واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


گیٹ آؤٹ طالبان,,,,قلم کمان …حامد میر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-09-11, 02:16 PM   #1
گیٹ آؤٹ طالبان,,,,قلم کمان …حامد میر
رضی رضی آف لائن ہے 18-09-11, 02:16 PM

سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی محبوبہ کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ نو عمر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ حاضرین میں موجود کئی طلبہ نے اپنے والدین کی موجودگی کی پروا نہ کرتے ہوئے محو رقص طالبات کو چیخ چیخ کر داد دی۔
اس رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے نام پکارے جانے لگے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں۔ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی داڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ پھر دانیال کا نام پکارا گیا جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔ وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کیلئے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کیلئے نامزد کیا گیا لیکن اسے افسوس ہے کہ مذکورہ تقریب میں اسکول کی طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلبہ تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ حاضرین غصے میں پاگل ہو کر اس نوجوان کو انگریزی زبان میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بوائے کٹ بالوں والی ایک خاتون اپنی نشست سے کھڑی ہو کر زور زور سے چیخیں … ” گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان “۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دانیال کے مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے لیکن یہ ہڑبونگ وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورتحال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلا لیا اور خاتون نے اپنی گرجدار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا کیونکہ بانیٴ پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔ پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کہ بانیٴ پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان المبارک میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں شور بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلبہ و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اس سروے کے حتمی نتائج ابھی مرتب نہیں ہوئے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور طالبان دونوں سے نالاں ہے لیکن امریکہ کو بڑا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ سروے کے دوران بعض طلبہ نے ” خطرناک حد تک “ طالبان کی حمائت کی اور کہا کہ طالبان دراصل امریکہ اور پاکستان حکومت کے ظلم اور بمباری کا ردعمل ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ایسے طلبہ دس فیصد سے بھی کم تھے۔ اس سروے سے مغرب کو کم از کم یہ پتہ ضرور چل جائے گا کہ اسلام آباد کے انگریزی میڈیم اسکولوں میں طالبان کے دس فیصد حامی موجود ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ طالبان صرف دینی مدارس میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ وقت اور حالات انگریزی میڈیم طالبان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ذرا سوچئے ! ان دس فیصد میں سے ایک یا دو فیصد طلبہ وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں جو طالبان نے اختیار کر رکھا ہے تو ذمہ دار کون ہو گا؟ ذرا سوچئے ! پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے روز امریکی بمباری سے بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکت پر آپ اور میں بے چین ہو جاتے ہیں تو کیا ہمارے پندرہ سولہ سال کے بچے بے چین نہ ہوتے ہوں گے؟ امریکی میزائل حملوں نے نئی نسل میں یہ تاثر عام کیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا ہے اور پاکستان کی حکومت اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ تاثر امریکہ مخالف جذبات کو تیزی سے بھڑکا رہا ہے اور اگر حکومت صورت حال کو سنبھال نہ سکی تو بہت جلد پاکستان میں ایک ایسی امریکہ مخالف عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے جس کو نہ تو نئی حکومت روک سکے گی اور نہ ہی فوج روک سکے گی۔
ہماری حکومت کو تذبذب اور گومگو کی کیفیت سے نکلنا ہو گا۔ جب قبائلی علاقوں میں طالبان حکومت کی رِٹ تسلیم نہیں کرتے تو ہماری فوج ان پر ٹینک چڑھا دیتی ہے لیکن جب امریکی طیارے ہماری قومی خودمختاری کا مذاق اڑاتے ہیں تو ہم صرف چند بیانات پر اکتفا کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے ایک بیان دیا کہ امریکہ کو پاکستان پر مزید حملوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بیان پر انہوں نے خوب داد وصول کی۔ قوم کا خیال تھا کہ قبائلی علاقوں میں تعینات ایک لاکھ فوج امریکیوں کو دوبارہ پاکستان میں نہیں گھسنے دے گی لیکن اگلے ہی دن شمالی وزیرستان میں ایک اور حملہ ہو گیا جس میں ایک دفعہ پھر عورتیں اور بچے مارے گئے۔
اس حملے کے بعد ہمارے وزیراعظم صاحب نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں ہو سکتی۔ ایک ایٹمی طاقت کے وزیراعظم کا بیان پڑھ کر میرا سر شرم سے جھک گیا۔ آپ امریکہ سے نہیں لڑ سکتے تو نہ لڑیں لیکن کم از کم امریکی فوج کیلئے پاکستان کے راستے سے جانے والی سپلائی تو بند کر دیں۔ امریکی طیاروں کو پاکستان کے راستے سے ایندھن جاتا ہے اور یہ ایندھن پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ کی لڑائی اب طالبان اور القاعدہ کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ہے۔ پاکستانی ریاست نے امریکی دہشت گردی کے خلاف کمزوری دکھائی تو پاکستان کے بڑے شہروں میں شدت پسندی کی لہر ابھر سکتی ہے جو جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کر دے گی۔ نئی جمہوری حکومت امریکی دہشت گردی کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کرے، مشتعل جذبات نے عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی تو حکومت کے پاس کچھ نہ بچے گا اور ” گیٹ آؤٹ طالبان “ کہنے والے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں طالبان سے بچتے پھریں گے۔




حوالہ
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟

 
رضی's Avatar
رضی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 176
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (18-09-11), shafresha (19-09-11), فیصل ناصر (18-09-11), نیلم خان (19-09-11), نبیل خان (18-09-11), ابن آدم (19-09-11), احمد نذیر (18-09-11), شھزادباجوہ (19-09-11), عبدالقدوس (18-09-11), عدنان دانی (18-09-11)
پرانا 18-09-11, 04:24 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,508
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

طالبان اسلام کا عملاً نفاذ کرنے والے مسلمان ہیں اس لیے اسلام پسند لوگ انہیں پسند کرتے ہیں
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (18-09-11), نیلم خان (19-09-11), مرزا عامر (18-09-11), رضی (18-09-11), شھزادباجوہ (19-09-11)
پرانا 18-09-11, 05:03 PM   #3
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,189
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آج یہ کالم پڑھ کر مجھے یہ لگا کے "طالبان " ایک استعارہ بن گیا ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (19-09-11), نبیل خان (21-09-11), مرزا عامر (18-09-11), احمد نذیر (18-09-11), رضی (18-09-11), شھزادباجوہ (19-09-11)
پرانا 19-09-11, 01:11 AM   #4
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,132
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,593 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ رضی ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (21-09-11), خالد حسین (10-02-12), رضی (19-09-11)
جواب

Tags
search, کراچی, پاکستان, پاکستانی, پاگل, وزیراعظم, لوگ, چین, مکمل, مقابلہ, معلوم, معذرت, انگریزی زبان, انتظامیہ, امریکہ, احتجاج, اسلام, بچوں, تعلیم, خلاف, داڑھی, رمضان, راستہ, طالبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
fring.com کی مدد سے ساری دنیا‌میں 3G اور WiFi نیٹ ورک پر فلیٹ ریٹ فون کالز فاروق سرورخان موبائلز معلومات اور جائزہ 19 08-09-11 12:04 AM
پاک نیٹ کی نئی سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ کے لئے بیٹا ٹیسٹرز کی ضورت ہے زبیر خاص آفرز اور اعلانات 20 06-05-11 11:12 AM
انٹرنیٹ پر لوٹ سیل صرف 100 روپے میں جیپ لایٹ گھڑی اور بہت کچھ محمد کاشف حبیب ویب سائٹس کا جائزہ 10 25-08-10 05:04 AM
انٹرنیٹ کارڈ کے بغیر انٹرنیٹ استعمال کریں محسن بٹ Ask Experts ماہرین کی رائے 21 02-03-10 03:53 PM
انٹرنیٹ ایکسپلورر کے ایڈریس بار میں سے مخصوص یو آر ایل کو ڈیلیٹ کرنا! راجہ صاحب کمپیوٹر کی باتیں 1 18-04-08 04:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger