حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل،مختلف شعبوںمیںسبسڈی اورٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی یقین دہانی
اسلام آباد (اظہر سید/خبرنگارخصوصی) پاکستان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ تمام شرائط پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تجویز پیش کرے کہ نومبر دسمبر اور جنوری کے دوران بجلی کی قیمتوں میں 6 فیصد اضافہ سیاسی مشکلات کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔ تاہم ان تین ماہ کیلئے دو فیصد اضافہ کیا جائے گا جبکہ 4فیصد ریونیو لاس کو لائن لاسز کم کر کے پورا کیا جائے گا۔ گزشتہ روز 11.3 ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی پروگرام کی بحالی کیلئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت مکمل ہو گئی ہے۔ وزارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی اجناس کی خریداری میں حکومتی عمل دخل محدود کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے جبکہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے حکومت نے ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مزید اختیارات دینے، ٹیکسوں کے دائرئہ کار میں توسیع، انکم ٹیکس سیلز ٹیکس اور کسٹم کے متعدد شعبوں میں ٹیکسوں کی چھوٹ کو ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بجٹ خسارہ 4.7 فیصد سے بڑھا کر 5.3 فیصد کرنے پر بھی تفصیلی بات ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹاف مشن کی رپورٹ پر آئی ایم ایف جائزہ مشن پاکستان کا دورہ کرے گا اور پاکستان کو واضح یقین دہانیوں کی وجہ سے فنڈ کی طرف سے لیٹر آف کمفرٹ جاری کئے جانے کے امکانات موجود ہیں جس کے بعد پاکستان عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بجٹ سپورٹ کیلئے فنڈز حاصل کر سکے گا۔