گلبدین حکمت یار کا یہ انٹرویو ملاحظہ فرمائیے۔
GEO TV
ان کا اپنا اعتراف ہے کہ یہ خود، اور ایران نہیںچاہتے کہ وسطی ایشیا کے تیل کی پائپ لائین کسی طور سے پاکستان سے گذرے یا پاکستان کسی بھی طور اس تیل سے فائیدہ اٹھائے۔
پڑھئیے اور سر دھنئیے۔
کہاں آپ ہیںکہ بین الاسلامی اتحاد کے لئے مرے جاتے ہیں اور کہاں یہ ہیںکہ صرف اپنا فائیدہ دیکھتے ہیں۔ یہی حال عربوں کا ہے وہ عرب پہلے اور مسلمان بعد میں ہیں، ایرانی، ایرانی پہلے اور مسلمان بعد میں۔ ایرانیوں اور افغانیوں کی تو تاریخ بھری پڑی ہے ، پاکستان اور قبل از پاکستان کے عوام کے قتل سے۔ یہ وہ اقوام ہیں جو پاکستان اور اس کے عوام کو شدید حقارت سے دیکھتے ہیں۔
میری اللہ تعالی سے دعا ہے کے شوری کی بنیاد پر جمہوری نظام ایران و افغانستان دونوں کا مقدر کردے تاکہ ان ممالک کے عوام چین کا سانس لے سکیں اور ملاء ، آیت اللہ سپریم کونسل سے نجات حاصل کرسکیں۔
گلبدیں حکمت یار فرماتے ہیں کہ "القاعدہ کا ایٹم بم وہ خود کش حملے ہیں ۔۔۔"
حقیقت یہ ہے کہ آج کل القاعدہ نے یہ ایٹم بم پاکستان پر دے مارا ہے۔۔۔۔
ہوئے یہ یار جن کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو ؟
بغور پڑھئیے۔ سارا انٹرویو بھرا پڑا ہے معلومات سے۔