بیشتر دنیا خلیج گوانٹانامو جیل کیمپ کو بند کرنے کے بارے میں صدر بارک اوباما کے فیصلے کا خیر مقدم کررہی ہے۔ لیکن عالمی ردّ عمل میں اُن مشکل مسائل سے آگاہی کا اشارہ بھی ملتا ہے، جن کا تعلق اس بدنام کیمپ کو بند کردینے سے ہے۔
یورپ کے ایسے کئى ملکوں میں، جو برسوں سے اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کررہے تھے، اب اس بارے میں بحث جاری ہے کہ رہائى کے بعد اُس جیل کے قیدیوں کو قبول کیا جائے یا نہیں۔ اس لیے کہ اس سلسلے میں جو بھی فیصلے ہوں گے، سیاسی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے اُن کے سنگین مُضمرات ہوں گے۔
افغانستان میں، جہاں اس جیل کے بہت سے قیدیوں کو پکڑا گیا تھا، صدر حامد کرزئى نے کہا ہے کہ گوانٹانامو کو بند کردینے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا زیادہ آسان ہوجائے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ جیل کو بند کرنا صحیح سمت میں قدم ہے۔ لیکن انہوں نے نئى انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اسی سلسلے میں مزید اقدامات کرے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس اقدام نے باقی دنیا کو یہ اہم پیغام دیا ہے کہ امریکہ اپنی تاریخ کے ایک تاریک باب کو بند کررہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی عہدے دار جینیفر ڈیسکل نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کی عالمی علامت کو بند کردینے سے دہشت گرد، لوگوں کو بھرتی کرنے کے ایک طاقتور وسیلے سے محروم ہوجائیں گے۔
سعودی عرب میں اُن خاندانوں نے جن کے ارکان ابھی تک گوانٹانامو جیل میں ہیں، اپنے رشتے داروں سے دوبارہ مل جانے کی اُمید کے ساتھ اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن گوانٹانا مو کے کئى سابق قیدیوں نے کہا ہے کہ اسے بند کرنے کا فیصلہ بہت دیر سے کیا گیا۔