South Asian News Agency (SANA) ⋅ September 13, 2011 ⋅
تہران(ثناء نیوز ) پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارتی حجم ڈیڑھ ارب ڈالر سے بڑھا کر دس ارب ڈالر کرنے اور مواصلات اورتوانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے یہ اتفاق رائے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ ملاقات میں کیاگیا ملاقات میں دونوں ملکوں نے تجارت کے فروغ اور سلامتی سے متعلق امور کا جائزہ لینے کیلئے پاکستان اور ایران کے تجارت اور داخلہ کے وزراء پر مشتمل دو الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کمیٹیوں کے اجلاس تواتر سے ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے اورایران سے ہزار میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کے منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ۔ وزیراعظم گیلانی نے کہاکہ ہم ہمسایہ ملکوں خصوصاً ایران کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ ان کی حکومت کی اہم ترجیح ہے انہوں نے سندھ میں شدید بارشوں کے متاثرین کیلئے ایران کی جانب سے دس کروڑ ڈالر امداد کی فراہمی پر ایرانی صدر کا شکریہ ادا کیا خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کیلئے افغانوں پر مشتمل امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں اپنے وسائل اور توانائیاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے یکجا کرنی چاہیں ایرانی صدر نے کہاکہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے انہوں نے کہاکہ علاقائی امن واستحکام میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے صدر محمود احمدی نژاد نے وزیراعظم گیلانی کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت دئیے جانے کے رد عمل میں کہاکہ وہ اپنے پاکستانی بہن بھائیوں سے ضرور ملاقات کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان ایران اور افغانستان علاقائی امن واستحکام کے لئے مشترکہ کوششیں کریں تو کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اس قبل پاکستان اور ایران نے گیس پائپ لائن اور ایران سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی کی درآمد کے منصوبوں پر کام تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے دونوں ممالک نے بزدہان اور ایران کے شہر گیلان کو جڑواں شہر قرار دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات بڑھانے کے لیے مذاکرات تہران میں ہوئے۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی وفد جبکہ ایران کے اول نائب صدر محمد رضا رحیمی نے ایرانی وفد کی قیادت کی مذاکرات میں ایران نے اس عزم کااظہار کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ایران اپنی تجارتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان سے سبزیوں اور پھلوں کی درآمد کو ترجیح دے گا۔ اپنے ابتدائی کلمات میں وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں وزراء داخلہ سیکورٹی کے معاملے میں مسلسل رابطے میں رہیں گے۔وزیر اعظم نے ایران کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے 10 کروڑ ڈالر کی فراہمی پرشکریہ ادا کیا ۔ایرانی اول نائب صدر نے کہا کہ ان کا ملک علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم گیلانی کا دورہ ایران انتہائی اہم ہے اور اس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت ملے گی۔تہران میں وزیراعظم گیلانی اور ایران کے اول نائب صدر محمد رضا رحیمی کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں اقتصادی شعبوں میںتعاون اور دو طرفہ تعلقات بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا اس سے پہلے وزیر اعظم گیلانی کے اعزاز میں تہران میں ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب بھی منعقد کی گئی تینوں مسلح افواج کے دستوں نے وزیراعظم کو سلامی دی وزیر اعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی تہران کے ایوان مجلس میں مجلس شوریٰ کے سپیکر لاری جانی سے بھی ملاقات ہوئی ،ملاقات میں پارلیمانی وفود کے تبادلے اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا مجلس شوریٰ کے سپیکر نے وزیر اعظم گیلانی کو ایرانی پارلیمنٹ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہ کیا
SANA (South Asian News Agancy) | گیلانی ، احمد نژاد ملاقات: تجارتی حجم بڑھا کر دس ارب ڈالر کرنے پر اتفاق