|
گلوبلائزیشن اور ہم ,,,,ملاقات…غضنفر ہاشمی

29-10-07, 10:29 AM
علامتی جنازے اٹھائے ہوئے ان لوگوں نے ماتمی لباس پہن رکھا تھا اور زنجیروں سے لپٹے ہوئے صلیبوں کے ذریعے احتجاج کررہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھے جن پر لکھا تھا۔ ”عالمی بینک کے ڈاکوؤں کو خوش آمدید“ ، ”سرمایہ داری انسان کے خلاف اور انسان سرمائے کے خلاف ہے“۔ ”بڑی طاقتیں غریب ممالک کے لئے پالیسیاں بنانا بند کردیں“۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج ہوتا ہے۔ آنسو گیس کا استعمال کیا جاتا ہے لوگ مشتعل ہوکر پولیس پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔ دکانوں کے شیشے ٹوتے ہیں۔ لوگ زخمی ہوتے ہیں اور ایمبولینس حرکت میں آجاتی ہیں۔ یہ منظر کہیں اور نہیں بلکہ امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن کا ہے جہاں گزشتہ دنوں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس منعقد ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے اور احتجاج کرنے والے یہ مظاہرین کوئی اور نہیں بلکہ امریکا کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے جو گلوبلائزیشن، عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔ ان کا ایک ہی مطالبہ اور نعرہ تھا کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف غریب ممالک کا استحصال بند کردیں۔ ان کے قرضے معاف کردیں اور بڑی طاقتیں غریب ممالک کے لئے پالیسیاں بنانا بند کردیں۔ دنیا یہ نظارہ ہر سال یا شاید سال میں کئی دفعہ اس وقت دیکھتی ہے جب ایسے اجلاس بند کمروں میں منعقد ہوتے ہیں۔ یہ مظاہرے لندن، برلن، پیرس، جنیوا، سیاٹل، ڈیووس، مالے اور واشنگٹن میں پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ جون میں جرمنی میں ہونے والی جی ایٹ کانفرنس اور کراچی میں ہونے والے ورلڈ سوشل فورم کے اجلاس کے دوران بھی اسی قسم کے مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ ان مظاہروں نے ثابت کیا ہے کہ نہ صرف غریب ملکوں کے لوگ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ بھی عالمی مالیاتی اداروں اور اپنے ممالک کی سامراجی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ ان مظاہروں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ان اداروں کی پالیسیاں دنیا میں غربت میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔ انہی پالیسیوں کی بدولت قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ملکوں میں انیس ہزار (19000) بچے روزانہ مر رہے ہیں اور قرضوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ انہی مالیاتی اداروں نے خاص طور پر جنوبی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کو قرضوں کی گھمن گھیریوں میں ڈال کر ان کے وسائل پر قبضہ کرلیا ہے۔ ہیرے ، جواہرات، تیل اور دوسری قیمتی معدنیات جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال دنیا کے ان خطوں کے اندر تمام وسائل ان ممالک کی بڑی بڑی کمپنیوں کے قبضے میں ہیں۔ غریب سے غریب تر ہوتے ممالک کی معیشت، قرضوں اور سود کی ادائیگی میں کھوکھلی ہوچکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک دنیا کی آدھی آبادی کی قوت خرید دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ جی ایٹ ممالک نے صنعتی پیداوار کے ذریعے دنیا بھر کی دولت کے بڑے حصے کو اپنے پاس جمع کرلیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی نصف آبادی اور غریب ممالک کی تقریباً ساری آبادی اس وقت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ 40فیصد آبادی کے پاس صحت اور تعلیم کی سہولیات نہیں ہیں۔ 37 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اور 45 فیصد آبادی چھت کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ لیکن ان مالیاتی اداروں کے قرضوں، اقوام متحدہ کے امدادی اداروں اور فلاحی اداروں کے ہوتے ہوئے غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ لوگوں میں یہ شعور بیدار ہوگیا ہے کہ اقتدار پر قابض طبقہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل پر قبضہ کرکے اپنے معاشرے کو خوشحال بنانے اور ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کو تحفظ دینے میں مصروف ہے۔ یہ نظام وہی عفریت ہے جس کے خلاف 77گروپ کا وجود عمل میں آیا ہے۔ اس گروپ کا بنیادی نعرہ بھی یہ تھا کہ عالمی تجارت کو گنتی کے چند ترقی یافتہ ممالک کی اجارہ داریوں سے نجات دلاکر منصفانہ بنایا جائے۔ عالمی تجارت میں ترقی پذیر ممالک کو ان کا جائز حق دیا جائے۔ اور جدید ٹیکنالوجی اور سرمائے کی تیسری دنیا کو آزادانہ منتقلی کی جائے۔ یہی وہ نظام ہے جس نے آج پاکستان سمیت تیسری دنیا کے غریب ممالک کی معیشت کو اس قدر دیوالیہ کردیا ہے کہ اب اس میں سے نچوڑے کیلئے ایک قطرہ بھی نہیں بچا۔ ان ممالک کی حکومتوں نے بجٹوں کے خسارے کم کرنے اور سود کی اقساط ادا کرنے کے لئے اپنے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے ۔ ہم جیسے ممالک کی اقتصادی پالیسیاں اب ان اداروں کے ہاتھ میں ہیں اور ان کی ڈکٹیشن کے بغیر یہاں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اپنے استحصالی ایجنڈے اور عوام دشمن پالیسیوں کی بدولت ان اداروں کا اصل ہدف غریب ملکوں کو اپنے شکنجے میں رکھ کر وہاں اپنی مرضی کا نظام لانا اور عوام کی سوچ پر قابض ہونا ہے۔ یہ ادارے ایک حکمت عملی کے تحت ہر ملک میں اپنے نمائندے بھیجتے ہیں۔ انہیں وہاں پرکشش تنخواہوں پر نوکریاں دلواتے ہیں۔ یہ لوگ ایڈوائزر اورکنسلٹنٹ کے روپ میں امداد، گرانٹ، قرضوں اور مختلف ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کے لئے ایسی ایسی پالیسیاں اور سفارشات مرتب کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ غریب ممالک اپنا سب کچھ ان کے حوالے کردیتے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیاں ان ممالک کے قدرتی وسائل اور دوسرے اہم منصوبوں کو اپنے قبضے میں لے کر ان کا پیسہ باہر منتقل کردیتے ہیں۔ ستم کی بات یہ ہے کہ اس نئے اقتصادی استعمار کو آزاد معیشت ، کھلی تجارت اور محاذ آرائی سے پاک نئے عالمی نظام جیسا خوبصورت نام دیا گیا ہے۔ یہی حال گلوبلائزیشن کے پرکشش نعرے کا ہے جس سے دنیا کے ایک ہونے اور قوموں کے درمیان مساوات کا تاثر ابھرتا ہے مگر عملی طور پر یہ قوموں کے درمیان مساوات پیدا کرنے کا نسخہ نہیں بلکہ دنیا بھر کی تجارت پر گنتی کی ترقی یافتہ اقوام کی مکمل اجارہ داری قائم کرنے کا ہتھکنڈہ ہے۔ اسی لئے اس کی مزاحمت عالمی سطح پر بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کی مالیت اس وقت 38 سے 42ارب ڈالر تک جاپہنچی ہے اور ان کے اصل زر اور سود کی ادائیگی کا بوجھ اور بجٹ کا خسارہ ہر سال بڑھ رہا ہے۔ اور غریب آدمی کی زندگی ٹیکسوں ، مہنگائی اور آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتوں کی بدولت اجیرن ہوگئی ہے۔ یہاں بیٹھے ہوئے ان اداروں کے نمائندے ہماری معیشت کو جس انجام تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اس کے بارے میں سوچ کر ہی خوف محسوس ہونے لگ جاتا ہے۔ دعوؤں کے مطابق تو ہم نے کشکول توڑ دیا ہے لیکن دراصل یہ بڑا ہوتا جارہا ہے۔ اور یوں لگتا ہے جیسے اب کسی بھی حکومت کے بس میں نہیں رہا کہ و ہ قوم کو ان مالیاتی اداروں کے چنگل سے نجات دلاسکے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر یہ قرضے کہاں استعمال ہورہے ہیں۔ صرف حکومتی اخراجات، عیاشیوں اور چند فیصد طبقے کی مراعات میں اضافے کے لئے ہی ان کو استعمال ہونا ہے اور عام آدمی کی زندگی کو لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف ہی دھکیلنا ہے تو ہمارے سیاستدانوں، زعماء، دانشوروں اور ماہر معاشیات کو یہ سوچنا پڑے گا کہ اب نہیں تو پھر کونسا ایسا وقت آئے گا جب اس شکنجے کو توڑنے کے لئے کوئی لائحہ عمل بنے گا۔ اجتماعی شعور کو بدلا جائے گا۔ سول سوسائٹی اور دوسرے طبقے متفق ہوسکیں۔ صرف اقتدار کو ہی منزل و مقصد بناکر عوام کے دل نہیں جیتے جاسکتے۔ انہیں اب یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔ اب عوام طبقہ اشرافیہ کی اقتدار کی جنگ میں ایندھن بننے کیلئے تیارنہیں ہیں۔ غیر ملکی ایجنسیوں سے مالی امداد حاصل کرکے چلنے والی غیر سرکاری تنظیمیں اگر اس استحصالی اور سود خور نظام کے خلاف مظاہرے کرسکتی ہیں تو سیاسی اور مذہبی جماعتیں کیوں نہیں؟ کب تک خوشحالی کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی، کچھ پتہ نہیں اور اگر کسی وقت یہ ثابت ہوجائے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی ان اداروں کے استحصالی ایجنڈے کی محافظ اور مددگار ہیں تو کیسا محسوس ہوگا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|