جوڈیشل مجسٹریٹ نے عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پیش کرنے پر ممتاز قادری کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ دیا
ملزم کو آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم‘ سو سے زیادہ وکلاء کا ملزم کی قانونی امداد کا عزم
اسلام آباد (ایوب ناصر‘ خصوصی نامہ نگار) گورنر پنجاب سلمان تاثیرکے قتل کے الزام میں گرفتار پولیس کانسٹیبل ملک ممتاز قادری کاایک روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا ہے۔ کوہسارپولیس نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک نعیم شوکت کی عدالت میں پیش کرکے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا۔ فاضل عدالت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے مقدمہ قتل کی ایف آئی آر کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کوانسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ پولیس نے ملزم کو چونکہ عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد پیش کیاتھا۔ جس پرعدالت نے ملزم کا صرف ایک روزہ راہداری ریمانڈ دیا اور ملزم کو جمعرات کو انسداددہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیا۔ کوہسار پولیس نے گورنر پنجاب کے صاحبزادے شہریار علی تاثیر کی رپورٹ پر زیر دفعہ 109,302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت مقدمہ درج کیاہے۔ مدعی مقدمہ نے اپنے والد کے قتل کے الزام میں کانسٹیبل ملک محمد ممتاز قادری کو نامزد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے والد امتناع توہین رسالت کے قانون پر مخصوص مﺅقف رکھتے تھے جس کی وجہ سے بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں ان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کررہی تھیںجو ان کی موت کاموجب بنا ملزم ملک ممتاز قادری کو جسمانی ریمانڈ کیلئے ضلع کچہری لایاگیا تو وکلاءکی ایک بڑی تعداد نے ملزم کا والہانہ استقبال کیا۔ درودوسلام اور نعتیں پڑھتے ہوئے اس پرپھول نچھاور اور پھولوںکی مالا پہنائی ملزم کی قانونی امداد کا عزم رکھنے والوں میں ڈسٹرکٹ بار کے صدارتی امیدوار شعیب شاہین مسلم لیگ(ن) کے فضل الرحمن نیازی‘ حافظ خضر حیات‘ سابق صدر ڈسٹرکٹ بارچوہدری اشرف گجر‘ رانا اشتیاق‘ جاوید سلیم سورش‘ آغا سعید فیصل اور حافظ فرقان سمیت 100 سے زائد وکلاء موجود تھے جن کا خیال تھا کہ ملزم نے نبی آخر الزمان کی شان میں گستاخی کے مرتکب گورنر کو مذہبی عقیدت کی وجہ سے قتل کیا ہے وہ مجرم نہیں بلکہ اسلام کاہیرو ہے۔