قیمت 33 کروڑ 75 لاکھ ہے اندازاً عمارت کی تعمیر پر 35 کروڑ 30 لاکھ روپے جبکہ 11 کروڑ 90 لاکھ کو اس کی تزئین و آرائش پر خرچ کیا گیا ہے جبکہ 51 کروڑ 20 لاکھ روپے صرف سی ایم کی گاڑیوں پر استعمال کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف اور ہمارے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے اس عمارت کو آئی ٹی یونیورسٹی فار وومین بنانے کا فیصلہ کیا تھا جس کا میں اب آئی ٹی یونیورسٹی فار وومین بنانے کا اعلان کرتا ہوں اس سلسلے میں ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جو بہت جلد کام شروع کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج تک میں نے کبھی تاریخ میں نہیں سنا کہ وزیر اعلیٰ کو سکریٹ فنڈ کی ضرورت پڑی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مزے کی بات یہ ہے کہ پچھلے پانچ سال سے پنجاب میں سی ایم کےلئے ایک سکریٹ فنڈ چل رہا تھا جس کی سالانہ پوزیشن 10 کروڑ تھی جس کا کوئی آڈٹ یا ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیسہ کس کو دیا گیا کس کےلئے دیا گیا کن خدمات کےلئے دیا گیا اس کا نہ کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی کسی کو پتہ ہے ماسوائے سابق وزیر اعلیٰ اور ان کے ایک دو قریبی عملے والوں کے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکریٹ فنڈ میں 50 کروڑ روپیہ تقریباً پانچ سال کا بنتا ہے جس میں سے 47 کروڑ روپیہ خرچ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکمران اپنی کن کن زیادتیوں کو چھپائیں گے جب آپ میڈیا والے بھی عمارت کے اندر جائیں تو آپ حیران ہو جائیں گے۔ بلٹ پروف گاڑیوں کی قطاروں کو وہ کیسے جھٹلائیںگے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام گاڑیوں کو ماسوائے ان کے جو وزیر اعلیٰ یا اس کے عملے کے استعمال میں عام روٹین میں ہوتی ہیں تمام کو نیلام کر دیا جائے گا اور ان پیسوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کےلئے استعمال کریں گے تاکہ عوام کو ٹرانسپورٹیشن کے دوران درپیش ہونے والے مسائل کم ہو سکیں۔ (س)
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|