بھارت میں گجرات کی ایک خصوصی عدالت نے گودھرا میں ٹرین جلانے کے واقعے میں گیارہ قصورواروں کو سزائے موت جبکہ دیگر بیس کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔
دفاع کے وکیل آئی ایم منشی نے کہا ہے کہ عدالت کا فیصلہ نامناسب ہے اور وہ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔
سرکاری وکیل راجندر تیواری نے سزاؤں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ عدالت نے سبھی قصورواروں کو 23 مختلف دفعات کے تحت سزائیں دی ہیں۔
فروری 2002 میں گودھرا میں ٹرین جلائے جانے کے اس بہیمانہ واقعے میں 59 افراد ہلاک ہو ئے تھے۔
احمدآباد کی سابرمتی جیل میں واقع اس خصوصی عدالت نے 22 فروری کو 63 ملزموں کو بے قصور قرار دیا تھا۔ یہ سبھی آٹھ برس سے زیادہ عرصے سے جیل میں تھے۔ اس فیصلے میں عدالت نے سازش کی تھیوری کے لیے پولیس کی پہلی سٹوری مسترد کر دی تھی اور دوسری مان لی۔ کئی گواہوں کے بیانات بہت بعد میں لیےگئے ہیں جس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
دفاعی وکیل
استغاثہ نے سبھی 31 قصورواروں کو سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے صرف انہیں قصورواروں کوموت کی سزا سنائی جنہوں نے حملے کی سازش میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
موت کی سزا پانے والوں میں عبدالرزاق محمد کر کر کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے جو ایک گیسٹ ہاؤس کے مالک ہیں جہاں پولیس کے مطابق ٹرین پر حملے کی سازش تیار کی گئی تھی۔
موت کی سزا پانے والے دیگر قصورواروں میں بلال اسماعیل، عبد الماجد سوجیلا عرف بلال حاجی، رمضانی بنیامین بیہرا، جابر بامین بیہرا، حسن احمد چرخا، محبوب خالد چاندا، سلمان یوسف ستار زردہ، سراج محمد، عرفان عبدالماجد گانچی قلندر، عرفان محمد حنیف عبد الغنی پٹالیا اور محبوب احمد یوسف حسن شامل ہیں۔
وکیل صفائی آئی ایم منشی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ خصوصی جج پی آر پٹیل نے قصورواروں کی سزاؤوں کا انفرادی طور پر اعلان کیا ہے۔
جس وقت سزا سنائی گئی اس وقت بیشتر قصوروار رو رہے تھے۔
مسٹر منشی نے کہا کہ وہ فیصلے کی تفصیل ملنے کے بعد اس کے خلاف ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ بالکل نامناسب ہے۔ ’اس فیصلے میں عدالت نے سازش کی تھیوری کے لیے پولیس کی پہلی سٹوری مسترد کر دی تھی اور دوسری مان لی۔ کئی گواہوں کے بیانات بہت بعد میں لیےگئے ہیں جس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔‘
وکیل دفاع نے عدالت میں یہ دلیل دی تھی کہ گودھرا میں ٹرین کا ایک ڈبہ جلانے کامعاملہ کسی سازش کا نہیں بلکہ حادثاتی تھا۔ عدالت نے یہ دلیل مسترد کر دی اور اسے ایک باضابطہ سازش تسلیم کیا ہے جو استغاثہ کے مطابق واقعے سے ایک روز پہلے تیار کی گئی تھی ۔
گودھرا کا کیس گجرات فسادات کے ان نو اہم معاملوں میں سے ایک ہے جن کی تفتیش اور سماعت سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔
خبر اور ویڈیو